"مجلس" جلوس سے ماخوذ ہے، اس کا معنی ہے بیٹھنے کی جگہ یا بیٹھک۔ اصطلاح میں مجلس اس جگہ یا محفل کو کہتے ہیں جہاں لوگ کسی مقصد کے لیے جمع ہو کر بیٹھیں۔ یہ مقصد دینی بھی ہوسکتا ہے اور دنیاوی بھی، جیسے وعظ و نصیحت، علمی مذاکرہ، مشاورت، خوشی یا غمی کی محفل وغیرہ۔

مجلس کے مقاصد کے اعتبار سے اس کے آداب اور حقوق میں بھی فرق ہوتا ہے، لیکن چند ایسے حقوق ہیں جن کا لحاظ ہر مجلس میں رکھنا ضروری ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

لباس و تیاری:مجلس میں جانے سے پہلے ممکن ہو تو ستھرے کپڑے پہنیں اور اچھی نیت کے ساتھ خوشبو لگائیں۔

بیٹھنے کا طریقہ:مجلس میں جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جائیں۔ نبی کریم ﷺ کا بھی یہی طریقہ تھا۔ اگر کوئی مسلمان بھائی آئے تو اسے جگہ دیں۔

گفتگو کے آداب:جو بات ہو رہی ہو اسے توجہ سے سنیں۔ جب کلام کا موقع ملے تو بات کریں اور کسی کی بات نہ کاٹیں۔

کھانے کے آداب:اگر مجلس میں کھانا پیش کیا جائے تو سنت کے مطابق کھائیں۔ کھانے میں عیب نہ لگائیں۔ اگر طبیعت کے موافق ہو تو کھائیں ورنہ خاموشی سے ہاتھ روک لیں۔ نبی کریم ﷺ کا بھی یہی انداز تھا۔

اجازت اور اختتام:بغیر اجازت مجلس سے نہ اٹھیں مجلس کے اختتام پر دعائے خیر کریں اور رخصت ہوتے وقت آگے بڑھ کر سلام و مصافحہ کریں۔

ان آداب پر عمل کرنے والا شخص معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگوں کی نظروں میں وہ بااخلاق اور مہذب ہو جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔

اللہ کریم ہمیں ان آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بااخلاق اور سنتوں پر عمل کرنے والا مسلمان بنائے۔آمین


اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ صرف فرد کی اصلاح پر زور دیتا ہے بلکہ معاشرتی زندگی کو بھی بہترین بنیادوں پر قائم کرتا ہے۔ اسلام میں مجلس یعنی بیٹھک یا محفل کے بھی آداب اور حقوق بیان کیے گئے ہیں تاکہ لوگ آپس میں الفت، محبت اور احترام کے ساتھ زندگی گزاریں۔ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر مجالس کے آداب اور ان سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔ اگر مسلمان ان تعلیمات پر عمل کریں تو ان کی محفلیں سکون و رحمت کا ذریعہ بنیں گی اور معاشرہ اخلاق و عدل کی جیتی جاگتی تصویر نظر آئے گا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بارہا اہل ایمان کو مجالس کے آداب سکھائے ہیں۔

مجلس میں جگہ دینا اور وسعت کرنا:ارشادِ خداوندی ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (پارہ 28، سورۃ المجادلہ، آیت نمبر 11)

یہ آیت ہمیں مجلس میں تنگ نظری اور خودغرضی سے بچنے اور دوسروں کو عزت دینے کی تعلیم دیتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنی احادیث میں بھی مجالس کے کئی حقوق بیان فرمائے ہیں:

مجلس کی امانت داری:نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ سَفْکُ دَمٍ حَرَامٍ أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ أَوْ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ۔

احمد بن صالح، عبداللہ بن نافع، ابن ابوذئب، ابن اخی حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجالس امانت ہوتی ہیں سوائے تین مجالس کے۔ کسی حرام خون کو بہانے والی مجالس۔ حرام شرمگاہ سے فائدہ اٹھانے والی مجلس کے۔ یا کسی کا مال ناحق لوٹ لینے والی مجلس کے۔ (سنن ابوداؤد : جلد سوم : حدیث 1465)

یعنی جو بات کسی مجلس میں کہی جائے، اگر وہ امانت کے طور پر ہو تو اسے باہر ظاہر کرنا خیانت ہے۔

مجلس میں خوشبو اور ذکر کا غلبہ:رسول ﷺ نے فرمایا: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَمْ يَذْکُرْ اللَّهَ تَعَالَی فِيهِ إِلَّا کَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْکُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ إِلَّا کَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔

حامد بن یحیی، ابوعاصم، ابن عجلان، مقبری، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے بستر پر لیٹا اور اس میں اس نے اللہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ لیٹنا اس کے لیے باعث ندامت ہوگا۔ اور جو مجلس میں بیٹھا اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا تو وہ مجلس قیامت کے روز اس کے لیے باعث حسرت و ندامت ہوگی۔ (سنن ابوداؤد : جلد سوم : حدیث 1651)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ مجلس کو ذکرِ الٰہی اور نیک باتوں سے معطر کرنا چاہیے۔

