قرآن مجید  اللہ پاک کا کلام اور اس کی آخری کتاب ہے اللہ پاک نے قرآن مجید کو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنے پیارے حبیب ﷺ پر نازل فرمایا قرآن مجید دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ قرآن مجید کا مطالعہ محض تلاوت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ انسان کو چاہیے کہ وہ اس میں غور و فکر تدبر کر کے اس کے احکامات پر عمل پیرا ہو۔ قرآن پاک میں غور و فکر کرنا اعلی درجے کی عبادت ہے۔

چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ- ترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں۔ (پارہ5، سورہ نساء82)

اس آیت کریمہ میں قرآن کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ قرآنِ حکیم میں غور نہیں کرتے اور اس کے عُلوم اور حکمتوں کو نہیں دیکھتے ۔ امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ احیاء العُلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے ۔(صراط الجنان ج2، ص258)

عقلمند اور سمجھدار لوگ وہ ہیں جو قرآن کا مطالعہ محض تلاوت کے طور پر نہیں کرتے بلکہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں زمین آسمان اور دیگر چیزوں میں اللہ کی قدرت کے نظارے تلاش کرتے ہیں۔ جب انسان اللہ کی عجائبات اور اس کی قدرت کے نظاروں میں غور و فکر کرتا ہے تو پھر اللہ تعالی کی عظمت انسان کے دل میں آشکار ہو جاتی ہے پھر انسان اللہ کی بارگاہ میں اس کی رحمت کا سوال کرتا ہے اور دوزخ سے پناہ مانگتا ہے۔

کائنات میں غور و فکر کرنے کا حکم اللہ تعالی نے خود قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:

وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(۱۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ (پ4، آل عمران : 191)

اس آیت کریمہ میں اللہ پاک انسان کو اپنی تخلیق میں غور و فکر کرنے کا حکم ارشاد فرما رہا ہے۔

ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ قرآنِ مجید کو سمجھ کر اور اس میں بیان کیے گئے احکام، عبرت انگیز واقعات،موت کے وقت کی آفات، گناہگاروں اور کافروں پر ہونے والے جہنم کے عذابات اور نیک مسلمانوں کو ملنے والے جنت کے انعامات وغیرہ میں غورو فکر کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرے تاکہ اسے قرآن کریم کی برکتیں حاصل ہوں اور اس کے دل پر اگر گناہوں کی سیاہی غالب آ چکی ہو تو وہ بھی صاف ہو جائے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ان دلوں میں بھی زنگ لگ جاتا ہے، جس طرح لوہے میں پانی لگنے سے زنگ لگتا ہے۔ عرض کی گئی، یا رسولَ اللہ ! ﷺ ،اس کی جِلا(یعنی صفائی) کس چیز سے ہوگی؟ ارشاد فرمایا ’’کثرت سے موت کو یادکرنے اور تلاوتِ قرآن سے۔ حضرت ابراہیم خواص رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :دل کی دوا پانچ چیزیں ہیں ۔ (1) غورو فکر کرتے ہوئے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا، (2) بھوکا رہنا، (3) رات میں نوافل ادا کرنا، (4) سَحری کے وقت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرنا، (5) نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا۔ (صراط الجنان ج5، ص325)

افسوس صد افسوس آج انسان نے قرآن مجید میں غور و فکر کرنا چھوڑ دیا حتی کہ انسان دنیا کی رنگینیوں میں اس قدر ڈوب چکا ہے کہ غور و فکر کرنا تو دور کی بات وہ تو محض تلاوت کی غرض سے بھی قرآن نہیں کھولتا۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں تو ہمیں اللہ پاک کی کتاب کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا اور اس میں غور و فکر کرنا ہوگا تاکہ ہم دنیا آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں ۔

اللہ پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین