اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو انسانیت کی ہدآیت کے لیے نازل فرمایا ۔  یہ کتابِ ہدایت نہ صرف ایک ضابطۂ حیات ہے بلکہ روحانی ترقی کا سرچشمہ بھی ہے ۔ مگر قرآن کا حقیقی فہم اُسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب اسے تفسیر کے ساتھ سمجھا جائے ۔ تفسیر وہ علم ہے جو قرآن کے الفاظ، معانی، شانِ نزول، اور احکام کی وضاحت کرتا ہے ۔ اگر تفسیر کا مطالعہ نہ ہو تو بندہ قرآن کے الفاظ تو پڑھ لیتا ہے مگر ان کے معنی و مقصد سے محروم رہ جاتا ہے ۔

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا ۔ (النحل:44)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیمات بیانِ نبوی ﷺ کے ذریعے ہی مکمل طور پر سمجھی جا سکتی ہیں ۔ چنانچہ قرآن کا فہم رسول اللہ ﷺ کی وضاحت کے بغیر ممکن نہیں، اور یہی وضاحت علمِ تفسیر کا بنیادی مقصد ہے ۔

قرآن سیکھنے کا مطلب صرف حروفِ تلاوت جاننا نہیں، بلکہ اس کے معانی، احکام، اور مقاصد کو سمجھنا ہے ۔ یہ سمجھ تفسیر کے مطالعے سے ہی حاصل ہوتی ہے ۔ جو شخص تفسیر پڑھتا ہے، وہ قرآن کے روحانی و عملی پہلوؤں سے روشناس ہوتا ہے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالتا ہے ۔ مطالعۂ تفسیر سے بندے کا ایمان مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کو عقل و شعور کے ساتھ سمجھتا ہے ۔ تفسیر کا مطالعہ ہمیں غلط فہمیوں سے بچاتا ہے اور قرآن کے صحیح مفہوم تک پہنچاتا ہے ۔ یہی علم علماء و صالحین کو قرآن کے فہم میں ممتاز بناتا ہے ۔

ایک عام مسلمان کے لیے بھی ضروری ہے کہ کم از کم معتبر تفاسیر (مثلاً تفسیر صراط الجنان، تفسیر خزائن العرفان وغیرہ) سے قرآن کا مطالعہ کرے ۔ قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ عمل اور تدبر کے لیے نازل ہوا ہے ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن مجید کی آیات کا تفسیر کے ذریعے مطالعہ کرے،تاکہ وہ صرف پڑھنے والا نہیں بلکہ سمجھنے اور عمل کرنے والا مومن بن جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن فہمی اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