دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس دین نے ہماری ہر معاملے میں رہنمائی اور تربیت فرمائی ہے اور ہر چیز کے حقوق کو آداب بھی بتائے ہیں یہاں تک کہ مجلس کے حقوق و آداب بھی بتائے ہیں مجلس میں حاضر ہوتے وقت تمام آداب کا لحاظ رکھنے کے بارے میں بھی مکمل تلقین کی ہے جس سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو ہم دوسروں کو تنگ نہ کریں ۔مجلس کے حقوق درج ذیل ہیں:

مجلس میں بیٹھنے کے آداب:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو آخر میں آتا وہ آخر میں بیٹھ جاتا تھا۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی التحلق حدیث نمبر 4825 صفحہ 339 جلد4)

مجلس میں بات کرنے کے اداب:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں مجلس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات اس کو رنج پہنچ جائے گی۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی التناجی حدیث نمبر 4851 جلد4 صفحہ 346)

مجلس کی اقسام:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجلس کی تین قسمیں ہیں:

1- غانم وہ مجلس ہے جس میں اللہ تعالی کا ذکر ہو۔

2-سالم وہ مجلس ہے جس میں خاموشی ہو یعنی بے ہدا اور خلاف شرع بات نہ ہو۔

3-شاجب وہ مجلس ہے جس میں باطل بحثیں ہوں۔(کنز الاعمال کتاب الصحیہ قسم الاول حدیث نمبر25446 جلد9 صفحہ 63)

ہمیں چاہیے کہ ہم مجلس کے حقوق کا بھرپور خیال رکھیں اور اس طرح جب بھی مجلس خیر میں جائیں تو وہاں پر کسی کو بھی تکلیف نہ پہنچائیں اور ان کے تمام اصول و ضابط کو مد نظر رکھیں اس طرح ہم دوسروں کو تکلیف دینے سے بچ سکتے ہیں اور مجلس کے حقوق کو بھی اسلامی طریقے سے ادا کرے گے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مجلس کے حقوق و اداب کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