دین اسلام جس طرح معاشی زندگی گزارنے کے حصول و ضوابط بیان کرتا ہے ایسے ہی معاشرتی زندگی میں بہتری کے طریقے بھی بیان کرتا ہے ان میں سے ایک مجلس کے حقوق کے  بھی ہیں حضور ﷺ نے مجلس کی اہمیت بیان فرمائی ہے آئیے چند حقوق مجلس کے بارے میں ملاحظہ فرمائیے۔

(1)ایک شخص نے حضرت حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ کی خدمت میں دل کی سختی کی شکایت کی توآپ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا : ذکر کی مجلسوں میں حاضر ہوا کرو۔ ( احیاء العلوم ، جلد1 صفحہ نمبر 460)

(2)حضرت عون بن عبداللہ بن عتبہ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا : میں مالداروں کی مجلسوں میں بیٹھتا تھا تو میں ہمیشہ غمگین رہتاتھا کیونکہ میں اپنے کپڑوں سے زیادہ اچھے کپڑے دیکھتااور اپنی سواری سے اچھی سواری دیکھتا تھا جب میں نے فُقرا کی صحبت اختیار کی تو آرام محسوس کیا۔(احیاء العلوم جلد 2 صفحہ نمبر 853)

(3)حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جو قوم کسی مجلس میں بیٹھے پھر اُس میں نہ اللہ پاک کا ذِکر کرے اور نہ ہی اُس کے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر دُرُود پاک پڑھے تو قیامت کے دن وہ مجلس ان کے لئے باعثِ حسرت ہوگی۔پھر اگراللہ پاک چاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو انہیں بخش دے۔(ترمذی جلد 5 صفحہ نمبر 247 حدیث نمبر 3391)

(4)حضرت سعید بن مسیَب رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو مسجد میں بیٹھتا ہے گویا وہ اللہ پاک کی مجلس میں بیٹھتا ہے لہٰذا اسے بھلائی کے سوا کوئی اور بات نہیں کرنی چاہئے۔(احیاء العلوم جلد 1 صفحہ نمبر 207)

اللہ پاک ہم سب کو ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


ہمارا دین اسلام ہے جو ہمیں ہر چیز کے حقوق سکھاتا ہے جن میں مجلس کے حقوق بھی شامل ہیں ہمیں مجلس میں کس طرح اٹھنا چاہیے ،بیٹھنا چاہیے، مجلس میں کس طرح گفتگو کرنی چاہیے آئیے قران و حدیث کی روشنی میں مجلس کہ متعلق جانتے ہیں:

1.حضرت جابر بن سمرہ نے فرمایا جب نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو آتا وہ آخر میں بیٹھ جاتا ۔(سنن ابی داؤد کتاب الدب باب فی اتحاق الحدیث 4725ج4ص339)

2.جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر واپس جلد لوٹ کر آئے تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ مستحق ہے ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب اذاقام الرجل من مجلس ثم رجع الحدیث (4735ج4ص346)

3.اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں سر کوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات اس کو رنج پہنچائے گی ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی التناجی الحدیث 4751ج4ص346)

ان احادیث کریمہ میں جو تعلیمات بیان ہوئی ہیں جو حقوق بیان ہوئے ہیں ہمیں چاہیے ان پر عمل کریں اور دونوں جہاں کی برکتیں سعادتیں حاصل کریں اللہ تعالی ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو فرد کیساتھ ساتھ معاشرتی زندگی کے اصول بھی سکھاتا ہے۔ انسان جب دوسروں کے ساتھ بیٹھتا ہے تو اس کو مجلس کہتے ہیں۔ شریعت نے مجلس کے بھی آداب اور حقوق بیان کیے ہیں تاکہ محبت، عزت اور سکون قائم رہے۔ آئیے آج ہم مجلس کے حقوق کے بارے بارے میں سیکھتے ہیں۔

مجلس میں جگہ دو : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (المجادلۃ: 11)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ،‏‏‏‏ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَةَ بْنَ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ ديِنَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هَاشِمٍ،‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ بِأَخَرَةٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ مِنَ الْمَجْلِسِ:‏‏‏‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكَ لَتَقُولُ قَوْلًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا مَضَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ

