آجکل
مسلمانوں کی ایک تعداد ہے جو قرآن پاک سے اتنی دور ہے کے درست قرآن پاک نہیں پڑھنا
آتا ۔ ایسے حالات میں تفسیر کا مطالعہ جو کرتے ہوں گے ان کی تعداد بہت کم ہے ۔ تفسیر کے مطالعہ کی پہلے کے مقابلے میں آجکل
بہت ضرورت ہے ۔ قرآن پاک کا سمجھنا صرف عربی سمجھنے پر موقوف
نہیں ہے جو عام عربی سمجھنے والا بھی
آسانی سے نہیں سمجھ سکتا ہے صحابہ اکرام جو عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کو سمجھتے تھے ان کے بھی واقعات ملتے ہیں کے قرآن پاک کے معانی و مطلب
سمجھنے کے لیے حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے ۔
تفسیر کی تعریف : قرآن مجید کے وہ احوال بیان کرنا جو
عقل سے معلوم نہ ہو سکیں بلکہ ان میں نقل کی ضرورت ہو ۔ (تفسیر
صراط الجنان ، ، جلد 1 ، صفحہ 30 ) عنوان کے مطابق نہیں
حکم : قرآنِ مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کرنا حرام
ہے اور آپنے علم ومعرفت سے قرآن کی جائز تاویل بیان کرنا اہل علم کے لئے جائز اور
باعث ثواب ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان ، ،
جلد 1 ، صفحہ 30) ۔
(1)مطالعہ
تفسیر کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں :
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَترجمہ کنز
الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔ (پارہ 5 سورۃ النساء آیت 82 )
یہاں قرآن
پاک میں لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ قرآن پاک میں غور فکر کرنا عبادت ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان جلد 2 صفحہ 258 )
(2) قرآن
پاک کو سمجھنے کے لیے تفسیر کی ضرورت :حضرت اِیاس بن معاویہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں :جو لوگ قرآنِ مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی
مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے
پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں
معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور ا س کی
تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصدچراغ لے کر آیا تو
انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوآپڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں
کیا لکھا ہے ۔ ( تفسیر قرطبی، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن واہلہ، 1/ 41،
الجزء الاول، خُلاصہ ) ۔
Dawateislami