قرآن کریم کے معانی و مفاہیم کو سمجھنے کے لیے مطالعہ تفسیر ایک بہترین ذریعہ ہے  ۔ ذیل میں اس سے متعلق تفصیلات بیان کی جارہی ہیں ۔

(1)مطالعہ تفسیر کی ضرورت و حاجت:قرآنِ مجید کو سمجھنے، اس کی تعلیمات کو جاننے اور اس میں بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے پر دنیا و آخرت میں کامیابی کا دار و مدار ہے جو اللہ پاک کی توفیق سے ہی ممکن ہے ؛علومِ عربیہ کا ماہر ہوجائے اور قرآن سمجھنے کا دعویٰ کرنے لگے بلکہ یہ چیزیں اس کے لیے بنیادی علوم کا کام دینے والی ہیں؛ اصل علم، ہدایت اور عقل و دانائی جس کا مخزن قرآن ہے اور یہ علم صرف اور صرف توفیقِ الٰہی سے ہی حاصل ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کِرام فصاحت و بلاغت کے ماہر اور مادری زبان عربی ہونے کے باوجود قرآن سمجھنے کے لیے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتےتھے کیونکہ وہ بھی قرآن کی بہت سی باتیں از خود نہیں سمجھ پاتے تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سُوال کرتے تھے ۔ چنانچہ جب سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 187 (وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ (8 پ 2، البقرۃ: 187) ترجمہ کنز العرفان:”اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے فجر سے سفیدی(صبح) کا ڈورا سیاہی(رات) کے ڈورے سے ممتاز ہو جائے ۔ “ نازل ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان فرمایا گیا ہے تو صحابیِ رسول حضرت عَدِی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کالی اور سفید رسی اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ یہ سفید رسی کالی سے جدا ہوجائے گی! ظاہر ہے قرآنی آیت کی یہ مراد نہیں تھی جو انہوں نے سمجھی اور رسیاں جدا نہ ہوئیں؛ وہ صبح رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اور رات کی صورتِ حال بیان کی تو آپ نے اِرشاد فرمایا: یہاں خَیْطُ الْاَبْیَض یعنی سفید ڈورے سے دن کی سفیدی اورخَیْطُ الْاَسْوَدیعنی کالے ڈورے سے رات کی سیاہی مراد ہے ۔ (بخاری،،جلد1/صفحہ 632،کتاب الصوم حدیث:1916 ۔ )

وضاحت:یقیناً صحابۂ کِرام فہم و فراست اور عقل و دانائی میں ہم سے بہت بڑھ کر تھے جب ان حضرات کو قرآن سمجھنے کے لیے تفسیرِ قرآن کی ضرورت تھی تو ہم ان سے کئی گنا زیادہ تفسیرِ قرآن کے محتاج ہیں ۔

(2)مطالعہ تفسیر کے فوائد:ویسے تو تفسیر پڑھنے کے بہت سارے فوائد ہیں جن میں سے چند کا تذکرہ درج ذیل میں ہے ۔

(1)احکامِ شرعیہ کا ادراک: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے حلال و حرام، فرائض و واجبات اور دیگر احکامات بیان فرمائے ہیں ۔ تفسیر ان احکام کی تفصیلی وضاحت پیش کرتی ہے، جس سے ان پر صحیح طریقے سے عمل کرنا آسان ہوتا ہے ۔

(2)شانِ نزول کا علم:بہت سی آیات مخصوص حالات یا واقعات کے پس منظر میں نازل ہوئیں ۔ تفسیر ہمیں ان "شانِ نزول" سے آگاہ کرتی ہے، جس سے آیت کا سیاق و سباق اور اس کا اصل مقصد سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔

(3)عقائد و نظریات کی درستگی: تفسیر کے مطالعہ سے قرآن کے بنیادی عقائد، توحید، رسالت، آخرت اور دیگر ایمانیات کی صحیح فہم حاصل ہوتی ہے، جو غلط نظریات اور بدعات سے بچنے کے لیے ضروری ہے ۔

(4)سیرتِ نبوی سے آگاہی: قرآن کی بہت سی آیات کا تعلق رسول اللہ ﷺ کی سیرت، غزوات اور دعوت سے ہے ۔ تفسیر ان واقعات کو واضح کرتی ہے، جس سے سیرت النبی ﷺ کا گہرا مطالعہ ممکن ہوتا ہے ۔

(5)باہمی اختلافات کا حل:بعض اوقات قرآنی آیات کو سمجھنے میں مختلف آراء پیدا ہو جاتی ہیں ۔ تفسیر کا گہرا مطالعہ ان اختلافات کو دلائل کی روشنی میں حل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔

(6)روحانیت اور قربِ الٰہی:جب انسان اللہ کے کلام کے معانی کو سمجھ کر پڑھتا ہے تو اس کے دل میں اللہ کا خوف اور محبت بڑھتی ہے ۔ یہ روحانیت حاصل کرنے کا ذریعہ اور اللہ کے قرب کا باعث بنتا ہے ۔

(7)دعوۃ و تبلیغ: قرآن کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس کی صحیح فہم ضروری ہے ۔ مفسرین کے اقوال اور تفسیری نکات دعوۃ و تبلیغ میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔

اللہ پاک ہمیں تفسیری مطالعہ کرنے اور اس کے ذریعے قرآن کے درست معانی و مفہوم کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں صحیح معنیٰ میں قرآن وسنت کا پابند بنائے آمین ۔