سلام اور دعا کا اہتمام:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ قَالَا حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ الْمُفَضَّلِ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ مُسَدَّدٌ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْتَهَی أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتْ الْأُولَی بِأَحَقَّ مِنْ الْآخِرَةِ

احمد بن حنبل، مسدد، بشر بن مفضل، ابن عجلان، مقبری، مسدد، سعید بن ابوسعید مقبری حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مجلس ختم کر کے اٹھے تو اسے چاہیے کہ سلام کرے کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ مناسب اور ضروری نہیں۔ (جس طرح آتے وقت سلام کیا تھا اسی طرح جاتے وقت بھی کرو۔) (سنن ابوداؤد : جلد سوم : حدیث 1796)

اسلام نے مجالس کے جتنے حقوق بیان کیے ہیں، وہ سب انسانوں کے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور معاشرے میں خیر و برکت پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اگر ہر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق مجلس کے آداب اختیار کرے تو نہ صرف ہماری محفلیں نورِ ایمان سے بھر جائیں گی بلکہ معاشرہ امن، محبت اور عزت و احترام کی مثال بن جائے گا۔


مجلس جلوس سے ماخوذ ہے بیٹھنے کی جگہ اس کے لغوی معنی ہیں جہاں کچھ لوگ اکٹھے ہوں اور معاملے پر بات کریں یا ایک کی سنیں اس کو مجلس کہا جاتا ہے مجلس اچھی بھی ہے اور بری بھی اچھی ایسی کہ بندۃ گناہ گار کو جہنم سے نکال کر جنت کے راستے پر چلا دیتی ہے اور بری ایسی کہ جنت سے بے دخل کر کے جہنم کے منہ تک پہنچا دیتی ہے کہ انسان وہی کرتا اور بولتا ہے جو سنتا ہے مگر جس کی اللہ حفاظت فرمائے۔ مجلس وہ  ہوتی ہے جو آقا ﷺ کی ، صحابہ کرام کی، اٰل پاک کی محبتوں والی باتوں میں مست ہوکر فیوض و برکات لٹا رہی ہو اور وہ بھی ہوتی ہے کہ انسان کو خلاف شرع و عقل و عادت و مذہب پر چلا دے غلط رہنمائی کرے انسان کے لیے ہر چیز واضح ہے اللہ نے عقل دی کہ حق کو باطل میں تمیز کرے دل دیا یاد الہی میں مست رہے مگر نفس و شیطان بھی پیدا کیے انسان کو ازمائے جو کامیاب ہو گیا فوز کی بلندیوں تک پہنچا جس نے ان میں خود کو ڈال لیا یا ان کے خود کو حوالے کر دیا تو فقد خسر خسرانا مبینا کا حق دار ٹہرا دنیا میں ہر وہ چیز کو جس کو خالقِ انس و جان نے وجود بخشا ہے اس کا معیار مقرر فرمایا اس کے کچھ تقاضے اور حقوق مقرر فرمائے کہ اگر انہیں پورا کر لیا جائے تو اس چیز کو کما حقہ پایا جا سکتا ہے مجلس بھی خداۓ ذوالجلال کی نعمت عظمی ہے اس کے بھی کچھ لوازمات و حقوق ہیں ان کو اللہ تبارک و تعالی نے بیان فرمایا اور حبیب خدا ﷺ نے اور بزرگان دین نے بیان فرمایا اور تربیت فرمائی آج ہم قرآن واحادیث کی روشنی میں مجلس کے حقوق کو جانیں گے۔

جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے تو جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتے۔

نئے آنے والے کو جگہ دیں:مجلس کے حقوق میں سے ہے کہ جو شخص باہر سے آئے اس کے لیے جگہ کشادہ کی جائے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(سورۃ المجادلۃ ، رقم الآیۃ: 11)

اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ نے اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں ۔

گنجائش ہو تو بیٹھ جائیں:اگر کوئی شخص مجلس میں آیا تو جہاں جگہ ملے بیٹھ جاۓ اور اگر اس کے لیے جگہ کشادہ کی جائے تو ادھر ضرور بیٹھے کہ اللہ کی طرف سے عزت دی گئی ۔

عَنِ ابْنِ شَيْبَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْقَوْمِ فَأُوسِعَ لَهُ فَلْيَجْلِسْ فَإِنَّمَا هِيَ كَرَامَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَكْرَمَهُ بِهَا أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فَإِنْ لَمْ يُوَسَّعْ لَهُ فَلْيَنْظُرْ أَوْسَعَهَا مَكَانًا فَلْيَجْلِسْ فِيهِ۔

ترجمہ: حضرت مصعب بن شیبہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ جب کوئی شخص لوگوں کے پاس آئے اور اس کے بیٹھنے کے لیے گنجائش پیدا کی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے کیونکہ یہ اللہ رب العزت کی طرف سے ملنے والی عزت ہے جو اس کے مسلمان بھائی نے اس کےلیے کی ہے اور اگر اس کے لیےگنجائش پیدا نہ ہو سکے تو کسی اور کشادہ جگہ کو دیکھے اور وہیں جا کر بیٹھ جائے۔(بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث ، باب ماجاء فی الجلوس، الرقم: 919)

