محمد
علی عطاری ( درجہ سادسہ مرکزی
جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
باہم
بیٹھنا انسانوں کی عمومی ضرورت ہے کبھی انسان گھر والوں کے درمیان بیٹھتا ہے کبھی
بیوی بچوں کے درمیان کبھی دوستوں کے درمیان کبھی نیک محافل کے درمیان بیٹھتا ہے یاد
رہے جس طرح والدین کے حقوق و آداب ہیں بیوی کے حقوق و آداب ہیں اسی طرح مجلس کے بھی
حقوق و آداب ہیں ۔
مجلس
کے آداب اور مجلس کے حقوق :یہاں مجلس کے 10 آداب ذکر کئے
جا رہے ہیں۔
(1)
جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائے :صحابہ
کرام کا بھی یہی طریقہ کار تھا جب وہ حضور ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے تو جہاں
جگہ ملتی وہاں ہی بیٹھ جاتے تھے : عَنْ
جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:كُنَّا اِذَا اَتَيْنَا
النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ اَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِيْ ترجمہ:حضرت سَیِّدُناجابر بن
سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور
تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں
جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث
نمبر:827)
پیارے
اسلامی بھائیو! ہم جب کسی اجتماع یا محفل
میں شرکت کرتے ہیں تو ہماری کوشش یہ ہوتی ہے ہم سب سے آگے بیٹھیں ہمیں عزت دی جائے
جبکہ صحابہ کرام کی آپ ﷺ نے اس انداز سے
تربیت فرمائی تھی کہ جہاں جگہ ملتی ہے صحابہ وہیں بیٹھ جاتے لوگوں کی گردنیں
پھلانگ کر آگے نہیں جاتے تھے ہم بھی صحابہ کرام کے اس عمل سے درس حاصل کریں جب بھی
کسی مجلس میں حاضری ہو تو جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جانا چاہیے اگر لوگوں کی گردنیں
پھلانگ کے آگے جائیں گے تو اس میں سب کی حق تلفی ہو گی۔
مدنی گلدستہ ’’ عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ
مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مجلس میں آنے والا شخص وہاں بیٹھے جہاں مجلس ختم
ہورہی ہو۔
(2) ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے صحابہ کو مجلس میں بیٹھنے کے
آداب بھی بتائے۔
(3) مجلس میں بیٹھے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے
جانا بُرا ہے۔
(4) حضورنبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین نہ
فرماتےاور دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے۔
(5) حضورنبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو
مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرمایا
کرتے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مجلس کے آداب پر عمل پیرا
ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ عَلَیْہ وَ سَلّم
(2)
کسی کی بات نہ کاٹے ۔
(3)
مجلس میں فضول باتوں سے بچے مثلًا کسی کی
غیبت نہ کرے چغلی نہ کرے بہتان و تہمت نہ لگائے ۔
(4)
چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں پر رحم کرے ۔
(5)
جب بولنے کا موقع ملے تو موقع کی مناسبت
سے نیکی کی دعوت بھی دے ۔
(6)
کسی کو برائی کرتا دیکھے تو اس کی اصلاح
بھی کرے ۔
(7) مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی کرے اور
جہاں حضور ﷺ کا نام لیا جائے تو درود پاک پاک بھی پڑھے ۔
جس
مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا جاتا اس کی احادیث
مبارکہ میں وعیدیں آئی ہیں ۔
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ عَنِ
النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا
لَمْ يَذْكُرُوا اللهَ تَعَالَى فِيْهِ وَلَمْ يُصَلُّوْا عَلَى نَبِيِّهِمْ
فِيْهِ اِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةٌ فَاِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَاِنْ شَاءَ
غَفَرَ لَهُمْ.
ترجمہ
:حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے
کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو
قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی
اور نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود
پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔(فیضان ریاض
الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:836 )
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ قَالَ:قَالَ
رَسُوْلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُوْمُوْنَ مِنْ
مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُوْنَ اللهَ تَعَالٰى فِيْهِ اِلَّا قَامُوْا عَنْ مِثْلِ
جِيْفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً.
