محمد
عثمان (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ حسنین کریمین، کھوکھر روڈ
لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو ہمیں زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی دیتا ہے۔ انسان جب
دوسروں کے ساتھ بیٹھتا ہے تو ایک مجلس بنتی ہے۔ مجلس صرف بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ یہ
ایک موقع ہوتا ہے کہ مسلمان آپس میں علم، نیکی، محبت اور خیر خواہی کی بات کریں۔
اگر مجلس کے آداب اور حقوق کو نظر انداز کیا جائے تو وہاں فائدہ کے بجائے نقصان ہو
سکتا ہے، اس لیے دینِ اسلام نے ہمیں مجلس کے خاص آداب سکھائے ہیں۔
اللہ
تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ
تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ
انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ
الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ
ترجمہ
کنزالایمان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کشادہ کر دو تو
کشادہ کر دیا کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی کرے گا، اور جب کہا جائے اٹھ جاؤ تو اٹھ
جاؤ۔ اللہ ایمان والوں اور علم والوں کے درجے بلند کرتا ہے۔ (سورۃ المجادلہ: 11)
یہ
آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مجلس میں دوسروں کے لیے جگہ بنانا اور حکم ماننا ایمان
والوں کی شان ہے۔
احادیث مبارکہ:
رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:"لا يحل لرجل أن يفرق
بين اثنين إلا بإذنهما"(سنن ابی داؤد، حدیث: 4845)
یعنی:
کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ
جائے۔
اس
حدیث سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ دوسروں کی مجلس میں زبردستی گھسنا اور ان کو تکلیف
دینا منع ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کا لحاظ کرے تاکہ محبت اور بھائی چارہ
قائم رہے۔
نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:"إِذَا قَامَ
أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ"(صحیح
مسلم، حدیث: 2179)
یعنی:
جب کوئی اپنی جگہ سے اٹھے اور پھر واپس آئے تو وہ اپنی پہلی جگہ کا زیادہ حق دار
ہے۔
اس
سے پتا چلتا ہے کہ اگر کوئی وقتی طور پر اپنی نشست چھوڑ دے تو اس کی جگہ پر قبضہ
نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لوٹنے پر اسے ہی وہ جگہ دینی چاہیے۔ یہ انصاف اور بھائی
چارے کا تقاضا ہے۔
اسلامی
معاشرت اور مجلس کا کردار:اسلام ایک مکمل دین ہے جو ہمیں
زندگی کے ہر معاملے میں رہنمائی دیتا ہے۔ اگر مسلمان اپنی مجالس کو قرآن و سنت کے
مطابق گزاریں تو معاشرے میں سکون اور محبت پھیل سکتی ہے۔ مجلس کے حقوق کا خیال
رکھنے سے لوگ قریب ہوتے ہیں اور دلوں میں بھائی چارہ بڑھتا ہے۔ مسلمان کی مجلس ایسی
ہونی چاہیے کہ لوگ وہاں بیٹھ کر خوش ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔
Dawateislami