لوگوں کے بیچ گھس کر نہ بیٹھیں:محفل میں ہر انسان کو چاہیے کہ جب کچھ لوگ اکھٹے بیٹھے ہوں تو ان میں گھس کر نہ بیٹھے کہ یہ عادت و فطرت کے عین مخالف ہے ۔ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ جَلَسَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ. ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے جو(مجلس میں)لوگوں کے حلقہ میں درمیان میں جا کر بیٹھے۔(سنن ابی داؤد ، باب الجلوس وسط الحلقۃ، الرقم: 4826)

کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائیں:یہ چیز بھی انتہائی ناپسندیدہ ہے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا دیا اورخود بیٹھ جاۓ کہ سامنے والے کے دل میں بد گمانی،نفرت اور طرح طرح کے گناہ پیدا کرنے اور خود مومن کی دل آزاری کے سبب جہنم کا حقدار بن سکتا ہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ۔ ترجمہ: حضرت ا بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے اورخود اسی جگہ بیٹھ جائے۔(صحیح البخاری،باب لا یقیم الرجل الرجل من مجلسہ ، الرقم: 6269)

جگہ کا زیادہ حقدار کون ہےاگر کوئی مجلس سے اٹھے اور واپسی آجاۓ اور اس جگہ پر کوئی اور بیٹھ جاۓ تو پہلے والا شخص ادھر بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ منْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ۔ ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھے اور پھر واپس آ جائے تو اس جگہ کا وہی زیادہ حقدار ہو گا۔(سنن ابن ماجہ، باب من قام من مجلس فرجع فھو احق بہ ، الرقم: 3717)

بلا اجازت لوگوں کے درمیان نہ بیٹھیں:یہ بہت بری اور نازیبا چیز ہے کہ لوگ آپس میں personal بات کررہے ہوں اور کوئی ان میں بیٹھ جاۓ بلکہ اسے چاہیے کہ پہلے اجازت لے اگر مل جاۓ تو بیٹھے ورنہ نہ بیٹھے عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا يُجْلَسْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا۔ ترجمہ: حضرت عمرو بن شعیب کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کوئی شخص لوگوں کے درمیان بغیر اجازت نہ بیٹھے۔(سنن ابی داؤد ، باب فی الرجل یجلس بین الرجلین، الرقم: 4844)

اختتام مجلس کی دعاپڑھیں:جب مجلس و محفل ختم ہوں تو اس دعا کو پڑھنے کی عادت بنا لیں۔جو اس دعا کو مجلس کے بعد پڑھ لیتا ہے اگر اس سے اس مجلس میں گناہ یا کوئی بے مقصد بات ہوئی تو وہ معاف کر دی جاتی ہے۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ۔

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں بے مقصد باتیں بھی ہو گئیں ہوں تو مجلس کے آخر میں یہ دعا پڑ ھ لے (تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس مجلس میں سرزد ہوئے ہوں۔) دعایہ ہے اے اللہ! تیری ذات پاک ہے اور تیرے ہی لیے حمد ہے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں گناہوں کی معافی طلب کرتا ہوں ، اور تیرے سامنے توبہ کرتا ہوں ۔(جامع الترمذی، باب مایقول اذا قام من المجلس، الرقم: 3355)

دینی مجالس میں بیٹھنا اور ان میں دین سیکھنا ہی حصولِ رضا الہی کا سبب ہے اللہ تعالیٰ ہمیں دینی مجالس میں بامقصد حاضری کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین بجاہ سید الصادقین ﷺ 


کوئی شخص کسی کی جگہ آکر بیٹھ جائے تو دوسرا اسے اپنی جگہ سے اٹھا سکتا ہے اور بیٹھنے والے کو چاہیے کہ وہ اس کے لئے جگہ خالی کردے۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں مجلس میں دوسروں کو تکلیف دینے سے بچائے اور اسلامی بھائیوں کے لیے جگہ کشادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

(1)سلام کرنا:عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَہَی أَحَدُکُمْ إِلَی مَجْلِسٍ فَلْیُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَأَ لَہُ أَنْ یَجْلِسَ فَلْیَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْیُسَلِّمْ ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنے کی ضرورت ہو تو بیٹھ جائے اور جب چلنے لگے تو دوبارہ سلام کرے (انوار الحدیث باب المصالحہ ص،378 مکتبۃ المدینہ)

(2) ذکر الہٰی کرنا :عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًالَمْ يَذْكُرِ اللهَ تَعَالَى فِيْهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تَعَالَى تِرَةٌ وَمَنِ اضْطَجَعَ مُضْجَعًا لَايَذْكُرُ اللهَ تَعَالَى فِيْهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تِرَةٌ ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا:”جو کسی مجلس میں بیٹھےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حسرت وخسارہ ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور ذِکرِ الٰہی نہ کرے تو اس کے لیے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ندامت ہوگی۔( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:819 )