ترجمہ:ابوبرزہ اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے: سبحانک اللهم وبحمدک أشهد أن لا إله بس ادھر إلا أنت أستغفرک وأتوب إليك تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: یہ کفارہ ہے ان (لغزشوں) کا جو مجلس میں ہوجاتی ہیں ۔ (سنن ابوداؤد،کتاب: ادب کا بیان،باب: مجلس میں کیے ہوئے صغارہ کا کفارہ،حدیث نمبر: 4859)

مذکورہ آیت اور حدیث سے ہم نے یہ جانا کہ جب مجلس میں جائیں تو جگہ دینی چاہیے اور مجلس سے اٹھنے کی دعا پڑھنی چاہیے اللہ تعالی ہمیں مجلس کے حقوق جاننے ،عمل کرنے اور دوسرے مسلمانوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔


دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس دین نے ہماری ہر معاملے میں رہنمائی اور تربیت فرمائی ہے اور ہر چیز کے حقوق کو آداب بھی بتائے ہیں یہاں تک کہ مجلس کے حقوق و آداب بھی بتائے ہیں مجلس میں حاضر ہوتے وقت تمام آداب کا لحاظ رکھنے کے بارے میں بھی مکمل تلقین کی ہے جس سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو ہم دوسروں کو تنگ نہ کریں ۔مجلس کے حقوق درج ذیل ہیں:

مجلس میں بیٹھنے کے آداب:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو آخر میں آتا وہ آخر میں بیٹھ جاتا تھا۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی التحلق حدیث نمبر 4825 صفحہ 339 جلد4)

مجلس میں بات کرنے کے اداب:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں مجلس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات اس کو رنج پہنچ جائے گی۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی التناجی حدیث نمبر 4851 جلد4 صفحہ 346)

مجلس کی اقسام:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجلس کی تین قسمیں ہیں:

1- غانم وہ مجلس ہے جس میں اللہ تعالی کا ذکر ہو۔

2-سالم وہ مجلس ہے جس میں خاموشی ہو یعنی بے ہدا اور خلاف شرع بات نہ ہو۔

3-شاجب وہ مجلس ہے جس میں باطل بحثیں ہوں۔(کنز الاعمال کتاب الصحیہ قسم الاول حدیث نمبر25446 جلد9 صفحہ 63)

ہمیں چاہیے کہ ہم مجلس کے حقوق کا بھرپور خیال رکھیں اور اس طرح جب بھی مجلس خیر میں جائیں تو وہاں پر کسی کو بھی تکلیف نہ پہنچائیں اور ان کے تمام اصول و ضابط کو مد نظر رکھیں اس طرح ہم دوسروں کو تکلیف دینے سے بچ سکتے ہیں اور مجلس کے حقوق کو بھی اسلامی طریقے سے ادا کرے گے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مجلس کے حقوق و اداب کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو احسن طریقے سے سنوارتا ہے۔ انسانی اجتماعیت میں مجالس (محفلیں، نشستیں) ایک خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہی وہ حلقے ہیں جہاں خیالات کا تبادلہ، تعلیم و تعلم، مشاورت اور آپس میں اُنس و محبت پروان چڑھتی ہے۔ قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ میں مجالس کے آداب اور ان کے حقوق پر بارہا تاکید کی گئی ہے تاکہ یہ محفلیں خیر و برکت، اخوت و اتحاد اور نیکی کے فروغ کا ذریعہ بنیں نہ کہ گناہ، غیبت، لغو باتوں یا کسی کی دل آزاری کا سبب۔

ہر مجلس میں اللہ پاک کا ذکر کرو: جو لوگ مجلس سے اُٹھ جائیں اور اس میں اللہ تعالی کا ذکر نہ کریں، تو وہ ایسے اٹھے جیسے گدھے کی لاش اور وہ (مجلس) ان پر (قیامت کے دن ) حسرت ( کا باث ) ہوگی ۔ (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب كراهية ان يقوم الرجل من مجلسہ ولا يذكر الله الحديث : ٠٤٨٥٥ ج ٠٤ ص ٣٤٧)

ایک مجلس میں کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے: کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے۔(سنن ابی داود، کتاب الادب، باب في الرجل يجلس بين الرجلين بغير اذنهما، الحديث |٤٨٤٤-٤٨٤٥، ج ٤ ، ص ٣٤٤)

اسلام نے مجالس کے حقوق و آداب واضح کر دیے ہیں تاکہ ہر مسلمان اپنی نشست و برخاست میں عدل، انصاف، احترام اور بھائی چارے کو ملحوظ رکھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی مجالس کو ایسی محفلوں میں بدلیں جو رحمتِ الٰہی کو جذب کرنے والی ہوں اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کا ذریعہ بنیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ مجلس کے حقوق کی پاسداری دراصل اسلام کے اخلاقی و سماجی نظام کی روح ہے، اور ان کی رعایت ہر مسلمان کے لیے باعثِ عزت، کامیابی اور قربِ الٰہی کا وسیلہ ہے۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو نظم و ضبط میں لاتا ہے۔ انسان کی سوسائٹی میں زندگی گزارنے کے آداب بھی اسلام نے واضح کیے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم پہلو "مجلس" یعنی کسی محفل یا مجلس میں بیٹھنے کے آداب و حقوق ہیں۔ قرآن و حدیث میں بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان اپنی گفتگو، نشست و برخاست، اور برتاؤ میں حسنِ اخلاق، عزت و احترام اور عدل و مساوات کو ملحوظ رکھے۔ آئیے ہم مجلس کے حقوق کے بارے میں جانتے ہیں ۔

1. سلام سے آغاز: جب کوئی مجلس میں داخل ہو تو سب سے پہلے سلام کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ سلام امن و محبت کا پیغام ہے، اور اس سے مجلس میں خیر و برکت آتی ہے۔

2. اجازت سے بیٹھنا: مجلس میں داخل ہوتے ہی بغیر اجازت یا جلد بازی میں کسی خاص جگہ پر نہ بیٹھے۔ اگر پہلے سے لوگ موجود ہوں تو خالی جگہ تلاش کرے، یا اجازت طلب کرے۔

3. بات چیت میں اخلاق: مجلس میں گفتگو کرتے وقت نرمی، سچائی اور اچھے الفاظ کا استعمال کیا جائے۔ طعن و تشنیع، جھوٹ، چغلی یا غیبت سے پرہیز کرنا چاہیے۔

4. بس غور سننا: اگر کوئی بات ہو رہی ہو تو اسے توجہ سے سننا چاہیے۔ کسی کی بات کاٹنا یا خود کو زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش کرنا مجلس کے آداب کے خلاف ہے۔

آئیے ہم اور کتابوں سے جانتے ہیں مختلف اقوال مندرجہ ذیل ہیں:

(1) کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور اس کی خوشنودی کے لئے وہ لوگ جگہ میں وسعت کر دیں تو اللہ تعالی رح ہے (اس معنی میں کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ایسا کرے یں ہیں کہ الہ تعالی پر واجب وضروی ہو کیونکہ ال عال ہے نیا ہے اور طرح کی مناتی ہے منزہ و میرا ہے ) کہ ان کو راضی کرے۔ (كنز العمال، كتاب الصحۃ قسم الأقوال، حق المجالس والحلوى الحديث ، ٢٥٣٧، ٩ ص ٥٨) (ترجمہ غلط)

(2) کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت ہے۔ اور دوسری کے روایت میں ہے کہ کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی ) اجازت کے جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے۔(سنن ابی داود کتاب الادب، باب في الرجل يجلس بين الرحلين بغير اذنهما، الحديث: ٤٨٤٤ - ٤٨٤٥، ج ٤ ، ص ٣٤٤)

(3) جب تم بیٹھو تو اپنے جوتے اتار لو تمہارے قدم آرام پائیں گے۔ (کنز العمال، كتاب الصحبة، قسم الأقوال، حق المجالس والجلوس، الحديث : ٠٢٥٣٩٠ ج ۹، ص ٥٩)

(4) جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر وہ واپس لوٹ کر آئے (یعنی جب کہ جلد ہی لوٹ آئے ) تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ حق و حقدار ہے۔ (سنن ابی داود کتاب الادب، باب اذا قام الرجل من مجلس ثم رجع، الحديث ٤٨٥٣، ج 4، ص ٣٤٦)

مجلس کے آداب اور حقوق کی رعایت ایک مہذب اور اخلاقی معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔ جو قومیں ان اصولوں کو اپناتی ہیں، وہاں محبت، ادب، اتحاد اور حسنِ سلوک کو فروغ ملتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی مجالس کو علم، ادب، ذکر اور خیر سے بھر دیں۔دعا ہے اللہ ہمیں اپنی مجالس کو باادب، باوقار اور بامقصد بنانے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں نبی ﷺ کے اخلاق و آداب پر عمل پیرا ہونے والا بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔


اسلام دین فطرت ہے جو انسان کو معاشرتی زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی دیتا ہے۔ چونکہ انسان دوسروں سے بھی میل جول رکھتا ہے اور مجالس میں بھی جاتا ہے اس لیے مجالس کے بھی کچھ آداب و حقوق مقرر کیے گئے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔

(1)کسی کو اس کی جگہ سے نہ اُٹھانا :حضور اقدس صلی اللہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائے ۔(صحیح مسلم صفحہ 923 ، حدیث 5683)

(2)مرتبہ کے مطابق بیٹھاتا :حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے حضور پرنور ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ لوگوں کو ان کے مرتبے اور منصب کے مطابق بٹھاؤ۔(ابو داؤد جلد 4 صفحہ 343 حدیث 4842)

(3) آنے والے کو جگہ دینا:قرآن پاک میں اللہ تعالٰی نے فرمایا : ترجمہ : اے ایمان والو!جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کروه کردو الله تمہارے لیے جگہ کشادہ فرمادے گا۔

(پارہ 28 سورة المجادلة آيت 11 )

(4) سلام کرنا :مجلس میں داخل ہونے وقت اور نکلتے وقت سلام کرنا رسول الله صلی الہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تو سلام کرے اور اُٹھے تو بھی سلام کرے پہلا سلام آخری سلام سے زیادہ حق دار نہیں ہے۔(ترمذی، حدیث 2706)

(5)مجلس کی امانت داری:جو بات مجلس میں ہو وہ باہر نہ پھیلائی جائے یہ امانت ہے۔ رسول الله صلی اللہ وسلم نے فرمایا مجالس امانت ہیں سوائے اس مجلس کے جس میں گناہ یا ظلم کی بات ہو۔(ابو داؤد حدیث 4869)


اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی زندگی کے آداب و حقوق بھی واضح کرتا ہے۔ انسان چونکہ ایک معاشرتی مخلوق ہے، اس لیے اس کی زندگی میں مجالس کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسلام نے مجلس کو محض وقت گزاری یا گفتگو کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اس کے آداب، مقاصد اور حقوق بھی متعین کیے تاکہ ایک پرامن، بااخلاق اور باادب ماحول قائم ہو۔

قرآن و حدیث میں مجالس کے آداب اور ان میں بیٹھنے، بولنے، سننے اور دوسروں کے احترام کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ میں بھی مجالس کے آداب کی تعلیمات موجود ہیں،اسلامی معاشرے کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد مجالس کے حقوق و آداب کو سمجھے اور ان پر عمل کرے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ ( المجادلہ؛ 58 : آیت 11)

1. سلام کرنا: مجلس میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا اور اجازت لینا۔

2. جگہ دینا: اگر کوئی مجلس میں شامل ہونا چاہے تو اسے جگہ دینا، ایثار کا مظاہرہ کرنا ۔

3. بغیر اجازت نہ بیٹھنا: کسی کی مخصوص جگہ پر یا بیچ میں بغیر اجازت بیٹھنا ۔

4. غیر ضروری مداخلت نہ کرنا: جب دو افراد بات کر رہے ہوں تو بیچ میں نہ کودیں، اور گفتگو میں دخل نہ دیں۔

5. رازداری کا احترام: مجلس میں کی گئی باتوں کو باہر بیان کرنا خیانت ہے، خاص طور پر اگر وہ بات رازدارانہ ہو۔

6. فضول گوئی سے پرہیز: مجلس میں بے مقصد، لغو یا دل آزاری والی گفتگو سے بچنا چاہیے۔

