قرآن کریم اللہ ربّ العزت کا وہ معجزاتی کلام ہے جو رہتی دنیا تک تمام انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے مگر یہ ایسا کلام جس میں ہر لفظ کے پیچھے حکمت ہے، جس میں ہر آیت کے اندر ایک جہان پوشیدہ ہے ۔  اللہ پاک سورہ نحل آیت نمبر 44 میں ارشاد فرماتا ہے ۔ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ ۔

ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا ۔

یاد رہے قرآن میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے لیکن قرآن میں غوروفکر کرنا اور احکامات وغیرہ بیان کرنا مفسرین کا ہی کام ہے ۔ لہذا ہم عوام کو کہ مستند صحیح العقیدہ علماء کی تفاسیر کا مطالعہ کریں ۔ اسی بناء پر مطالعۂ تفسیر کی اہمیت کو سمجھنا، اس کا ذوق پیدا کرنا اور اس سے استفادہ کرنا ہر مسلمان کی علمی و عملی ضرورت ہے ۔

قرآن میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی تو اس کے پیچھے ہمارے لیے دین و دنیا کے کے بہت فوائد موجود ہیں جیسے چند بیان کیے جاتے ہیں ۔

(1) خشیت الٰہی کا ذریعہ:مطالعہ تفسیر انسان کو دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری کا ذہن دیتی ہے نیز عذاب و وعید والی آیات کے معانی کا فہم دیتی ہے ان وجوہات کی بنا پر دل میں خشیت الٰہی اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اللہ تعالی تلاوت قرآن کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے ۔

ترجمہ کنزالعرفان: اس سے ان لوگوں کے بدن پر بال کھڑے ہوتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کی یاد کی طرف نرم پڑجاتے ہیں ۔ (پارہ 23 سورة الزمر آیت 23)

(2)عقائد کی درستگی کا ذریعہ:صحیح العقیدہ سنی علماء کی تفاسیر کے مطالعے سے درست عقائد کا علم ہوتا ہے ۔ اس کے متعلق ابو صالح مفتی محمد قاسم عطاری تفسیر صراط الجنان میں فرماتے ہیں ۔ دورِ جدید کے اُن نت نئے مُحققین سے بچنا ضروری ہے جو چودہ سو سال کے علماء ، فُقہاء،محدثین ومفسرین اور ساری امت کے فَہم کو غلط قرار دے کر قولاً یا عملاً یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ قرآن اگر سمجھا ہے تو ہم نے ہی سمجھا ہے ، پچھلی ساری امت جاہل ہی گزر گئی ہے ۔ یہ لوگ یقینا گمراہ ہیں ۔ (صراط الجنان جلد 2 ص 258،259)

لہذا مطالعہ تفسیر سے درست عقائد کا علم ہوتا ہے جیسے علم غیب مصطفیٰ، اختیارات مصطفیٰ، اور نورانیت مصطفیٰ ﷺ وغیرہ ۔

(3)احکام شریعت کی وضاحت کا ذریعہ:قرآن مجید شریعت کا اصل ماخذ ہے اور اس کی تفہیم کے بغیر کئی احکامات پر عمل بظاہر ممکن نہیں نظر آتا جیسے قرآن کریم میں نماز، روزہ ، زکوة ،حج ، نکاح ، طلاق وغیرہ کئی احکامات اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں ان کی تفصیل، اور شرائط و قیودات صرف تفسیر وسنت کے مطالعے سے ممکن ہےکیونکہ قرآنِ پاک اصل ہے اور حدیثِ پاک اس کا بیان ہے اور علماء کا اِستنباط ا س کی وضاحت ہے ۔

اللہ پاک سے دعا اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات پر درست انداز سے چلنے اور تفاسیر کا مطالعہ کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