اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے، چاہے وہ عبادات ہوں یا معاملات، خلوت ہو یا جلوت، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی۔ معاشرتی آداب اور دوسروں کے حقوق کا لحاظ اسلام کا خاص امتیاز ہے۔ انہی معاشرتی اصولوں میں سے ایک اہم اصول "مجلس کے آداب و حقوق" ہیں۔

مجالس، یعنی محافل اور بیٹھکیں، انسان کے اخلاق، علم، تربیت اور کردار پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو سکھایا کہ مجلس میں کس طرح بیٹھنا چاہیے، کس کو پہلے سلام کرنا ہے، گفتگو کیسے کرنی ہے، اور کیسے اپنے الفاظ، اشاروں اور طرزِ عمل سے دوسروں کا دل نہ دکھایا جائے اس حوالے سے پانچ احادیث کا ملاحظہ کرتے ہیں۔

(1) کشادگی کا حکم :حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیداکرو ۔“(راوی کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد 6 صفحہ نمبر 825 مکتبہ مدینہ)

(2) زیادہ حقدار کون :حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد 6 صفحہ نمبر 826)

(3) نبی کریم ﷺ کا مجلس میں بیٹھنے کا انداز:حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔“(فیضان ریاض الصالحین جلد 6صفحہ نمبر 228)