شرح حدیث : سوتےوقت ذِکر الٰہی کرنا : مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: اس حدیث میں مجلس سے مراد ہر جائز مجلس ہے جو کہ گندگی وغیرہ سے خالی ہو لہٰذا قضائے حاجت کی مجلس،اسی طرح شراب خوروں کی مجلس اس سے مستثنیٰ ہے ان موقعوں پر خدا تعالیٰ کا نام لینا بے ادبی ہے۔

(3)جگہ کشدہ کرنا:حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیداکرو ۔“(راوی کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:825 )

(4)جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھنا:حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:827 )

(5) کشادہ مجلس ہونا: حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831 )

شرح حدیث:ایسی مجلس بہت مبارک ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں کُشادہ مجلس کو بہترین مجلس کہا گیا ہے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں:”کشادہ مجلس کو بہترین مجلس اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں بیٹھنے والے کو راحت ملتی ہے اور مجلس کی تنگی کی وجہ سے آپس میں بُعض و کینہ پیدا نہیں ہوتا۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831 )


شہنشاہِ مدینہ ﷺ کی عاجزی و انکساری پر قربان ! آپ ﷺ اپنے بیٹھنے کی کوئی جگہ معین نہ فرماتے اور مجلس کے آخری حصے میں بھی بیٹھ جاتے۔ چنانچہ حضرت سیدنا امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت سیدنا علی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سے دریافت کیا: تاجدار دوعالم ﷺ کی مجلس کیسی ہوتی تھی انہوں نے جواب دیا: آپ ﷺ اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتے تھے ، کوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین نہ فرماتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ جب کسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ اپنے ہم نشینوں کو علٰی قدر مراتب (یعنی ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق ) نوازا کرتے تھے جس سے ہر ایک یہی گمان کرتا تھا کہ آقائے دو جہان، رحمتِ عالمیان ﷺ کی سب سے زیادہ نظر کرم میرے ہی حال پر ہے۔ جو شخص بارگاہِ رسالت صلى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلہ وسلم میں حاضر ہوتا یا کسی حاجت کے سبب آنا پڑتا تو جب تک وہ فارغ ہو کر چلا نہ جاتا اتنی دیر آپ صلی اللہ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّم اس کے پاس تشریف رکھتے۔ جس نے بھی آپ ﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ میں اپنی حاجت پیش کی اس کی ضرور آپ ﷺ نے حاجت روائی فرمائی یا اسے سمجھا کر مطمئن کر دیا۔ ( الشفا ، الجزء الاول ، صفحہ نمبر : 159 )

آئیے ہم بھی مجلس کے حقوق کے متعلق کچھ احادیث اقوال پڑھتے ہیں ۔

(1) مجلس کے آخر میں بیٹھنا : حضرت سیدنا جابر بن سمرہ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فرماتے ہیں: ”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صلی الله تَعَالَى عَلَيْهِ وَالهِ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔ (ابو داؤد شریف ، کتاب الادب ، باب فی التحلق ، جلد : 4 ، صفحہ نمبر : 339 ، حدیث نمبر : 4825 )

(2) لوگوں کے درمیان گُھس کر نہ بیٹھنا : حضرت سید نا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللهﷺ نے حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت فرمائی۔ ترمذی نے حضرت ابو مِجْلَز رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ ایک شخص حلقے کے درمیان بیٹھا تو حضرت سیدنا حذیفہ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ”حضرت محمد ﷺ کی زبان پر یہ شخص ملعون (یعنی لعنت کیا گیا) ہے۔ “ یا کہا: ” اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی زبان سے حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت بھیجی ہے۔ (ترمذی شریف ، کتاب الادب ، باب ما جاء فی کراھیۃ القعود وسط الحلقۃ ، جلد نمبر : 4 ، صفحہ نمبر : 346 ، حدیث نمبر : 2762 )

(3)مجلس کشادہ رکھنا : حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم رؤوف رحیم ﷺ الہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: "بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔ (فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد نمبر : 6 ، صفحہ نمبر : 371 ، حدیث نمبر : 831 ، مکتبۃ المدینہ)

(4) مجلس میں اللہ کا ذکر کرنا : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہے اور اس میں اللہ عَزَّ وَجَل کا ذکر نہیں کرتی اور نبی پاک ﷺ پر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہو گی، اگر اللہ عزو جل چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرمادے۔ (ترمذی شریف ، کتاب الدعوات ، باب فی القوم یجلسون ولا یذکرون اللہ ، جلد نمبر : 5 ، صفحہ نمبر : 247 ، حدیث نمبر : 3391 )

(5) مجلس کے اختتام پر دعا کرنا : حضرت سیدنا ابو برزہ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: حضور نبی اکرم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم اپنی عمر کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ اسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ "یعنی اے اللہ ! تو پاک ہے، تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ “ ایک شخص نے عرض کی: یارسول الله ﷺ ! اس سے پہلے آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَالہ وسلم یہ الفاظ نہیں فرمایا کرتے تھے آپ صلى الله تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسلم نے فرمایا: یہ الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں۔

(فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد نمبر : 6 ، صفحہ نمبر : 372 ، حدیث نمبر : 833 ، مکتبۃ المدینہ )

