محمد حسنین رضا عطاری مدنی ( جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
قرآن کریم
اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو خالقِ کائنات
کی طرف سے نازل ہوا تاکہ انسانیت کو ہدایت کا راستہ دکھائے۔ یہ کتاب روحانی سکون
کا سرچشمہ ہے، یعنی جب انسان اسے پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو اس کے دل کو
اطمینان حاصل ہوتا ہے، بےچینی ختم ہو جاتی ہے، اور دل اللہ کی یاد سے منور ہو جاتا
ہے۔
مزید یہ
کہ قرآنِ کریم زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے چاہے وہ عبادات کا
معاملہ ہو، اخلاق کا، معاشرت کا، یا معاملاتِ زندگی کا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ
انسان کے طور پر ہمیں کس طرح جینا چاہیے، دوسروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہیے،
اور اپنے خالق کے ساتھ کس تعلق کو قائم رکھنا چاہیے۔
اگر
انسان قرآن سے دور ہو جائے تو اس کی زندگی ادھوری اور بے سمت ہو جاتی ہے۔ یعنی
قرآن کے بغیر انسان کے پاس نہ زندگی کا صحیح مقصد رہتا ہے، نہ کوئی روحانی فیض،
اور نہ ہی اخلاقی رہنمائی۔ پس قرآنِ کریم وہ نور ہے جو انسان کے دل، دماغ اور
کردار کو منور کر کے اسے کامیابی کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔
قرآن میں
تدبر و غور و فکر کرو:
قرآنِ
کریم ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، کہ تم قرآن میں تدبر و غور و فکر کرو۔ اللہ
تعالیٰ انسان کو یہ سوچنے، سمجھنے اور گہرائی سے قرآن کے مضامین پر غور کرنے کی
دعوت دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو صرف زبانی تلاوت تک محدود نہ رکھا جائے
بلکہ اس کے الفاظ، معانی اور پیغام پر غور کیا جائے تاکہ انسان اس سے ہدایت حاصل
کر سکے۔ جیساکہ سورۃ النساء: 82 میں خالقِ کائنات فرماتا ہے :
اَفَلَا
یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ- وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ
لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا(۸۲)
ترجمہ
کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو
ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔ (پارہ5،
سورہ نساء82)
یعنی لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی
گئی ہے۔ کہ لوگ قرآن کو سنتے اور پڑھتے تو ہیں، مگر اس کے معنی اور پیغام پر غور
نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ اگر قرآن اللہ کے علاوہ کسی
اور کا کلام ہوتا، تو اس میں تضاد اور اختلاف پایا جاتا۔ لیکن چونکہ یہ اللہ کا
کلام ہے، لہذا اس کے مضامین، احکام اور بیانات آپس میں مکمل طور پر ملتے جلتے اور
متضاد نہیں ہیں۔ اور اس میں کوئی اختلاف، تضاد یا ٹکراؤ نہیں پایا جاتا۔
اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم پر تدبر کرنا نہ صرف ایک علمی عمل ہے بلکہ یہ ایمان کو
مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس طرح
قرآن پر تدبر انسان کے دل کو ایمان، عقل کو بصیرت، اور زندگی کو سمت عطا کرتا ہے۔
ایک
اور آیت جو قرآنِ کریم کے مقصدِ نزول کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کتاب مبارک ہے، یعنی خیر و برکت سے بھری ہوئی ہے، جو انسان
کی زندگی کو دنیا اور آخرت دونوں میں سنوارنے والی ہے۔ قرآن کو نازل کرنے
کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس کی آیات میں تدبر کرے یعنی
غور و فکر سے اس کے معنی، پیغام اور ہدایات کو سمجھے۔
اللہ
تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا ہے تاکہ وہ قرآن کے پیغام کو سمجھ کر اپنی
زندگی میں اس پر عمل کرے۔ جیساکہ سورۃ ص: 29 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
كِتٰبٌ
اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ
اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)
ترجمہ
کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت
والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)
ان
الفاظ سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ان لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے جو عقل و
بصیرت سے کام لیتے ہیں۔ یعنی جو لوگ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ
قرآن سے سچی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
یوں ان
دونوں آیات سے یہ بات خوب واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن محض تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ
سمجھنے، غور کرنے اور اس کے احکامات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے نازل کیا
گیا ہے۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر اپنی زندگی میں اپناتا ہے، وہی دراصل اس کے فیوض و
