عدیل رمضان
عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور
، پاکستان)
انسان
جب تنہائی میں ہوتا ہے تو اس کی فکر صرف اس تک محدود رہتی ہے، لیکن جب وہ کسی مجلس
میں بیٹھتا ہے تو اس کا کردار اور گفتگو دوسروں کی زندگیوں پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
مجلس محض چند افراد کا بیٹھنا نہیں، یہ دلوں کے جُڑنے، خیالات کے تبادلے اور
معاشرتی رشتوں کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ مجلس وہ آئینہ ہے جس میں انسان کی تہذیب،
اخلاق اور تربیت جھلکتی ہے۔ اس لیے مجلس کے حقوق کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا نہ
صرف فرد کے وقار کا باعث ہے بلکہ پورے معاشرے کی خوبصورتی کا سبب بھی ہے۔
1.
مجلس میں سب کے لیے مساوات کا حق:مجلس کا پہلا حق یہ ہے کہ اس میں
بیٹھنے والوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے۔ کسی کو صرف اس کی حیثیت یا دولت کی وجہ
سے زیادہ اہمیت نہ دی جائے اور نہ ہی کسی کو کمتر سمجھا جائے۔ ہر فرد کو برابر کا
درجہ دینا مجلس کی شان بڑھاتا ہے اور باہمی احترام کو پروان چڑھاتا ہے۔
2.
رائے دینے اور سننے کا حق:مجلس کا دوسرا حق یہ ہے کہ ہر
شریک کو اپنی بات پیش کرنے اور دوسروں کو سننے کا موقع دیا جائے۔ کسی کی بات کاٹ دینا
یا کسی کو بولنے کا حق نہ دینا مجلس کے وقار کو گھٹا دیتا ہے۔ ہر شخص کو یہ حق ہے
کہ وہ اپنی رائے مؤدبانہ انداز میں دے اور دوسروں کی بات توجہ سے سنی جائے۔
3.
عزت اور راز داری کا حق:مجلس میں بیٹھنے والے ہر شخص کا یہ حق ہے کہ اس کی عزت
محفوظ رہے۔ کسی کی تذلیل، مذاق یا بے ادبی مجلس کے تقدس کو ختم کر دیتی ہے۔ اسی
طرح جو بات مجلس میں کہی جائے، اسے بلا وجہ باہر پھیلانا مناسب نہیں، کیونکہ یہ
راز داری کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
4.
سکون اور یکسوئی کا حق:مجلس میں موجود ہر فرد کا حق ہے کہ اسے سکون اور یکسوئی
کا ماحول ملے۔ شور شرابہ، بے جا ہنسی مذاق یا فضول باتوں سے دوسروں کو پریشان کرنا
مجلس کے حق کے منافی ہے۔ مجلس کا مقصد ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں ہر شخص سکون
سے بیٹھ سکے اور مثبت باتیں سن سکے۔
5.
خوش اخلاقی اور رخصتی کا حق:مجلس کا آخری حق یہ ہے کہ آنے
والے افراد خوش اخلاقی کے ساتھ شریک ہوں
اور
جاتے وقت ادب و احترام کے ساتھ رخصت ہوں۔ کسی کے ساتھ روکھے پن یا بدتمیزی سے پیش
آنا مجلس کی روح کے خلاف ہے۔ خوش مزاجی اور اچھے رویے سے نہ صرف مجلس کا وقار
بڑھتا ہے بلکہ تعلقات بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
Dawateislami