اللہ تعالیٰ ہمیں مجلس کے حقوق و آداب پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ 


اسلام نے اپنے ماننے والوں کی ہر طرح سے رہنمائی فرمائی ہے۔ مجلس میں بیٹھنے اور ساتھ بیٹھنے والے کے آداب بھی ذکر کئے ہیں تاکہ ہمارا چلنا پھرنا اور اٹھنا بیٹھنا اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو ۔ جب بھی کسی مجلس میں بیٹھیں تو جہاں جگہ ملے وہی بیٹھ جائیں ۔ گردنیں پھلانگ کر آگے نہ جائیں ۔ ہمارے پیارے نبی  ﷺ نے اپنے صحابہ کو مجلس میں بیٹھنے کے آداب بھی بتائے آئیے ہم بھی مجلس کے حقوق و آداب کے متعلق کچھ پڑھتے ہیں ۔

(1) مجلس میں بیٹھتے وقت سلام کیا جائے:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے ۔ پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے ، پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرے ۔

(مشكوة المصابيح ، باب : كتاب الاداب ، فصل الثانی ، صفحہ نمبر : 413 ، حدیث نمبر : 4452 ، مکتبہ رحمانیہ )

(2) مجلس کے آخر میں بیٹھنا :حضرت سيدنا جابر بن سمره رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فرماتے ہیں: "ہم جب حضور تاجدار مدینہ ﷺ کی مجلس میں جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔ (ابو داؤد شریف ، کتاب الادب ، باب في التحلق ، جلد : 4 ، صفحہ نمبر : 339 ، حدیث نمبر :4825)

(3) ذکر کے بغیر مجلس سے اٹھ جانا:حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا جو لوگ اللہ عزوجل کا ذکر کیے بغیر مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔ (ابو داؤد، كتاب الادب, باب کراھتہ ایقوم الرجل من مجلسہ ولا بذکر اللہ جلد 4, صفحہ نمبر 347، حدیث نمبر4855)

(4)مجلس کشادہ رکھنا :حضرت سیدنا ابو سعید خدرى رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم رؤوف رحیم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: "بہترین" مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔ (فيضان رياض الصالحين مترجم ، باب : مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد نمبر : 6 ، صفحہ نمبر : 371 ، حدیث نمبر : 831 ، مکتبۃ المدینہ)

(5) اللہ عزوجل کی طرف سے ندامت ہوگی:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو کسی مجلس میں بیٹھے اور اللہ عزوجل کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لیے اللہ عزوجل کی طرف سے حسرت و خسارہ ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور ذکر الہی نہ کرے تو اس کے لیے بھی اللہ عزوجل کی طرف سے ندامت ہوگی۔ (ابو داؤد ، کتاب الاب باب كراهيته ان يقوم الرجل من مجلسہ ولا یذکر اللہ جلد نمبر 4 صفحہ 347، حدیث نمبر 4857)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ان حقوق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ


اسلام نے انسانی معاشرت کے ہر پہلو کے لیے آداب اور اصول مقرر کیے ہیں۔ جس طرح عبادات میں حسنِ اخلاق مطلوب ہے، اسی طرح روزمرہ کی نشست و برخاست (مجلس) کے بھی حقوق ہیں۔ مجلس کے آداب پر عمل نہ صرف فرد کی شخصیت کو سنوارتا ہے بلکہ معاشرتی ماحول کو بھی خوشگوار اور پرامن بناتا ہے۔ قرآن و سنت میں اس بارے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں، اور حضور  ﷺ نے اپنے صحابہ کو مجالس کے حقوق و آداب کی تعلیم دی۔

1. سلام کرنا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ جنت میں نہ جاؤ گے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور ایمان نہ لاؤ گے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے تم آپس میں محبت کرنے لگو آپس میں سلام کو عام کرو۔( صحیح مسلم حدیث نمبر 54)

وضاحت: مجلس میں داخل ہونے والا سب کو سلام کرے، یہ محبت اور اخوت کا ذریعہ ہے۔

2. دوسروں کو تنگ نہ کرنا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجلس کے حق میں سے یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے ساتھی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے اور پھر اس میں بیٹھے، بلکہ کھل کر جگہ بناؤ اور کشادگی اختیار کرو۔( صحیح بخاری حدیث نمبر 6270)

وضاحت: مجلس میں دوسروں کو تنگ کرنا یا ان کی جگہ پر زبردستی بیٹھنا منع ہے۔

3. بات صرف بھلائی کی ہو:نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ یا تو بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔( صحیح بخاری حدیث:نمبر 6475کتاب صحیح مسلم حدیث نمبر47)

وضاحت: مجلس میں فضول گوئی، غیبت یا بری بات سے پرہیز کیا جائے۔

4. مجلس میں ادب اور سننے کا حق:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی ہوں تو دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں، اور تیسرے کو چھوڑ دیں، اس لیے کہ اس سے اسے تکلیف پہنچتی ہے۔ ( صحیح بخاری، حدیث نمبر 6290 کتاب صحیح مسلم حدیث نمبر 2184)

