اسلام ایسا دین ہے ،جس نے  ہر چیز کے اصول و ضوابط سکھائے ہیں۔ جہاں زندگی گزارنے کے آداب بیان کیے گئے ہیں، وہیں مجلس (محفل و بیٹھک) کے بھی حقوق اور آداب بتائے گئے ہیں تاکہ مسلمانوں کی بیٹھکیں خیر و برکت کا ذریعہ بنیں اور کسی کو بھی اذیت یا تکلیف نہ پہنچے۔

1. سلام اور اجازت:جب کوئی شخص مجلس میں آئے تو پہلے سلام کرے اور پھر بیٹھنے کی اجازت لے۔ قرآن و حدیث میں سلام کو پھیلانے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

2. مجلس میں جگہ بنانا:اگر مجلس میں کوئی نیا آنے والا ہو تو اُس کے لیے جگہ بنانا چاہیے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:جب تم سے کہا جائے کہ جگہ کشادہ کرو تو کشادہ کر دیا کرو۔

3. خاموشی اور سننا:مجلس میں بیٹھنے والا شور و غل نہ کرے، فضول گوئی اور بے جا قہقہے نہ لگائے بلکہ دوسروں کی بات غور سے سنے۔

4. کسی کو تکلیف نہ دینا:مجلس میں بیٹھ کر دوسروں پر ہنسنا، اُن کی تذلیل کرنا یا ان کی غیبت کرنا سخت گناہ ہے۔ ہر ایک کی عزت کا خیال رکھنا مجلس کا حق ہے۔

5. اعتدال اور وقار:بیٹھنے کا انداز باوقار ہونا چاہیے، پھیل کر دوسروں کو تنگ کرنے کے بجائے اعتدال کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔

6. علم و نیکی کی بات کرنا:مجلس کو غیبت، فضول گوئی یا دنیاوی لغویات میں ضائع کرنے کے بجائے علم دین، ذکرِ الٰہی اور نیکی کی باتوں کے ساتھ آباد رکھنا چاہیے۔

7. مجلس سے اجازت لے کر اٹھنا:جب کوئی شخص مجلس سے جانا چاہے تو اچانک اٹھ کر نہ جائے بلکہ اجازت لے اور جاتے وقت بھی سلام کرے۔

اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ مجلس کو باوقار، پر سکون اور نیکی کی باتوں سے معمور رکھا جائے۔ مجلس کے حقوق کی پاسداری نہ صرف ہماری دنیاوی زندگی کو خوشگوار بناتی ہے بلکہ آخرت میں بھی نجات کا ذریعہ بنتی ہے۔