7. کسی کی توہین یا مذاق نہ اڑانا: اسلام کسی کا مذاق اُڑانے یا حقیر سمجھنے سے منع کرتا ہے۔

8. بات کو غور سے سننا: اگر کوئی بات کر رہا ہو تو درمیان میں نہ بولیں، اور توجہ سے سنیں۔

9. سلام اور دعا کے ساتھ رخصت ہونا: مجلس سے جانے سے پہلے سلام کہنا بھی سنت ہے۔

10. ترتیب اور صفائی کا خیال: مجلس کا ماحول صاف، باوقار اور باادب ہونا چاہیے۔

یہ آداب نہ صرف ایک مہذب اور اسلامی معاشرے کی پہچان ہیں، بلکہ ان پر عمل کر کے ہم ایک خوبصورت، بااخلاق اور پرامن ماحول قائم کر سکتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ انسان چونکہ ایک سماجی مخلوق ہے، اس لیے اسے دوسروں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور میل جول کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انہی تعلقات میں مجالس کو خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں لوگ مل بیٹھ کر بات چیت کرتے، مسائل کا حل ڈھونڈتے اور ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دینِ اسلام نے مجالس کے بھی کچھ آداب اور حقوق مقرر فرمائے ہیں تاکہ یہ نشستیں خیر و برکت کا ذریعہ بنیں اور کسی کے لیے تکلیف یا نقصان کا سبب نہ ہوں۔ رسول اکرم ﷺ نے مجالس میں بیٹھنے، گفتگو کرنے اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک برتنے کے جو اصول عطا فرمائے وہ نہ صرف اخلاقی تربیت کا اعلیٰ نمونہ ہیں بلکہ معاشرتی سکون اور باہمی محبت کے ضامن بھی ہیں۔

آئیے اس کے متعلق چند حدیث مبارکہ ملاحظہ ہوں:

ترجمہ: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو آتا وہ آخر میں بیٹھ جاتا۔ (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب في التحلق، الحديث : ٤٨٢٥ ، ج ٤ ، ص ٣٣٩) ۳۸)

ترجمہ:مسلمان کا مسلمان پر ( یہ ) حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لئے سرک جائے ۔ (یعنی مجلس میں آنے والے اسلامی بھائی کے لئے ادھر ادھر کچھ سرک کر جگہ بنادے کہ وہ اس میں بیٹھ جائے۔) (شعب الإيمان باب في مقاربة.. الخ فصل في قيام المرء لصاحبه الحديث ٠٨٩٣٣-١٦ ص ٤٦٨)

اسلام نے جہاں انفرادی زندگی کے اصول بیان کیے ہیں، وہیں اجتماعی زندگی کے بھی واضح ضابطے مقرر فرمائے ہیں۔ مجالس کے آداب اور حقوق اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں۔ اگر ہر شخص مجالس میں بیٹھنے اور گفتگو کرنے کے وہی اصول اپنائے جو رسول اکرم ﷺ نے ہمیں سکھائے ہیں تو معاشرہ باہمی عزت، محبت اور خیر خواہی کا گہوارہ بن جائے۔ مجلس دراصل دلوں کو جوڑنے اور علم و نیکی کو پھیلانے کا ذریعہ ہے، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان حقوق کا پاس کرے اور اپنی مجالس کو ذکرِ خیر، ادب اور خیر خواہی سے مزین کرے۔ یہی حقیقی اسلامی معاشرت کی روح ہے۔


(1)حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:827 )

(2)حضرت سَیِّدُناعَمر وبن شُعَیْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے ۔“ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے :” دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے ۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:829)

(3)حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831 )

(4)حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکرکئے بغیرمجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اوریہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:835)


ایک معاشرے میں رہتے ہوئے انسان پر ہر لحاظ سے خوب جو ہے وہ ادا کرنا لازم ہوتے ہیں ہوم والدین کے حقوق کو بہنوں کے حقوق ہوں بھائیوں کے حقوق ہوں رشتہ داروں کے حقوق ہوں ہمسایوں کے حقوق ہوں پڑوسیوں کے حقوق ہوں چاہے جانوروں کے حقوق ہوں پودوں کے نباتات کے جمادات کے چاہے جس کے بھی حقوق ہوں وہ انسان پر ادا کرنا ضروری ہے اور اسی سے ایک معاشرہ مستقل طور پر پروان چڑھتا ہے اور اسی طرح اپنے ساتھ ہم نشین کے حقوق دوست کے حقوق اپنے پاس بیٹھنے والوں کے حقوق اور اسی طرح مجلس کے حقوق بھی ایک معاشرے پائے جاتے ہیں۔ آئیے مجلس کے حقوق کے بارے میں قران پاک فرامین مصطفی  ﷺ اور بزرگان دین کی زندگیوں میں سے سبق حاصل کرتے ہیں:

قران پاک میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(پارہ:28 المجادلہ آیت نمبر:11)

اسی طرح اللہ کے آخری نبی محمد عربی رسول ہاشمی مکی مدنی ﷺ نے احادیث مبارکہ میں بھی مجلس کے حقوق کے بارے میں تربیت فرمائی چنانچہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:

1:اللہ تعالی کا ذکر کرنا:مجلس کا ایک حق یہ بھی ہے کہ مجلس کے اندر اللہ تبارک و تعالی کا ذکر کیا جائے چنانچہ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو لوگ مجلس سے اٹھ جائیں اور اس میں اللہ تعالی کا ذکر نہ کریں تو وہ ایسے اٹھے جیسے گدھے کی لاش اور وہ مجلس ان پر قیامت کے دن حسرت کا باعث ہوگی ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب کراہیۃ انیقوم الرجل من مجلسہ ولا یذکر اللّہ حدیث نمبر: 4855 جلد: 4ص نمبر: 347)

2:مجلس کو مزین کرو:اللہ کے آخری نبی محمد عربی رسول ہاشمی مکی مدنی ﷺ نے فرمایا :"تم اپنی مجلس کو مجھ پر درود پڑھ کر مزین کرو کیونکہ تم تمہارا مجھ پر درود پڑھنا تمہارے لیے قیامت کے دن نور ہوگا" (فردوس الاخبار جلد نمبر:1 حدیث نمبر: 3149 ص نمبر: 422)

3:مجلس میں آنے والے کے لیے جگہ چھوڑنا:مجلس میں نئے بندے کے آنے سے جگہ چھوڑنا یہ بھی مجلس کا حق ہے چنانچہ اس کو اللہ تعالی کے آخری نبی ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا: "مسلمان کا مسلمان پر یہ حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے" (یعنی مجلس میں انے والے اسلامی بھائی کے لیے ادھر ادھر کچھ سرک کر جگہ بنا دے کہ وہ اس میں بیٹھ جائے)(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب: فی التناجی حدیث نمبر: 4851جلد نمبر:4 ص نمبر:346)

4:مجلس میں درود پاک پڑھنا:اللہ کے محبوب دانائے غیوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ پر درود نہیں پڑھتے تو ان پر حسد کا باعث ہوگی اگرچہ جنت میں داخل ہو جائیں ( درود نہ پڑھنے پر حسرت ہوگی) جس وقت وہ (درود پڑھنے کی )جزا دیکھیں گے۔ (شعب الایمان باب :فی تعظیم النبی والہ وتوقیرہ حدیث نمبر: 2541جلد نمبر :9ص نمبر: 60)

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ اوپر بیان کیا قران پاک سے احادیث مبارکہ سے مجلس کے حقوق کے بارے میں ہم نے پڑھا اللہ تعالی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کو اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ 


اسلام انسان کی زندگی کے ہر گوشے کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ صرف نماز، روزہ یا زکوٰۃ تک محدود نہیں بلکہ انسان کی معاشرتی اور سماجی زندگی کے ہر پہلو کو سنوارتا ہے۔ اسی میں ایک نہایت اہم پہلو مجالس ہیں۔ مجالس دراصل انسان کے میل جول، گفتگو اور تعلقات کا مرکز ہیں۔ انسان اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کے ساتھ بیٹھنے اور گفتگو کرنے میں گزارتا ہے، اسی لیے اسلام نے مجالس کے لیے نہایت حسین اور حکیمانہ آداب مقرر فرمائے ہیں تاکہ معاشرہ سکون، محبت اور ادب کی خوشبو سے معطر ہو۔