حضرت
سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکرکئے بغیرمجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار
گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اوریہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“ (کتاب:فیضان
ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:835 )
(8)
دو لوگوں کے درمیان نہ بیٹھے
ممکن
ہے وہ دونوں آپس میں محبت کرتے ہوں اور جدائی برداشت نہ کرتے ہوں اگر ان سے
اجازت لے کر بیٹھے تو اس کی میں کوئی حرج
نہیں۔
پیارے
اسلامی بھائیو! آپ نے مجلس کے چند آداب
پڑھے!ہمیں بھی چاہیے کہ جب ہم کسی دینی یا دنیاوی مجلس میں حاضر ہوں تو مجلس کے
آداب کا خیال رکھا جائے یا اپنے گھر میں ہی بیوی بچوں کے درمیان یا والدین کے درمیان
یا دوستوں کے درمیان یا اپنے کلاس فیلوز کے درمیان ہوں تو مجلس کے آداب کا لحاظ
رکھا جائے ان کی بات نہ کاٹی جائے جب مجلس میں داخل ہو تو سلام کیا جائے اور بری
باتوں سے بچا جائے غیبت چغلی تہمت و بہتان سب سے بچا جائے اور خاص طور پر مذاق
مسخری سے بچا جائے کہ اس سے دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے انسان کا وقار کم ہو جاتا
ہے جو زیادہ مذاق مسخری کرتا ہے اس کی بات کی اتنی وُقّت رہتی نہیں فی زمانہ مذہبی
لوگوں سے بہت لوگ دور ہیں تو خاص طور پر انہیں چاہیے کہ اپنا اخلاق کردار ایسا
بنائیں کہ لوگ ان کے قریب آئیں سنتیں اپنائیں اپنے اخلاقوں کے کردار کو سنواریں
سنجیدگی اختیار کریں مذاق مسخری سے بچیں کسی سے ملے تو اسلام میں پہل کریں مجلس میں
حاضر ہوں تو مجلس کے آداب کا لحاظ رکھیں کسی پر طعن نہ کریں کہ لوگ ان کو نوٹ
کرتے ہیں اگر یہ مجلس کے آداب کا لحاظ نہیں رکھیں گے تو لوگ پھر ان پر طعن کریں
گے اس لیے انہیں چاہیے کہ جب بھی مجلس میں حاضر ہو تو یہ مجلس کے آداب کا لحاظ
رکھیں کہ لوگ ان سے سیکھتے ہیں اگر یہ مجلس کے آداب کا لحاظ کریں گے وہاں پر نیکی کی دعوت دیں گے مذاق مسخری سے بچیں گے سنجیدگی
اپنائیں گے تو لوگ بھی ان کے قریب آئیں گے ان کی باتیں سنیں گے لوگ اپنی اولاد کو
بھی ان کے پاس بھیجے گے اس طرح لوگ دین کے زیادہ قریب آئیں گے اللہ پاک ہم سب کو
مجلس کے آداب کا لحاظ رکھنے والا اچھی صحبت اختیار کرنے والا اور بری صحبت سے
بچنے والا بنائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
اجودرضا
(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان حسنین کریمین کھوکھر روڈ لاہور ، پاکستان)
دنیا
میں بہت سے مذہب پائے جاتے ہیں لیکن خالص دین صرف اور صرف اسلام ہے دین اسلام کا
حسن اور ایک خوبی یہ بھی ہے کی دینِ اسلام ایک مکمل دین ہے یہ ہر چیز میں ہماری
رہنمائی کرتا ہے ۔یہاں تک کہ انسان کی پیدائش سے لے کر وفات کے بعد باعزت دفنانے
تک بھی رہنمائی کرتا ہے۔
(1)
بندے کی زندگی کا اہم ترین حصہ یہ بھی ہے کہ انسان لوگوں میں بیٹھنا بہت پسند کرتا
ہے ۔تو دین اسلام یہاں پر بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ وہ ہمیں مجلس کے حقوق
بتاتا ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا
فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ
اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ
کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ
تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان
والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے
کاموں کی خبر ہے۔( پاره 28 سوره المجادلہ آیت نمبر 11)
اس آیت کریمہ میں واضح طور پر مجلس کے حقوق بیان
کئے جا رہے ہیں کہ مجلس کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ مجلس کے دوران جب کوئی
شخص آجائے بلخصوص وہ شخص آجائے جو علم و عمل کے اعتبار سے اعلیٰ ہو تو مجلس میں
اسے جگہ دی جائے اگر مجلس میں جگہ نہ ہو تو خود کھڑے ہو کر اسے اپنی جگہ پہ بٹھا دیا
جائے ۔
اسی
طرح مجلس کے آداب احادیث میں بھی بیان کئے گئے ہیں ایک حدیثِ پاک ملاحظہ ہو ۔
(2)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ
النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهٰى أَحَدُكُمْ
إِلٰى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهٗ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ
إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولٰى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
ترجمہ:
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے فرمایا جب تم میں سے کوئی
کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے پھر جب کھڑا ہو
تو پھر سلام کرے کیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ۔(ترمذی اورابوداؤد)
(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6
, حدیث نمبر:4660)
اس
حدیثِ مبارکہ میں بھی مجلس کا ایک ضروری ادب بیان کیا گیا ہے کہ مجلس میں بیٹھتے
اور اٹھتے ہوئے سلام کرنا چاہیے ۔ اسی طرح ایک اور حدیث پاک ملاحظہ ہو:
(3) عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ
رَسُوْلَ للهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنْ
مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلَيْهِ فَهُوَ اَحَقُّ بِهِ ترجمہ:
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم
رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے
اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی
اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔“(کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:826)
اس حدیثِ پاک میں بھی مجلس کا ایک ادب بیان کیا
گیا ہے ۔
اسی
طرح ایک اور روایت ہے:
(4)
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم
کے پاس آتے تو ہم میں سے ہر ایک وہاں بیٹھتا جہاں مجلس ختم ہوتی ۔(کتاب:مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4729)
اس
میں بھی ذکر کیا گیا کہ جب مجلس میں جائیں تو جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائیں لوگوں
کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے نہ جائیں ۔
اسی طرح ایک اور حدیث پاک ملاحظہ ہو جس میں مجلس
کے آداب بیان کئیے گئے ہیں ۔
5)
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجلسیں
امانت والی ہوتی ہیں سواء تین مجلسوں کے
حرام خون بہانے کی یا حرام شرم گاہ کی یا ناحق مال مارنے کی مجلسیں ۔ (مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:5063)
اس
حدیثِ پاک کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی جب کوئی خاص
مجلس
یا میٹنگ کی جاوے وہاں جو کچھ طے ہو اسے مشتہر نہ کرو بلکہ صیغہ راز میں رکھو کہ
وہاں جو کچھ پاس ہوا وہ امانت ہے۔
یعنی اگر کسی مجلس خصوصی میں کسی گناہ کا،کسی کی
حق تلفی کا،کسی پرظلم کرنے کا مشورہ کیا گیا تو اسے نہ چھپائے بلکہ مظلوم کو فورًا
خبر دیدے کہ تو بچے رہنا تیرے متعلق یہ مشورہ ہو رہا ہے اگر چھپائے گا تو گنہگار
ہوگا۔
ماشاءاللہ یہ حدیثِ پاک مجلس کے آداب بیان کرنے
میں شاہکار ہے اسی طرح اور بھی کثیر احادیث اور بزرگانِ دین کے اقوال مجلس کے آداب
میں پیش کئے جا سکتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں مجلس کے آداب کا لحاظ رکھنے کی توفیق
عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم ۔
محمد
عثمان (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ حسنین کریمین، کھوکھر روڈ
لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو ہمیں زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی دیتا ہے۔ انسان جب
دوسروں کے ساتھ بیٹھتا ہے تو ایک مجلس بنتی ہے۔ مجلس صرف بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ یہ
ایک موقع ہوتا ہے کہ مسلمان آپس میں علم، نیکی، محبت اور خیر خواہی کی بات کریں۔
اگر مجلس کے آداب اور حقوق کو نظر انداز کیا جائے تو وہاں فائدہ کے بجائے نقصان ہو
سکتا ہے، اس لیے دینِ اسلام نے ہمیں مجلس کے خاص آداب سکھائے ہیں۔
اللہ
تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ
تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ
انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ
الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ
ترجمہ
کنزالایمان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کشادہ کر دو تو
کشادہ کر دیا کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی کرے گا، اور جب کہا جائے اٹھ جاؤ تو اٹھ
جاؤ۔ اللہ ایمان والوں اور علم والوں کے درجے بلند کرتا ہے۔ (سورۃ المجادلہ: 11)
یہ
آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مجلس میں دوسروں کے لیے جگہ بنانا اور حکم ماننا ایمان
والوں کی شان ہے۔
احادیث مبارکہ:
رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:"لا يحل لرجل أن يفرق
بين اثنين إلا بإذنهما"(سنن ابی داؤد، حدیث: 4845)
یعنی:
کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ
جائے۔
اس
حدیث سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ دوسروں کی مجلس میں زبردستی گھسنا اور ان کو تکلیف
دینا منع ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کا لحاظ کرے تاکہ محبت اور بھائی چارہ
قائم رہے۔
نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:"إِذَا قَامَ
أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ"(صحیح
مسلم، حدیث: 2179)
یعنی:
جب کوئی اپنی جگہ سے اٹھے اور پھر واپس آئے تو وہ اپنی پہلی جگہ کا زیادہ حق دار
ہے۔
اس
سے پتا چلتا ہے کہ اگر کوئی وقتی طور پر اپنی نشست چھوڑ دے تو اس کی جگہ پر قبضہ
نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لوٹنے پر اسے ہی وہ جگہ دینی چاہیے۔ یہ انصاف اور بھائی
چارے کا تقاضا ہے۔
اسلامی
معاشرت اور مجلس کا کردار:اسلام ایک مکمل دین ہے جو ہمیں
زندگی کے ہر معاملے میں رہنمائی دیتا ہے۔ اگر مسلمان اپنی مجالس کو قرآن و سنت کے
مطابق گزاریں تو معاشرے میں سکون اور محبت پھیل سکتی ہے۔ مجلس کے حقوق کا خیال
رکھنے سے لوگ قریب ہوتے ہیں اور دلوں میں بھائی چارہ بڑھتا ہے۔ مسلمان کی مجلس ایسی
ہونی چاہیے کہ لوگ وہاں بیٹھ کر خوش ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔
محمد
شاہ زیب سلیم عطّاری (درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
انسان
تنہا زندگی نہیں گزار سکتا ۔ اسی فطری میل جول کی بنیاد پر وہ مختلف مواقع پر
لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے۔ یعنی کسی بھی قسم کی بیٹھک یا مجلس، جہاں لوگ اکھٹے ہوں۔
مجلس صرف گفتگو کا موقع نہیں بلکہ ادب، اخلاق، رازداری اور باہمی احترام کا مظہر
بھی ہے۔ دینِ اسلام نے مجالس کے آداب اور اس کے حقوق کو نہایت اہمیت دی ہے تاکہ
معاشرے میں حسنِ سلوک، امن، اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔ آئیے چند حقوق
پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
(1) دوسروں کو جگہ دینا :اللہ
عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے ۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ
تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو جب تم سے
کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا ۔ (پارہ 28،سورۃ المجادلہ ،آیت11)
آیت مبارکہ سے پتہ چلا کہ مجلس میں دوسروں کا خیال
رکھنا چاہیے اور انہیں جگہ دینی چاہیے۔
2)سلام کرنا :مجلس
کا ایک حق سلام کرنا بھی ہے جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے : وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ
عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهٰى
أَحَدُكُمْ إِلٰى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهٗ أَنْ يَجْلِسَ
فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولٰى بِأَحَقَّ
مِنَ الْآخِرَةِ۔ روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جب تم میں سے
کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے
پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرےکیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں۔(
مشکوٰۃ المصابیح,باب السلام ،ج2 , حدیث نمبر:4660)
(3) آہستہ بولنا :مجلس
میں چیخ کر نہیں بولنا چاہیے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو اس لیے آہستہ آواز سے بات
کرنی چاہیے تاکہ لوگ آپ کی بات کو اہمیت دیں۔
(4)مذاق نہ اُڑانا :مجلس
میں ہر شخص کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے چاہے وہ عمر میں چھوٹا ہو یا بڑا ہو
کسی کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے یہ بھی مجلس کا حق ہے ۔
(5) راز کو فاش نہ کرنا:جب بھی
مجلس میں بیٹھنے کا موقع ملے تو اس میں بہت ہی اچھے انداز سے گفتگو کرنی چاہیے اور
کسی کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہیے ۔
آج کل معاشرے میں مجلس کے حقوق میں کسی کو
کوئی دلچسپی نہیں ہے جس کا دل چاہتا ہے وہ مجلس میں دوسرے کے دل کو دکھا دیتا ہے
اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس مضمون کو ذہن میں رکھتے ہوئے زندگی گزاریں اور مجلس کے
حقوق کو صحیح معنوں میں ادا کریں۔
عبدالرحمن
عطاری مدنی (تخصص فی اللغۃ العربیۃ فیضان مدینہ کاہنہ نو
لاہور ، پاکستان)
انسانی زندگی اکیلے گزارنے کے بجائے باہم میل جول اور تعلقات کی
مرہونِ منت ہے۔ انسان جب دوسروں کے ساتھ بیٹھتا ہے تو اس مجلس سے یا تو نفع حاصل
کرتا ہے یا نقصان۔ اسی لیے اسلام نے مجالس کے بھی حقوق اور آداب مقرر فرمائے تاکہ
یہ نشستیں خیر و برکت کا ذریعہ بنیں۔ اگر مجلس میں شریعت کے بتائے ہوئے اصول
اپنائے جائیں تو وہ تعلیم، تربیت، محبت اور خیرخواہی کا مرکز بن جاتی ہے۔
قرآنِ
مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ
ترجمہ
کنزالعرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ
کشادہ کردو۔(سورۃ المجادلہ: 11)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب لوگ باہم مل بیٹھیں تو دوسروں کو
جگہ دینے میں کشادگی پیدا کریں۔ مجلس کا حق یہ ہے کہ اس میں تنگی، بدتمیزی یا خود
غرضی نہ ہو بلکہ اخوت، محبت اور تعاون جھلکے۔ یہی وہ اصول ہے جو مجلس کو خیر و
برکت اور تربیت کا مرکز بنا دیتا ہے۔
آئیے اللہ پاک اور اسکے آخری نبیﷺ کی رضا حاصل کرنے اور علم دین
حاصل کرنے کی نیت سے مجلس کے 10 حقوق جانتے ہیں۔
سلام
کے ساتھ مجلس میں آنا:نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ ترجمہ:جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے۔(الترمذی:2706)
جگہ
سے کسی کو نہ اٹھانا:نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ
يَجْلِسُ فِيهِ ترجمہ:کوئی
شخص اپنے بھائی کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ نہ بیٹھ جائے۔(الترمذی:2749)
نیکی
اور خیرخواہی کی بات کرنا:نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ
الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ .
ترجمہ:
کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر (اسے راز میں رکھنے کے لیے) دائیں بائیں
مڑ کر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے ۔(الترمذی:1959)
آدابِ
مجلس کا خیال رکھنا:
مجلس میں کسی کو تنگ نہ کیا جائے، اونچی آواز سے بات نہ کی
جائے، بیٹھنے کا سلیقہ رکھا جائے۔
اسلام
نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ باہم مل بیٹھنے کا مقصد محض وقت گزاری نہیں بلکہ
خیرخواہی، علم، محبت اور باہمی تعاون ہونا چاہیے۔ قرآن و حدیث میں بیان کردہ مجالس
کے حقوق اور آداب اپنانے سے معاشرتی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور دلوں میں سکون و
محبت پیدا ہوتی ہے۔ آج کے دور میں، چاہے گھر ہو یا دفتر، یا مسجد و مدرسہ، اگر ہم
مجلس کے حقوق کا خیال رکھیں تو معاشرہ امن، ادب اور خیر و برکت کا گہوارہ بن جائے
گا۔
عبداللہ
خان (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
انسان
ایک معاشرتی مخلوق ہے، جو دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے، بات چیت کرنے اور خیالات
کا تبادلہ کرنے میں سکون پاتا ہے۔ اسی میل جول کا ایک مظہر "مجلس" ہے،
جہاں افراد جمع ہو کر گفتگو کرتے ہیں، سیکھتے ہیں، سکھاتے ہیں، اور تعلقات کو
مضبوط کرتے ہیں۔ اسلام نے نہ صرف مجلس کے آداب سکھائے، بلکہ اس کے حقوق بھی واضح کیے
تاکہ ایسی محفلیں خیر، ادب، علم، اور اخلاق کا نمونہ بنیں۔
1.
سلام کر کے داخل ہونا: مجلس میں آتے وقت
سلام کہنا۔
2.
اجازت لے کر بیٹھنا : محفل میں بیٹھنے سے پہلے اجازت لینا ادب ہے۔
3.
کسی کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھنا : بغیر اجازت کسی کی جگہ لینا منع ہے۔
4.
نرمی سے بات کرنا : آواز پست رکھنا اور
نرم لہجہ اختیار کرنا چاہیے۔
5.
کسی کی بات نہ کاٹنا : بولتے وقت مداخلت
کرنا بدتمیزی ہے۔
6.
نجی بات کو باہر نہ نکالنا: مجلس کی بات
کو "امانت" سمجھ کر رکھنا چاہیے۔
7.
غیبت و چغلی سے پرہیز: ایسی باتوں سے مجلس
بے برکت ہو جاتی ہے۔
8.
فضول گوئی سے بچنا : صرف مفید، علمی، دینی
یا اصلاحی گفتگو کرنا بہتر ہے۔
9.
مجلس میں کشادگی کرنا : نئے آنے والوں کے
لیے جگہ بنانا سنت ہے۔
10.
کسی کو شرمندہ نہ کرنا : سوال یا بات پر
مذاق نہ اُڑانا۔
11.
بزرگوں کا احترام: مجلس میں بزرگوں کو عزت
دینا ضروری ہے۔
12.
علمی مجلس خاموشی سے سننا: واعظ یا عالم کی
بات ادب سے سننا چاہیے۔
13.
جھگڑا یا بحث نہ کرنا مجلس کو لڑائی کی جگہ نہ بنایا جائے۔
14.
وقت کا لحاظ رکھنا دیر تک بیٹھ کر دوسروں کو تنگ نہ کیا جائے۔
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مجلس کے اداب سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
بلال منظور (درجہ سابعہ جامعۃالمدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
اسلام
نے اپنے ماننے والوں کی ہر طرح سے راہنمائی فرمائی ہے،مجلس میں بیٹھنے والے کے
آداب بھی ذکر کیے ہیں تاکہ ہمارا چلنا پھرنا اور اٹھنا بیٹھنا اسلام کے اصولوں کے
مطابق ہو۔
اسی
ضمن میں 5 احادیثِ مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں ۔
(1)جب
کوئی مجلس تک پہنچے:وَعَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ
بَدَا لَهٗ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ
فَلَيْسَتِ الْأُولٰى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ
دَاوُدَ
روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جب تم میں سے
کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے پھر جب کھڑا
ہو تو پھر سلام کرےکیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ۔(مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح ،الفصل الثانی،جلد 6،ص 266، الحدیث 4453،مکتبہ اسلامیہ)
(2)
لوٹنے والا اپنی جگہ کا زیادہ حقدار ہے:عَنْ
اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ للهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلَيْهِ
فَهُوَ اَحَقُّ بِهِ حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی
شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔“(فیضانِ
ریاض الصالحین،جلد 6،ص358, الحدیث 826، مکتبہ المدینۃالعلمیہ)
(3)
حسرت والی مجلس:عَنْ
اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُوْمُوْنَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُوْنَ اللهَ
تَعَالٰى فِيْهِ اِلَّا قَامُوْا عَنْ مِثْلِ جِيْفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً.
حضرت
سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکرکئے بغیرمجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار
گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اوریہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“(فیضانِ ریاض
الصالحین، جلد 6, ص 379، الحدیث 835، مکتبہ المدینۃالعلمیہ)
(4)
بہترین مجلس کونسی ہے:عَنْ اَبِي
سَعِيْدٍالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خَيْرُ الْمَجَالِسِ اَوْسَعُهَا.حضرت
سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی
کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ
فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔“ (فیضانِ ریاض الصالحین، جلد6، ص371،
الحدیث 831، مکتبہ المدینۃالعلمیہ)
(5)مجلس
میں وسعت اور کشادگی پیدا کریں:عَنِ ابنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’لَايُقِيْمَنَّ اَحَدُكُمْ رَجُلًا
مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيْهِ وَلٰكِنْ تَوَسَّعُوْا وَتَفَسَّحُوْا.‘‘ وَكَانَ
ابْنُ عُمَرَ اِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَجِلسْ فِيْهِ
حضرت
سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں
سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیداکرو ۔“(راوی
کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔(فیضانِ
ریاض الصالحین، جلد 6، ص 357، الحدیث 825،مکتبہ المدینۃالعلمیہ)
اللہ
تبارک و تعالیٰ ہمیں صالحین کی مجلس اور مجلس کی تعزیم و تکریم کو ملحوظِ خاطر
رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین بجاہ
النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
حافظ
محمد ابو بکر ( درجہ ثالثہ جامعۃُ المدینہ
شاہ عالم مارکیٹ لاہور ، پاکستان)
مجلس
سے مراد وہ نشست یا محفل ہے جہاں لوگ گفتگو، مشورہ یا ذکرِ الٰہی کے لیے جمع ہوں۔ یہ
محفل چاہے دینی ہو یا دنیاوی، اسلام نے اس کے آداب و حقوق واضح کیے ہیں تاکہ ہر
فرد کا احترام اور ماحول کی پاکیزگی قائم رہے۔
مجلس
کے بنیادی حقوق:(۱) اجازت
اور خوش اخلاقی
(۱) جگہ کشادہ کرنا:قرآنی دلیل:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا
فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ
اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا
جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے
ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے
بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(سورۃ المجادلہ 11)
نبی
ﷺ نے بھی فرمایا کہ مجلس میں بیٹھنے والوں کو جگہ دینے والا شخص اللہ کی رحمت پاتا
ہے۔
(۴) نجی گفتگو اور راز داری:حدیث:
نبی ﷺ نے فرمایا:"جب تین آدمی ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں،
کیونکہ اس سے اسے رنج پہنچے گا" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
مجلس
میں کسی کی با کو بغیر اجازت باہر بیان کرنا خیانت ہے۔
(۵) ذکرِ الٰہی اور دعائے اختتام:حدیث:
رسول اللہ ﷺ محفل ختم کرتے ہوئے یہ دعا پڑھتے: سُبْحَانَكَ اللّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ
إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ۔(سنن
ابوداؤد)
مطلب:
محفل میں اگر کوئی لغو بات ہوئی ہو تو یہ دعا کفارہ ہے۔
3.