وضاحت: مجلس میں ایسے انداز سے بات نہ کی جائے جس سے کوئی فرد خود کو اجنبی یا کمتر سمجھے۔

5. مجلس سے اٹھنے کی دعا پڑھنارسول اللہ ﷺ جب کسی مجلس سے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے:سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَيْکَ۔ ( سنن ترمذی، حدیث نمبر 3433)

وضاحت: یہ دعا مجلس کی کوتاہیوں اور لغزشوں کا کفارہ ہے۔

اسلام نے مجلس کو بھی حقوق و آداب عطا کیے ہیں تاکہ لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں، تکلیف نہ پہنچائیں اور اخلاقی تربیت حاصل کریں۔ سلام، خوش کلامی، دوسروں کا لحاظ، فضول گوئی سے پرہیز اور دعا پڑھنا مجلس کے اہم حقوق ہیں۔


نبی پاک  ﷺ کی زندگی مبارکہ ہمارے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے جو کہ زندگی کے ہر ہر پہلو میں ہماری مکمل رہنمائی کرتی ہے ۔اسی طرح ہمیں نبی پاک ﷺ کی زندگی مبارکہ سے کچھ مجلس کے حقوق و آداب بھی ملتے ہیں جو کہ ہمیں لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کے آداب سکھاتے ہیں، قرآن مجید میں بھی مجلس کے کچھ آداب بیان ہوئے ہیں۔

چنانچہ اللہ عزوجل کلام مجید میں ارشاد فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا۔

ترجمہ کنزالعرفان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو۔(سورۃ مجادلہ،پارہ 28۔آیت 11)

وضاحت :اس آیت سے معلوم ہوا ایک مسلمان بھائی کا دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللہ تعالی کو بہت پیارا ہے ۔کیونکہ اس پر اللہ تعالی نے اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے لہذا مسلمانوں کو چاہئے ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں ۔ (تفسیر صراط الجنان ،ج10ص،45)

(1) عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ للهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلَيْهِ فَهُوَ اَحَقُّ بِهِ ترجمہ:حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:826)

وضاحت:اَحادیث مبارکہ میں مجلس میں بیٹھنے کے آداب کو بیا ن کیا گیا ہےکہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیدا کرنے کا حکم ہے

(2) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:كُنَّا اِذَا اَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ اَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِيْ ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا جابر بن سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:827)

اس حدیث مبارکہ سے پتا چلا مجلس میں آنے والا شخص وہاں بیٹھے جہاں مجلس ختم ہورہی ہو ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے صحابہ کو مجلس میں بیٹھنے کے آداب بھی بتائے۔

(3) عَنْ اَبِي سَعِيْدٍالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خَيْرُ الْمَجَالِسِ اَوْسَعُهَا ترجمہ:حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831)

مجالس انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں اگر ان میں قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے آداب اپنائے جائیں تو یہ مجالس خیر و برکت نیکی کی دعوت اور آپس کی محبت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔


پیارے پیارے اسلامی بھائیو ہمارا دین کیا ہی خوبصورت دین ہے جس میں انسان کے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کے حقوق بیان کیے گئے ہیں دین اسلام میں انسان کے اول سے لے کر آخر تک کے حقوق بیان کیے گئے ہیں ان میں سے ایک حق مجلس کے حقوق ہیں آپ کے سامنے چند حقوق ذکر کرتا ہوں۔

(1)اس مجلس کو اختیار کرو :حضرت علقمہ عطاردی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے بیٹے! جب تمہیں لوگوں کی مجلس اختیار کرنا پڑے تو ایسے آدمی کی صحبت اختیار کر کہ جب تو ا س کی خدمت کرے تو وہ تیری حفاظت کرے،اگر تو ا س کی مجلس اختیار کرے تو وہ تجھے زینت دے،اگر تجھے کوئی مشقت پیش آئے تو وہ برداشت کرے، اس آدمی کی صحبت اختیار کر کہ جب تو بھلائی کے ساتھ اپناہاتھ پھیلائے تو وہ بھی اسے پھیلائے،اگر وہ تم میں کوئی اچھائی دیکھے تو اسے شمار کرے اور اگر برائی دیکھے تو اسے روکے۔اس آدمی سے دوستی اختیار کر کہ جب تو ا س سے مانگے تو وہ تجھے دے اور اگر خاموش رہے تو خود بخود دے،اگر تجھے کوئی پریشانی لاحق ہو تو وہ غمخواری کرے۔اُس آدمی کی صحبت اختیار کرو کہ جب تم بات کہو تو وہ تمہاری بات کی تصدیق کرے ،اگر تم کسی کام کا ارادہ کرو تو وہ اچھا مشورہ دے اور اگر تم دونوں میں اختلاف ہو جائے تو وہ تمہاری بات کو ترجیح دے۔(احیاء علوم الدین، کتاب آداب الالفۃ والاخوۃ۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۱۴)

(2)مجلس میں جگہ دو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(سورت المجادلہ 58 آیت 11)

(3) کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھاو : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مَا سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود ا س کی جگہ پر نہ بیٹھے۔( مسلم،کتاب السلام،باب تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ المباح الذی سبق الیہ،ص۱۱۹۸،الحدیث:۲۷(۲۱۷۷))

(4)کسی کو جگہ سےنہ اٹھانا : مجلس کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں کہ اہم حضرات کیلئے نمایا ں جگہ بنادی جائے جیسے دینی و دُنْیَوی دونوں قسم کی مجلسوں میں سرکردہ حضرات کواسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کیلئے زیادہ قریب بیٹھیں ۔ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’تم میں سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں انہیں میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے ،پھر جو ان کے قریب ہوں ،پھر جو ان کے قریب ہوں ۔( ابو داؤد ، کتاب الصلاۃ، باب من یستحبّ ان یلی الامام فی الصفّ وکراہیۃ التأخّر، ۱ / ۲۶۷، الحدیث: ۶۷۴)

(5)اہل علم کی مجلس :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،سیّد المرسَلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جن سے تم علم حاصل کرتے ہوان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے تواضع اختیار کرو اور سرکَش عالِم نہ بنو۔( الجامع لاخلاق الراوی، باب توقیر المحدّث طلبۃ العلم۔۔۔ الخ، تواضعہ لہم، ص۲۳۰، الحدیث: ۸۰۲)


(1)مجلس میں ذکر :سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے۔کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا:جو کسی مجلس میں بیٹھےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حسرت وخسارہ ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور ذِکرِ الٰہی نہ کرے تو اس کے لیے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ندامت ہوگی۔ ابوداؤد ،کتاب الادب باب کراھیۃ ان یقوم الرجل من مجلسہہ ولایذکرالللہ جلد 4،صفہ347، حدیث ،4856

(2)کشادگی اور وسعت پیدا کرو :سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیداکرو ۔(راوی کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔

( فیضان ریاض الصالحین جلد:6 صفہ نمبر 357،حدیث نمبر:825 )

(3)جگہ کا زیادہ حقدار :حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔(مسلم کتاب السلام باب اذاقام من مجلسہ ثم عاد فھوا حق بہ صفہ924،حدیث5289)

(4) مجلس میں بیٹھنے کے پانچ مدنی پھول

(1) مجلس میں سے کسی شخص کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی ممانعت ہے کہ یہ فعل ادب کے خلاف ہے ۔

(2) مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے یعنی اسے جگہ دے ۔

(3) سرک کر دوسرے اسلامی بھائیوں کو جگہ دینا سنتِ مبارکہ ہے۔

(4) اگر کوئی اسلامی بھائی اجتماع وغیرہ میں کسی ضرورت کی بنا پر اپنی جگہ سے تھوڑی دیر کے لیے مثلاً پانی پینے یا کسی اور حاجت کے لیے گیا تو کسی دوسرے کے لئے اس کی جگہ بیٹھنا درست نہیں البتہ اگر وہ اسلامی بھائی چلا ہی گیا کہ اب واپس نہیں آئے گا تو اب اس جگہ کوئی بھی بیٹھ سکتا ہے۔

(5) کوئی شخص کسی کی جگہ آکر بیٹھ جائے تو دوسرا اسے اپنی جگہ سے اٹھا سکتا ہے اور بیٹھنے والے کو چاہیے کہ وہ اس کے لئے جگہ خالی کردے۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں مجلس میں دوسروں کو تکلیف دینے سے بچائے اور اسلامی بھائیوں کے لیے جگہ کشادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


انسان جب تنہائی میں ہوتا ہے تو اس کی فکر صرف اس تک محدود رہتی ہے، لیکن جب وہ کسی مجلس میں بیٹھتا ہے تو اس کا کردار اور گفتگو دوسروں کی زندگیوں پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ مجلس محض چند افراد کا بیٹھنا نہیں، یہ دلوں کے جُڑنے، خیالات کے تبادلے اور معاشرتی رشتوں کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ مجلس وہ آئینہ ہے جس میں انسان کی تہذیب، اخلاق اور تربیت جھلکتی ہے۔ اس لیے مجلس کے حقوق کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف فرد کے وقار کا باعث ہے بلکہ پورے معاشرے کی خوبصورتی کا سبب بھی ہے۔

1. مجلس میں سب کے لیے مساوات کا حق:مجلس کا پہلا حق یہ ہے کہ اس میں بیٹھنے والوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے۔ کسی کو صرف اس کی حیثیت یا دولت کی وجہ سے زیادہ اہمیت نہ دی جائے اور نہ ہی کسی کو کمتر سمجھا جائے۔ ہر فرد کو برابر کا درجہ دینا مجلس کی شان بڑھاتا ہے اور باہمی احترام کو پروان چڑھاتا ہے۔

2. رائے دینے اور سننے کا حق:مجلس کا دوسرا حق یہ ہے کہ ہر شریک کو اپنی بات پیش کرنے اور دوسروں کو سننے کا موقع دیا جائے۔ کسی کی بات کاٹ دینا یا کسی کو بولنے کا حق نہ دینا مجلس کے وقار کو گھٹا دیتا ہے۔ ہر شخص کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی رائے مؤدبانہ انداز میں دے اور دوسروں کی بات توجہ سے سنی جائے۔

3. عزت اور راز داری کا حق:مجلس میں بیٹھنے والے ہر شخص کا یہ حق ہے کہ اس کی عزت محفوظ رہے۔ کسی کی تذلیل، مذاق یا بے ادبی مجلس کے تقدس کو ختم کر دیتی ہے۔ اسی طرح جو بات مجلس میں کہی جائے، اسے بلا وجہ باہر پھیلانا مناسب نہیں، کیونکہ یہ راز داری کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

4. سکون اور یکسوئی کا حق:مجلس میں موجود ہر فرد کا حق ہے کہ اسے سکون اور یکسوئی کا ماحول ملے۔ شور شرابہ، بے جا ہنسی مذاق یا فضول باتوں سے دوسروں کو پریشان کرنا مجلس کے حق کے منافی ہے۔ مجلس کا مقصد ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں ہر شخص سکون سے بیٹھ سکے اور مثبت باتیں سن سکے۔

5. خوش اخلاقی اور رخصتی کا حق:مجلس کا آخری حق یہ ہے کہ آنے والے افراد خوش اخلاقی کے ساتھ شریک ہوں

اور جاتے وقت ادب و احترام کے ساتھ رخصت ہوں۔ کسی کے ساتھ روکھے پن یا بدتمیزی سے پیش آنا مجلس کی روح کے خلاف ہے۔ خوش مزاجی اور اچھے رویے سے نہ صرف مجلس کا وقار بڑھتا ہے بلکہ تعلقات بھی مضبوط ہوتے ہیں۔


اسلام ایک ایسا کامل نظامِ حیات ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے کے لیے آداب اور اصول متعین فرمائے ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ہر مسلمان کو اپنے معاملات کو ایسے سنوارنے کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی راحت و سکون کا ذریعہ بنے۔ انہی اہم پہلوؤں میں سے ایک پہلو مجلس کے حقوق ہیں۔ مجلس انسانوں کی نشست و برخاست، میل جول اور معاشرتی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ قرآن کریم، احادیث نبویہ، اقوالِ بزرگانِ دین اور حکایات اس موضوع کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ کر دو، اللہ تمہیں کشادگی دے گا، اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو اٹھ کھڑے ہو جاؤ، اللہ تم میں ایمان والوں اور علم والوں کے درجے بلند کرے گا، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(سورۃ المجادلہ، آیت 11)

تشریح (صراط الجنان):اس آیت میں مجلس کے حقوق اور آداب بیان فرمائے گئے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ مجلس میں آنے والوں کے لیے جگہ کشادہ کریں، تنگی اور بے ادبی نہ کریں۔ اگر صاحبِ مجلس یا بڑے حکم دیں کہ مجلس ختم کرو یا اٹھ جاؤ تو فرمانبرداری سے عمل کرو۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مجلس کا ادب کرنے والے کو اللہ دنیا و آخرت میں وسعت عطا فرماتا ہے۔(صراط الجنان، تفسیر سورۃ المجادلہ، ج:9، ص:87، مکتبۃ المدینہ)

مجلس کا ادب:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب تم تین شخص ہو تو دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں کہ تیسرے کو رنج ہو۔ (صحیح بخاری، کتاب الاستئذان، حدیث: 6288، دار طوق النجاة، بیروت، 1422ھ)

سلام اور اجازت کا ادب:جب کوئی شخص مجلس میں آئے تو سلام کرے اور جب اٹھنے لگے تب بھی سلام کرے، پہلی سلام دوسری سے زیادہ ضروری نہیں۔(سنن ابوداؤد، کتاب الادب، حدیث: 5208، دار الرسالۃ العالمیۃ، بیروت، 1430ھ)

اچھے کلمات کی مجلس:جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ مجلس میں اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔

(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: 47، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1374ھ)

اقوالِ بزرگانِ دین:حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:مجلس ایسی ہو جس میں خیر کی بات ہو، کیونکہ مجلسیں دل کو نرم کرتی ہیں اور علم بڑھاتی ہیں۔(نہج البلاغہ، خطبات و اقوال، ص: 225، مکتبۃ المصطفیٰ، لاہور، 2015ء)

حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:مجلس میں بیٹھنے کا ادب یہ ہے کہ آدمی اپنے سے بڑوں کا احترام کرے، چھوٹوں پر شفقت کرے اور اپنی زبان کو فضول گوئی سے بچائے۔ (احیاء علوم الدین، ج:2، ص: 301، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 2005ء)

ایک حکایت میں آتا ہے کہ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے۔ ایک شخص نے آپ کے سامنے کسی کی غیبت شروع کی تو آپ نے فوراً فرمایا:یہ مجلس ذکرِ الٰہی کی ہے، اسے غیبت سے آلودہ نہ کرو، اگر تم باز نہ آئے تو میں مجلس سے اٹھ جاؤں گا۔یہ سن کر وہ شخص خاموش ہو گیا اور پھر مجلس میں ذکر و نصیحت کا سلسلہ جاری رہا۔(حلیۃ الاولیاء، ابو نعیم اصفہانی، ج:6، ص: 390، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 1405ھ)