عدیل رمضان عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور
،پاکستان)
قرآن
مجید اللہ ربّ العزت کا وہ کلام ہے جو
انسانیت کے لیے آخری اور کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ یہ کتابِ ہدایت صرف ایک مذہبی
صحیفہ نہیں بلکہ ایک ایسا جامع نظامِ حیات ہے جو فرد، معاشرہ، اخلاق، معیشت، سیاست
اور روحانیت ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج مسلمان امت میں قرآن سے
تعلق کمزور ہو چکا ہے اس کے مطالعہ، تدبر اور فہم کی حقیقی روح کم ہوتی
جا رہی ہے۔ یہی وہ محرومی ہے جس نے امتِ مسلمہ کو فکری، اخلاقی اور عملی زوال کی
طرف دھکیل دیا ہے۔
قرآن کے
مطالعے کی ضرورت
مطالعۂ
قرآن ثواب کے حصول کے ساتھ ساتھ انسان کے ذہن و دل کو
بیدار کرنے کا ذریعہ ہے۔ قرآن ہمیں سوچنے، سمجھنے اور اپنی زندگی کو درست سمت میں
لے جانے کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اَفَلَا
یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ- ترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے
قرآن میں۔ (پارہ5، سورہ نساء82)
یہ آیت
بتاتی ہے کہ قرآن کا مطالعہ محض زبانی تلاوت نہیں بلکہ غور و فکر کے ساتھ سمجھنا
اس کا اصل مقصد ہے۔ جب کوئی مسلمان قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے تو اسے اپنی زندگی کے
مسائل کا حقیقی حل اور قلبی سکون دونوں ملتے ہیں۔
مطالعۂ
قرآن کی اہمیت
قرآن
وہ کتاب ہے جو انسان کو اس کے خالق سے جوڑتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کا
مقصد کیا ہے، کامیابی کس چیز میں ہے، اور نجات کا راستہ کون سا ہے۔ قرآن کے بغیر
مسلمان کی زندگی ایسے ہے جیسے چراغ کے بغیر رات۔ قرآن کا مطالعہ انسان کو نہ صرف
روحانی روشنی دیتا ہے بلکہ اخلاقی بلندی، فکری وضاحت اور عملی توازن بھی عطا کرتا
ہے۔
قرآن
کے مطالعہ کی ایک اور بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ امت میں وحدت پیدا کرتا ہے۔ مختلف قومیں،
زبانیں اور ثقافتیں رکھنے والے مسلمان جب ایک ہی کتاب سے رہنمائی لیتے ہیں تو وہ ایک
نظریے اور ایک مقصد کے تحت متحد ہو جاتے ہیں۔
موجودہ
دور میں مطالعۂ قرآن کی افادیت
آج کے
دور میں، جب مغربی نظریات، مادہ پرستی اور فکری انتشار عام ہے ، مطالعۂ قرآن کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ
بڑھ گئی ہے۔ قرآن ہمیں جدید مسائل کے حل کے لیے ایک متوازن اور عادلانہ نقطۂ نظر دیتا
ہے۔ چاہے معاملہ معاشرتی ہو، اقتصادی یا اخلاقی ہو ، قرآن ہر مسئلے کے اصولی حل
فراہم کرتا ہے۔
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو ! مطالعۂ قرآن کوئی معمولی عمل نہیں، بلکہ یہ ایمان کی تجدید،
علم کی بنیاد اور کردار کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ اگر مسلمان دوبارہ قرآن سے اپنا
تعلق زندہ کر لیں ، اسے سمجھ کر پڑھیں، اس پر عمل کریں، اور اسے اپنی زندگیوں کا
دستور بنا لیں تو یقیناً ان کی فکری اور عملی
زندگی میں انقلاب آ سکتا ہے۔
پس،
مطالعۂ قرآن ہر مسلمان کے لیے نہ صرف ضرورت ہے بلکہ زندگی کا لازمی فریضہ ہے۔
اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami