پیارے پیارے اسلامی بھائیو ہمارا دین کیا ہی خوبصورت دین ہے جس میں انسان کے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کے حقوق بیان کیے گئے ہیں دین اسلام میں انسان کے اول سے لے کر آخر تک کے حقوق بیان کیے گئے ہیں ان میں سے ایک حق مجلس کے حقوق ہیں آپ کے سامنے چند حقوق ذکر کرتا ہوں۔

(1)اس مجلس کو اختیار کرو :حضرت علقمہ عطاردی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے بیٹے! جب تمہیں لوگوں کی مجلس اختیار کرنا پڑے تو ایسے آدمی کی صحبت اختیار کر کہ جب تو ا س کی خدمت کرے تو وہ تیری حفاظت کرے،اگر تو ا س کی مجلس اختیار کرے تو وہ تجھے زینت دے،اگر تجھے کوئی مشقت پیش آئے تو وہ برداشت کرے، اس آدمی کی صحبت اختیار کر کہ جب تو بھلائی کے ساتھ اپناہاتھ پھیلائے تو وہ بھی اسے پھیلائے،اگر وہ تم میں کوئی اچھائی دیکھے تو اسے شمار کرے اور اگر برائی دیکھے تو اسے روکے۔اس آدمی سے دوستی اختیار کر کہ جب تو ا س سے مانگے تو وہ تجھے دے اور اگر خاموش رہے تو خود بخود دے،اگر تجھے کوئی پریشانی لاحق ہو تو وہ غمخواری کرے۔اُس آدمی کی صحبت اختیار کرو کہ جب تم بات کہو تو وہ تمہاری بات کی تصدیق کرے ،اگر تم کسی کام کا ارادہ کرو تو وہ اچھا مشورہ دے اور اگر تم دونوں میں اختلاف ہو جائے تو وہ تمہاری بات کو ترجیح دے۔(احیاء علوم الدین، کتاب آداب الالفۃ والاخوۃ۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۱۴)

(2)مجلس میں جگہ دو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(سورت المجادلہ 58 آیت 11)

(3) کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھاو : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مَا سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود ا س کی جگہ پر نہ بیٹھے۔( مسلم،کتاب السلام،باب تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ المباح الذی سبق الیہ،ص۱۱۹۸،الحدیث:۲۷(۲۱۷۷))

(4)کسی کو جگہ سےنہ اٹھانا : مجلس کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں کہ اہم حضرات کیلئے نمایا ں جگہ بنادی جائے جیسے دینی و دُنْیَوی دونوں قسم کی مجلسوں میں سرکردہ حضرات کواسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کیلئے زیادہ قریب بیٹھیں ۔ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’تم میں سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں انہیں میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے ،پھر جو ان کے قریب ہوں ،پھر جو ان کے قریب ہوں ۔( ابو داؤد ، کتاب الصلاۃ، باب من یستحبّ ان یلی الامام فی الصفّ وکراہیۃ التأخّر، ۱ / ۲۶۷، الحدیث: ۶۷۴)

(5)اہل علم کی مجلس :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،سیّد المرسَلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جن سے تم علم حاصل کرتے ہوان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے تواضع اختیار کرو اور سرکَش عالِم نہ بنو۔( الجامع لاخلاق الراوی، باب توقیر المحدّث طلبۃ العلم۔۔۔ الخ، تواضعہ لہم، ص۲۳۰، الحدیث: ۸۰۲)