محمد
بلال منظور (درجہ سابعہ جامعۃالمدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
اسلام
نے اپنے ماننے والوں کی ہر طرح سے راہنمائی فرمائی ہے،مجلس میں بیٹھنے والے کے
آداب بھی ذکر کیے ہیں تاکہ ہمارا چلنا پھرنا اور اٹھنا بیٹھنا اسلام کے اصولوں کے
مطابق ہو۔
اسی
ضمن میں 5 احادیثِ مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں ۔
(1)جب
کوئی مجلس تک پہنچے:وَعَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ
بَدَا لَهٗ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ
فَلَيْسَتِ الْأُولٰى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ
دَاوُدَ
روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جب تم میں سے
کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے پھر جب کھڑا
ہو تو پھر سلام کرےکیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ۔(مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح ،الفصل الثانی،جلد 6،ص 266، الحدیث 4453،مکتبہ اسلامیہ)
(2)
لوٹنے والا اپنی جگہ کا زیادہ حقدار ہے:عَنْ
اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ للهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلَيْهِ
فَهُوَ اَحَقُّ بِهِ حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی
شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔“(فیضانِ
ریاض الصالحین،جلد 6،ص358, الحدیث 826، مکتبہ المدینۃالعلمیہ)
(3)
حسرت والی مجلس:عَنْ
اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُوْمُوْنَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُوْنَ اللهَ
تَعَالٰى فِيْهِ اِلَّا قَامُوْا عَنْ مِثْلِ جِيْفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً.
حضرت
سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکرکئے بغیرمجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار
گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اوریہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“(فیضانِ ریاض
الصالحین، جلد 6, ص 379، الحدیث 835، مکتبہ المدینۃالعلمیہ)
(4)
بہترین مجلس کونسی ہے:عَنْ اَبِي
سَعِيْدٍالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خَيْرُ الْمَجَالِسِ اَوْسَعُهَا.حضرت
سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی
کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ
فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔“ (فیضانِ ریاض الصالحین، جلد6، ص371،
الحدیث 831، مکتبہ المدینۃالعلمیہ)
(5)مجلس
میں وسعت اور کشادگی پیدا کریں:عَنِ ابنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’لَايُقِيْمَنَّ اَحَدُكُمْ رَجُلًا
مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيْهِ وَلٰكِنْ تَوَسَّعُوْا وَتَفَسَّحُوْا.‘‘ وَكَانَ
ابْنُ عُمَرَ اِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَجِلسْ فِيْهِ
حضرت
سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں
سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیداکرو ۔“(راوی
کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔(فیضانِ
ریاض الصالحین، جلد 6، ص 357، الحدیث 825،مکتبہ المدینۃالعلمیہ)
اللہ
تبارک و تعالیٰ ہمیں صالحین کی مجلس اور مجلس کی تعزیم و تکریم کو ملحوظِ خاطر
رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین بجاہ
النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
Dawateislami