برکات سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھاتا ہے۔
مطالعہ
قرآن کی ضرورت کیوں ہے؟
قرآن
دراصل انسانیت کے لیے ایک مکمل رہنمائی کا نظام ہے، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی
کو اللہ کی مرضی کے مطابق کیسے گزارنا ہے۔ اس کے ذریعے انسان کو حق و باطل، صحیح و
غلط، اچھائی و برائی کا واضح فرق معلوم ہوتا ہے۔ قرآن انسان کے کردار کو سنوارتا
ہے، اسے اخلاق، صبر، شکر، دیانت داری اور انصاف جیسی اعلیٰ صفات اپنانا سکھاتا ہے۔
اسی
مقصد کو مزید واضح کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک بیان کرتا ہوں: حضور
جان جاناں ﷺ ارشاد فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ترجمہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے
اور سکھائے۔ ( صحيح البخاري، المتوفی ٢٥٦ھ، كتاب
فضائل القرآن، باب نسيان القرآن، بَابٌ: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ،
ج 6، ص 194، حدیث 5027 )
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا علم حاصل
کرنا اور دوسروں تک پہنچانا انسان کے لیے سب سے بڑا شرف اور سعادت ہے۔ جو شخص قرآن
کو سمجھ کر اس پر عمل کرتا ہے اور پھر دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتا ہے، وہ اللہ
کے نزدیک سب سے بہترین انسان قرار پاتا ہے۔
لہٰذا،
مطالعۂ قرآن کی ضرورت اس لیے ہے کہ یہ ہمیں زندگی کی راہ دکھاتا ہے، کردار کو
نکھارتا ہے، دل کو منور کرتا ہے، اور ہمیں اللہ و رسول کے قریب لے جاتا ہے۔ قرآن
کا سچا طالب علم نہ صرف خود ہدایت پاتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ہدایت کا ذریعہ
بنتا ہے۔
قرآن حقیقی
کامیابی و نورِ ہدایت
قرآن
کریم انسان کی حقیقی کامیابی کا ذریعہ ہے، جو اسے دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو کرتا ہے۔ قرآن کا مطالعہ انسان کو روحانی سکون عطا کرتا
ہے، دل کے اضطراب کو ختم کرتا ہے، اور اسے اللہ کی رحمت و قرب حاصل کرنے کا راستہ
دکھاتا ہے۔ جب انسان قرآن کے پیغام کو دل سے سنتا اور سمجھتا ہے تو اس کا دل نرم
ہو جاتا ہے اور وہ نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے۔
ہماری
زندگی مصروفیات، خواہشات اور دنیاوی دوڑ میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ اگر ہم قرآن سے
غافل ہو جائیں تو ہماری زندگی ایسی بے سمت کشتی کی طرح بن جائے گی جس کا کوئی
رہنما نہیں جو سمندر میں بھٹکتی رہتی ہے اور کسی منزل تک نہیں پہنچ پاتی۔
لہٰذا
قرآن ہی وہ نور اور رہنمائی ہے جو انسان کو صحیح سمت دکھاتا ہے، اسے اللہ کی رضا،
رحمت اور جنت کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔ قرآن سے تعلق قائم رکھنا دراصل کامیاب
اور پُرسکون زندگی کا راز ہے۔
مطالعہ
قرآن سے دوری کی وجوہات اور اس کا حل
ہم میں
سے اکثر لوگ قرآن سے غافل اور دور ہو چکے ہیں۔ ہماری زندگیوں میں دنیاوی مشغولیات،
مصروفیات، روزمرہ معمولات، اور خاص طور پر سوشل میڈیا نے ہمیں اس قدر الجھا دیا ہے
کہ ہم نے قرآن کو اپنی ترجیحات سے تقریباً نکال دیا ہے۔ ہم وقت تو نکالتے ہیں دنیاوی
سرگرمیوں، تفریح اور آرام کے لیے، مگر قرآن کے مطالعے کے لیے وقت نہیں نکالتے،
حالانکہ یہ کتاب ہماری اصل کامیابی کا ذریعہ ہے۔
قرآن
کے بغیر زندگی ادھوری اور بے سمت ہے۔ اگر ہم واقعی سکون، رہنمائی اور کامیابی چاہتے
ہیں تو ہمیں قرآن سے اپنا تعلق دوبارہ مضبوط کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم
روزانہ چند منٹ ہی سہی، مگر قرآن کی تلاوت، اس کے ترجمے اور تفسیر پر غور کرنے کے
لیے وقت ضرور نکالیں۔ ایسا معمول ہماری زندگی میں روحانیت، اطمینان اور اللہ و
رسول ﷺ سے قرب پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ ان شاءاللہ
قرآنِ
کریم دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جو انسان کو گمراہی کے اندھیروں سے
نکال کر ہدایت اور نور کے راستے پر لے آتی ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جو انسان کو علم،
فہم، اور روحانی بصیرت عطا کرتی ہے ایسی بصیرت جو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں ہو
سکتی۔ اگر کوئی شخص قرآن کو سمجھ کر پڑھے، اس پر غور کرے اور اس کی تعلیمات کو اپنی
زندگی میں شامل کرے تو وہ نہ صرف دنیا میں سکون و اطمینان پاتا ہے بلکہ آخرت میں
بھی کامیابی کا مستحق بنتا ہے۔
آخر میں
پیغام یہ ہے کہ قرآن پر عمل ہی کامیابی کا حقیقی زینہ ہے۔ جو شخص یا قوم قرآن سے
وابستہ ہو جاتی ہے، وہ سیدھی راہ پر چلتی ہے اور اللہ کی رحمتوں میں ڈھک جاتی ہے۔
لہٰذا ہمیں قرآن کو صرف پڑھنے کی نہیں بلکہ اپنی زندگی کا عملی دستور بنانے کی
ضرورت ہے، کیونکہ یہی راستہ دنیاوی عزت اور اخروی فلاح دونوں کی ضمانت ہے۔
الله
تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami