اسلام
ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی
رہنمائی کرتا ہے۔ انسان چونکہ ایک سماجی مخلوق ہے، اس لیے اسے دوسروں کے ساتھ
اٹھنے بیٹھنے اور میل جول کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انہی تعلقات میں مجالس کو خاص اہمیت
حاصل ہے، جہاں لوگ مل بیٹھ کر بات چیت کرتے، مسائل کا حل ڈھونڈتے اور ایک دوسرے سے
فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دینِ اسلام نے مجالس کے بھی کچھ آداب اور حقوق مقرر فرمائے ہیں
تاکہ یہ نشستیں خیر و برکت کا ذریعہ بنیں اور کسی کے لیے تکلیف یا نقصان کا سبب نہ
ہوں۔ رسول اکرم ﷺ نے مجالس میں بیٹھنے، گفتگو کرنے اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک
برتنے کے جو اصول عطا فرمائے وہ نہ صرف اخلاقی تربیت کا اعلیٰ نمونہ ہیں بلکہ
معاشرتی سکون اور باہمی محبت کے ضامن بھی ہیں۔
آئیے
اس کے متعلق چند حدیث مبارکہ ملاحظہ ہوں:
ترجمہ:
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو آتا
وہ آخر میں بیٹھ جاتا۔ (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب في التحلق، الحديث : ٤٨٢٥ ، ج ٤ ، ص ٣٣٩) ۳۸)
ترجمہ:مسلمان
کا مسلمان پر ( یہ ) حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لئے سرک جائے ۔ (یعنی مجلس میں
آنے والے اسلامی بھائی کے لئے ادھر ادھر کچھ سرک کر جگہ بنادے کہ وہ اس میں بیٹھ
جائے۔) (شعب الإيمان باب في مقاربة.. الخ فصل في قيام المرء لصاحبه الحديث ٠٨٩٣٣-١٦ ص ٤٦٨)
اسلام
نے جہاں انفرادی زندگی کے اصول بیان کیے ہیں، وہیں اجتماعی زندگی کے بھی واضح
ضابطے مقرر فرمائے ہیں۔ مجالس کے آداب اور حقوق اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں۔ اگر
ہر شخص مجالس میں بیٹھنے اور گفتگو کرنے کے وہی اصول اپنائے جو رسول اکرم ﷺ نے ہمیں
سکھائے ہیں تو معاشرہ باہمی عزت، محبت اور خیر خواہی کا گہوارہ بن جائے۔ مجلس
دراصل دلوں کو جوڑنے اور علم و نیکی کو پھیلانے کا ذریعہ ہے، اس لیے ہر مسلمان پر
لازم ہے کہ وہ ان حقوق کا پاس کرے اور اپنی مجالس کو ذکرِ خیر، ادب اور خیر خواہی
سے مزین کرے۔ یہی حقیقی اسلامی معاشرت کی روح ہے۔
Dawateislami