محمد
شاہ زیب سلیم عطّاری (درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
انسان
تنہا زندگی نہیں گزار سکتا ۔ اسی فطری میل جول کی بنیاد پر وہ مختلف مواقع پر
لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے۔ یعنی کسی بھی قسم کی بیٹھک یا مجلس، جہاں لوگ اکھٹے ہوں۔
مجلس صرف گفتگو کا موقع نہیں بلکہ ادب، اخلاق، رازداری اور باہمی احترام کا مظہر
بھی ہے۔ دینِ اسلام نے مجالس کے آداب اور اس کے حقوق کو نہایت اہمیت دی ہے تاکہ
معاشرے میں حسنِ سلوک، امن، اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔ آئیے چند حقوق
پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
(1) دوسروں کو جگہ دینا :اللہ
عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے ۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ
تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو جب تم سے
کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا ۔ (پارہ 28،سورۃ المجادلہ ،آیت11)
آیت مبارکہ سے پتہ چلا کہ مجلس میں دوسروں کا خیال
رکھنا چاہیے اور انہیں جگہ دینی چاہیے۔
2)سلام کرنا :مجلس
کا ایک حق سلام کرنا بھی ہے جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے : وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ
عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهٰى
أَحَدُكُمْ إِلٰى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهٗ أَنْ يَجْلِسَ
فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولٰى بِأَحَقَّ
مِنَ الْآخِرَةِ۔ روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جب تم میں سے
کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے
پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرےکیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں۔(
مشکوٰۃ المصابیح,باب السلام ،ج2 , حدیث نمبر:4660)
(3) آہستہ بولنا :مجلس
میں چیخ کر نہیں بولنا چاہیے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو اس لیے آہستہ آواز سے بات
کرنی چاہیے تاکہ لوگ آپ کی بات کو اہمیت دیں۔
(4)مذاق نہ اُڑانا :مجلس
میں ہر شخص کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے چاہے وہ عمر میں چھوٹا ہو یا بڑا ہو
کسی کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے یہ بھی مجلس کا حق ہے ۔
(5) راز کو فاش نہ کرنا:جب بھی
مجلس میں بیٹھنے کا موقع ملے تو اس میں بہت ہی اچھے انداز سے گفتگو کرنی چاہیے اور
کسی کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہیے ۔
آج کل معاشرے میں مجلس کے حقوق میں کسی کو
کوئی دلچسپی نہیں ہے جس کا دل چاہتا ہے وہ مجلس میں دوسرے کے دل کو دکھا دیتا ہے
اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس مضمون کو ذہن میں رکھتے ہوئے زندگی گزاریں اور مجلس کے
حقوق کو صحیح معنوں میں ادا کریں۔
Dawateislami