مجلس میں داخلے کا ادب:اسلامی معاشرہ باہمی محبت اور اعتماد پر قائم ہے۔ مجلس میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا محض زبان کی حرکت نہیں بلکہ دلوں کے درمیان محبت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ سلام دراصل دعائے خیر ہے جو ہر مسلمان کو اپنے بھائی کے لیے کرنی چاہیے۔ اسی طرح اجازت لے کر داخل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ دوسروں کی نجی زندگی کا احترام کیا جا رہا ہے۔ ایک مسلمان کی شخصیت اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے جب وہ دوسروں کے حقوق کی پاسداری کرے۔

بیٹھنے کا حق اور عزتِ نفس:کسی مجلس میں بیٹھنا محض جگہ گھیرنے کا نام نہیں بلکہ یہ دوسروں کے احترام اور اپنی تہذیب کی پہچان ہے۔ مجلس میں کسی کو بے ادبی کے ساتھ جگہ سے اٹھا دینا یا زبردستی بیٹھ جانا اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔ ہر فرد کی عزتِ نفس ہے اور اسلام اس عزت کی حفاظت چاہتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس بات کو واضح کیا کہ کسی کو اپنی جگہ سے ہٹا کر وہاں بیٹھنا درست نہیں۔ اس تعلیم سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دوسروں کے وقار کو قائم رکھنا ہی اصل انسانیت ہے۔

مجلس میں ذکرِ الٰہی:اسلامی مجالس کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے۔ وہ محفلیں جہاں رب کا ذکر ہو، فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور ان پر رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ لیکن وہ محفلیں جہاں اللہ کا ذکر نہ ہو، وہ بے روح جسم کی مانند ہوتی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو لوگ کسی مجلس سے اٹھتے ہیں اور وہاں اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتے تو وہ گدھے کی لاش کے پاس بیٹھنے والوں کی طرح ہیں اور قیامت کے دن وہ محفل ان کے لیے حسرت کا باعث بنے گی۔(سنن ابی داود، کتاب الأدب، حدیث: 4855، ج 4، ص 347)

وسعت دینا اور ایثار کا جذبہ:اسلامی معاشرہ ایثار اور محبت پر قائم ہے۔ مجلس میں بیٹھنے کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ اگر کوئی نیا آنے والا شریک ہو تو لوگ اس کے لیے جگہ کشادہ کر دیں۔ یہ عمل محض ظاہری سہولت نہیں بلکہ دل کی وسعت اور محبت کی علامت ہے۔ حدیث میں فرمایا گیا کہ جب کوئی قوم کسی آنے والے کے لیے جگہ میں وسعت کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان پر راضی ہوتا ہے۔(کنز العمال، کتاب الصحبة، حدیث: 25379، ج 9، ص 58)

مجلس کی دعا اور کفارہ:ہر انسان سے بات چیت کے دوران کچھ لغزشیں ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے اسلام نے مجلس کے خاتمے پر ایک دعا سکھائی ہے جو ان لغزشوں کا کفارہ بن جاتی ہے:"سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ"جو شخص یہ دعا پڑھتا ہے، اس کی مجلس کی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں۔(سنن ابی داود، کتاب الأدب، حدیث: 4857، ج 4، ص 347)

اسلامی مجالس صرف دنیاوی میل جول کا نام نہیں بلکہ یہ اصلاح، محبت اور ذکرِ الٰہی کے مراکز ہیں۔ اگر ان میں آداب کی پاسداری ہو تو یہ ایمان کو بڑھانے، دلوں کو جوڑنے اور معاشرے کو بہتر بنانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ لیکن اگر ان آداب کو نظر انداز کیا جائے تو یہی محفلیں حسرت و ندامت کا سبب بن جاتی ہیں۔لہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مجلس کے حقوق پہچانے، اپنے عمل سے دوسروں کے لیے سکون کا ذریعہ بنے اور اپنی زبان، دل اور نشست و برخاست کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سنوارے۔ یہی وہ روشنی ہے جو معاشرے کو اندھیروں سے نکال کر خیر و برکت کی طرف لے جاتی ہے۔