وقار
حسین (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
مجلس
میں بیٹھنے کے آداب کو بیان کیا گیا ہے کہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی
جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ مجلس میں کشادگی اور وسعت پیدا کرنے کا
حکم ہے۔
مفسر شہیر مُحَدِّثِ كَبِيرٍ حَكِيمُ الْأُمَّتَ
مُفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ حکم عام ہے کہ کسی کو اُس کی جگہ
سے اٹھا کر خود بیٹھ جانا ممنوع ہے ، ہاں اگر وہ شخص ناجائز طور پر وہاں بیٹھا تھا
تو اُسے اٹھا دینا جائز ہے۔ جیسے کوئی مسجد میں امام یا مؤذن کی مقرر جگہ بیٹھ
جائے یا وہ کسی کی جگہ بیٹھ گیا تھا تو یہ لوگ آکر اٹھا سکتے ہیں کہ یہ جگہ خود ان
کی اپنی ہے نہ کہ اس بیٹھے ہوئے کی۔ (مراۃ
المناجیح)
آئیے
کچھ احادیث ملاحظہ کرتے ہیں۔
(1)
دوسرے کی جگہ نہ بیٹھنا :حضرت سید نا عبد اللہ ابن عمر
رَضِی الله تَعَالَ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم رؤف رحیم صلی الله تعال علیہ و
الہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی
جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور و میں کشادگی اور وسعت پیدا کرو۔ "
(راوی کہتے ہیں) اگر کوئی شخص میں کھڑا ہو کر حضرت کا ابن عمر رَضِی اللهُ تَعَالَ
عَنْهُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے۔ (فیضان ریاض الصالحین
مترجم ، باب : مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد نمبر : 6 ، صفحہ نمبر :
357 ، حدیث نمبر : 825 ، مکتبتہ المدینہ )
(2)
مجلس کے آخر میں بیٹھنا : حضرت سیدنا جابر بن سمرہ رَضِی اللهُ
تَعَالَى عَنْهُمَا فرماتے ہیں: "ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صلَّی اللہ تعال
عَلَيْهِ وَالہ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے تو جہاں جلس ختم ہوئی وہیں بیٹھ جاتے۔ (ابو داؤد شریف ، کتاب الادب ، باب فی التحلق ،
جلد : 4 ، صفحہ نمبر : 339 ، حدیث نمبر : 4825 )
(3)
کشادہ مجلس رکھنا : حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِی اللهُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں نے
حضور نبی کریم رؤوف رحیم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔“(فیضان
ریاض الصالحین مترجم ، باب : مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد : 6 ، صفحہ
نمبر : 371 ، حدیث نمبر : 831 ، مکتبۃ المدینہ )
(4)
مجلس میں اللہ کا ذکر کرنا : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِيَ
اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو قوم کی مجلس
میں بیٹھتی ہے اور اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر نہیں کرتی اور نبی پاک صلی
اللہ تَعَالٰی پر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہو گی،
اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرمادے۔“ (جامع الترمذی ، کتاب
الدعوات ، باب فی القوم یجلسون ولا یذکرون اللہ ، 5/ 247 ، حدیث نمبر : 3391 )
(5)
مجلس کے اختتام پر دعا پڑھنا : حضرت سیدنا ابو برزہ رَضِيَ
اللهُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: حضور نبی اکرم ﷺ اپنی عمر کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے
اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے : " سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا
أَنْتَ اسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ یعنی اے الله تو پاک ہے،
تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے
بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ “ ایک شخص نے عرض کی: یارسول الله ﷺ ! اس سے پہلے آپ ﷺ م یہ الفاظ نہیں فرمایا
کرتے تھے آپ ﷺ نے
فرمایا: یہ الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں۔ (ابو داؤد شریف ،
کتاب الادب ، باب فی کفار المجلس ، 4 / 348 ، حدیث نمبر : 4859 )
Dawateislami