اسی طرح مجلس کے حقوق بھی انسان کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ وہ اس وجہ سے کہ جو چیز ہم مجلس میں سیکھتے ہیں وہ ہم اکیلے نہیں سیکھ سکتے ۔اور مجلس کے بہت سے فوائد ہیں ۔آیئے ہم مجلس کے چند حقوق بیان کرتے ہیں ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان : اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔( پارہ 28، سورۃ المجادلہ ،آیت نمبر 11)

(1)اپنے آنے والے بھائی کے لیے جگہ کشادہ کرو: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا نبی کریم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے (اس بات سے منع فرمایا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا دیا جائے اور اس جگہ میں دوسرا بیٹھ جائے البتہ تم سرک جایا کرو اور جگہ کشادہ کر دیا کرو یعنی بیٹھنے والوں کو چاہیے کہ آنے والے اسلامی بھائی کے لئے سرک جائیں اور اسے بھی جگہ دے دیں تا کہ وہ بھی بیٹھ جائے ) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا ( اس بات کو ) مکر وہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے اور یہ اس کی جگہ پر بیٹھیں ۔ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ فعل کمال درجہ کی پرہیز گاری سے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا دل تو اٹھنے کو نہیں چاہتا تھا مگر محض ان کی خاطر جگہ چھوڑ دی ۔( اچھے ماحول کی برکتیں ،صفحہ نمبر 45 پواینٹ نمبر 39 )

(2) دو آدمیوں کے درمیان بیٹھنا : کوئی شخص دو آدمی کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت سے اور دوسری روایت میں ہے کہ کسی شخص کے لیئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے ۔( اچھے ماحول کی برکتیں ، صفحہ نمبر 43، پواینٹ نمبر 27)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر چیز کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مجلس کے حقوق بھی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کو مجلس کے حقوق کے بارے میں بتاتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین