اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو احسن طریقے سے سنوارتا ہے۔ انسانی اجتماعیت میں مجالس (محفلیں، نشستیں) ایک خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہی وہ حلقے ہیں جہاں خیالات کا تبادلہ، تعلیم و تعلم، مشاورت اور آپس میں اُنس و محبت پروان چڑھتی ہے۔ قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ میں مجالس کے آداب اور ان کے حقوق پر بارہا تاکید کی گئی ہے تاکہ یہ محفلیں خیر و برکت، اخوت و اتحاد اور نیکی کے فروغ کا ذریعہ بنیں نہ کہ گناہ، غیبت، لغو باتوں یا کسی کی دل آزاری کا سبب۔

ہر مجلس میں اللہ پاک کا ذکر کرو: جو لوگ مجلس سے اُٹھ جائیں اور اس میں اللہ تعالی کا ذکر نہ کریں، تو وہ ایسے اٹھے جیسے گدھے کی لاش اور وہ (مجلس) ان پر (قیامت کے دن ) حسرت ( کا باث ) ہوگی ۔ (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب كراهية ان يقوم الرجل من مجلسہ ولا يذكر الله الحديث : ٠٤٨٥٥ ج ٠٤ ص ٣٤٧)

ایک مجلس میں کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے: کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے۔(سنن ابی داود، کتاب الادب، باب في الرجل يجلس بين الرجلين بغير اذنهما، الحديث |٤٨٤٤-٤٨٤٥، ج ٤ ، ص ٣٤٤)

اسلام نے مجالس کے حقوق و آداب واضح کر دیے ہیں تاکہ ہر مسلمان اپنی نشست و برخاست میں عدل، انصاف، احترام اور بھائی چارے کو ملحوظ رکھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی مجالس کو ایسی محفلوں میں بدلیں جو رحمتِ الٰہی کو جذب کرنے والی ہوں اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کا ذریعہ بنیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ مجلس کے حقوق کی پاسداری دراصل اسلام کے اخلاقی و سماجی نظام کی روح ہے، اور ان کی رعایت ہر مسلمان کے لیے باعثِ عزت، کامیابی اور قربِ الٰہی کا وسیلہ ہے۔