مزید آداب و ہدایات
بڑوں
کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت۔
بیکارباتوں
، غیبت اور جھوٹ سے پرہیز۔
کسی
کی بات کاٹنا یا شور شرابہ نہ کرنا۔
نشست
میں دائیں طرف بیٹھنے کو ترجیح دینا (سنت کے مطابق)۔
اسلام
میں ہر مجلس کو عبادت یا کم از کم احترام کا درجہ دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث اس کے لیے
واضح اصول بتاتے ہیں:
اجازت
لے کر داخل ہونا
دوسروں
کے لیے جگہ بنانا
تکلیف
دہ عادات سے بچنا
راز
داری قائم رکھنا
یہ
آداب نہ صرف دینی محفل بلکہ دنیاوی ملاقاتوں میں بھی اپنانے چاہئیں تاکہ معاشرتی
زندگی خوشگوار اور بابرکت ہو۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عمل کی توفیق عطاء
فرمائے ۔اٰمین
اسلام
ایک ایسا مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے، چاہے وہ
عبادات ہوں یا معاملات، خلوت ہو یا جلوت، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی۔ معاشرتی
آداب اور دوسروں کے حقوق کا لحاظ اسلام کا خاص امتیاز ہے۔ انہی معاشرتی اصولوں میں
سے ایک اہم اصول "مجلس کے آداب و حقوق" ہیں۔
مجالس،
یعنی محافل اور بیٹھکیں، انسان کے اخلاق، علم، تربیت اور کردار پر گہرا اثر ڈالتی
ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو سکھایا کہ مجلس میں کس طرح بیٹھنا چاہیے، کس کو
پہلے سلام کرنا ہے، گفتگو کیسے کرنی ہے، اور کیسے اپنے الفاظ، اشاروں اور طرزِ عمل
سے دوسروں کا دل نہ دکھایا جائے اس حوالے سے پانچ احادیث کا ملاحظہ کرتے ہیں۔
(1)
کشادگی کا حکم :حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی
دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور
وُسعت پیداکرو ۔“(راوی کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو
آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد 6 صفحہ نمبر 825 مکتبہ مدینہ)
(2)
زیادہ حقدار کون :حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی
شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔(فیضان
ریاض الصالحین جلد 6 صفحہ نمبر 826)
(3)
نبی کریم ﷺ کا مجلس میں بیٹھنے کا انداز:حضرت
سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم
جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں
جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔“(فیضان ریاض الصالحین جلد 6صفحہ نمبر
228)
محمد
اسامہ عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انسان
چونکہ سماجی مخلوق ہے، اس لیے مختلف مواقع پر لوگوں کے ساتھ مجالس میں بیٹھنا، بات
چیت کرنا، سیکھنا اور سکھانا اس کی فطرت کا حصہ ہے۔ ایسی محفلوں میں حسنِ اخلاق، ادب،
اور ذمہ داری کے ساتھ شریک ہونا دینِ اسلام کی تعلیمات کا اہم جزو ہے۔ یہی وجہ ہے
کہ شریعت نے "مجلس کے حقوق" مقرر فرمائے ہیں تاکہ معاشرہ باہمی محبت،
عزت اور نظم و ضبط سے بھرپور ہو۔آئیے چند مجلس کے حقوق پڑھتے ہیں :
(1)سلام
کرنا:مجلس میں داخل ہوتے وقت سلام
کرنا سنت ہے۔ جیسا کہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
حضرت
سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی
کسی مجلس میں پہنچے توسلام کرے پھر جب وہاں سے اٹھے تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلی
مرتبہ کا سلام دوسری مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں۔“ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین
جلد:6 , حدیث نمبر:869)
(2)
جگہ بنانا اور خوش اخلاقی:اگر مجلس میں تنگی ہو تو دوسروں
کے لیے جگہ بنانا ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ قرآن میں ہے: ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان
والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب
کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو
علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(سورۃ
المجادلہ آیت نمبر11 پارہ 28)
(3)مجلس
میں ہوئی گفتگو کو بطور امانت راز رکھنا:روایت ہے حضرت جابر سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجلسیں امانت والی ہوتی ہیں
۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ،حدیث نمبر:5063)
(4)سب
کی عزت اور برابری:مجلس میں موجود تمام افراد کو عزت دینا، ان کی بات کو
توجہ سے سننا، اور کسی کی تضحیک یا تحقیر نہ کرنا مجلس کا اہم ادب ہے۔
(5)
کسی کو شرمندہ نہ کرنا:اگر کسی سے غلطی ہو جائے تو اس پر مجلس میں تنقید نہ کی
جائے، بلکہ انفرادی طور پر نرمی سے سمجھایا جائے۔
(6)
علمی مجلس کی توقیر:اگر مجلس علمی ہو تو مکمل خاموشی، ادب، اور توجہ کے ساتھ
شریک ہونا چاہیے۔ سوالات مہذب انداز میں کیے جائیں۔
(7)
وقت کی پابندی اور نظم و ضبط:مجلس میں بروقت آنا، غیر ضروری
مداخلت سے گریز کرنا، اور بات چیت میں توازن رکھنا اہم آداب میں شامل ہے۔
(8)
مجلس کا ماحول خوشگوار بنانا:لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ لانا،
مناسب انداز میں بات کرنا، اور مجلس کو علمی، مفید اور بامقصد بنانا مجلس کی شان
ہے۔
اسلام
نے نہ صرف عبادات بلکہ معاشرتی معاملات میں بھی بہترین راہنمائی فراہم کی ہے۔ مجلس
کے آداب پر عمل کر کے ہم اپنی مجالس کو محبت، علم، اور سکون کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔
ایک مہذب اور مؤدب مجلس نہ صرف دینی تعلیمات کی عکاس ہوتی ہے بلکہ ایک مثالی اسلامی
معاشرے کی بنیاد بھی بنتی ہے۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں مجالس کے آداب کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے، اور دوسروں تک ان کی ترغیب
پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
علی
اکبر مہروی ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
دین
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے دین اسلام میں جس طرح والدین اولاد اور بیوی کے حقوق
کی ادائیگی کا حکم دیا اسی طرح دین اسلام نے مجلس کے حقوق کو بھی بیان فرمایا اور
ان پر عمل کرنے کی تاکید اور ادائیگی کی صورت میں فضائل بھی بیان فرمائے آئیے ہم
مجلس کے چند حقوق مطالعہ فرماتے ہیں اور ان پر عمل کی نیت بھی کرتے ہیں اللہ پاک
ہمیں ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔
1۔اللہ
عزوجل کی طرف سے ندامت:حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا:”جو کسی مجلس میں بیٹھےاور
اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے
لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حسرت وخسارہ ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور ذِکرِ
الٰہی نہ کرے تو اس کے لیے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ندامت ہوگی۔“ (
ابوداود٫کتاب الادب،باب کراھیۃان یقوم الرجل ،من مجلسی ولا یذکر اللہ 347٫،حدیث
48526)
2:
مجلس میں کشادگی پیدا کرو:حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی
دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور
وُسعت پیداکرو ۔ (مسلم، کتاب السلام ،باب تحریم اقامۃالانسان من موضعہ ــالخ،ص924, حدیث:5686)
3:
کشادہ مجلس:حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے
جو کشادہ ہو ۔“( ابوداود، کتاب الادب،باب فی سعۃالمجلس،338،حدیث:482)
4:
مجلس والوں کو سلام کرنا :حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی
کسی مجلس میں پہنچے توسلام کرے پھر جب وہاں سے اٹھے تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلی
مرتبہ کا سلام دوسری مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں۔“ (ترمذی، کتاب الاسنئذان
والاداب،باب ماجاءفی التسلیم عند القیام وعندالقعود،4/324, حدیث:2715)
5:ندامت
والی مجلس :حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی
ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاک
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود
پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“(ترمذی ،کتاب
الدعوات ،باب فی القوم یجلسون ولا یذکر ون اللہ ،5/247،حدیث:3391)
اللہ پاک ہمیں مجلس کے حقوق کا خیال رکھنے اور
ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
عبداللہ رضوی (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک ایسا دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اٹھنے بیٹھنے، بات چیت کرنے اور دوسروں کے
ساتھ تعلقات قائم کرنے کے اصول بھی قرآن و سنت میں واضح کیے گئے ہیں۔ انہی اصولوں
میں سے ایک اہم پہلو مجلس کے حقوق ہیں۔
1.
مجلس میں کشادگی کرنا:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ
ترجمہ
کنزالایمان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ
کرو، اللہ تمہیں کشادگی دے گا۔(سورۃ المجادلہ، آیت 11)
2.
سلام سے مجلس کا آغاز اور اختتام : رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا "جب تم کسی مجلس میں آؤ تو سلام کرو اور جب اٹھو تو بھی
سلام کرو۔"(ترمذی شریف)
3.
مجلس کی حفاظت:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب کوئی شخص مجلس میں بیٹھے
اور فضول کلام کرے، پھر کہے: "سبحانك
اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك"
تو یہ مجلس اس کے لیے کفارہ ہو جائے گی۔"(ابو داؤد)
4.
مجلس میں دوسروں کو تنگ نہ کرنا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان
وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔(بخاری و مسلم)
5.
مجلس کے شرکاء کو یکساں سمجھنارسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب تین آدمی آپس میں بات کر رہے ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ
کریں، کیونکہ اس سے وہ غمگین ہوگا۔(بخاری و مسلم)
مجلس
کے چند بنیادی حقوق
1.
مجلس میں آنے والوں کو سلام کرنا۔
2.
مجلس میں بیٹھنے کے لیے جگہ بنانا۔
3.
بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت۔
4.
مجلس میں فضول کلام اور شور سے اجتناب۔
5.
دوسروں کی غیبت، مذاق یا دل آزاری سے بچنا۔
6.
گفتگو میں سب کو برابر کا حق دینا۔
7.
مجلس کے بھید کو ظاہر نہ کرنا
8.
مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سلام کرنا۔
اسلام
نے ہمیں جہاں عبادات سکھائی ہیں وہیں معاشرتی آداب بھی سکھائے ہیں۔ مجلس کے حقوق کی
پاسداری کرنے سے محبت، اتحاد اور اخوت قائم رہتی ہے۔ قرآن و سنت میں جو اصول بیان
کیے گئے ہیں ان پر عمل کر کے ہم اپنی مجالس کو خیر و برکت اور سکون کا ذریعہ بنا
سکتے ہیں۔
Dawateislami