مجلس محض اکٹھے بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک امانت، تعلیم کا میدان، اور دلوں کو صاف کرنے والا زخم ہے۔ جس طرح زراعت میں زمین کی تیمارداری ضروری ہے، اسی طرح دینی مجالس کو بھی حقوق و آداب کے مطابق سنبھالنا لازم ہے تاکہ علم کی روشنی پھیلے اور معاشرتی برکت قائم رہے۔ یہ حقائق قرآن و سنت، اَعمالِ سلف اور دعوتِ اسلامی کی تربیتی کتب میں بارہا واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔ اس مختصر مگر جامع تحریر میں میں مجلس کے بنیادی حقوق کو قرآن و حدیث کی روشنی اور دعوتِ اسلامی کی رہنمائی کے مطابق پیش کر رہا ہوں تاکہ ہر شریک مجلس اور منتظم اس کو سمجھ کر عمل میں لا سکے۔ (فیضانِ سنت، صفحہ 65؛ آدابِ دین، صفحہ 19)

سب سے پہلا حق نیتِ خالص ہے:جو شخص مجلس میں آتا ہے وہ پہلے اپنے دل میں پختہ کرے کہ اس کا مقصد دکھاوا، بحثِ بے فائدہ، یا دنیاوی مشغولیت نہیں بلکہ اللہ، سنتِ رسول ﷺ، اور اصلاحِ نفس ہے۔ نبیِ پاک ﷺ نے جہاں علم و عمل کو جوڑ کر پیش کیا وہیں امت کو بار بار نصیحت فرمائی کہ نیت صاف ہو۔ جب نیت پاک ہوگی تو مجلس میں بیٹھنے والے کے ہر کلام اور عمل میں اخلاص جلوہ گر ہوگا۔ دعوتِ اسلامی کی کتاب فیضانِ سنت میں اسی نیتِ صالحہ پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ محفلِ ذکر و علم کی برکت کا پہلا دروازہ نیت ہے۔ (فیضانِ سنت، صفحہ 65)

دوسرا حق خاموشی، غور و خوض اور باوقار سماعت ہے:قرآنِ مجید نے اجتماعی آداب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(سورۃ المجادلہ:11)

اس میں باہمی احترام اور نظم کا سبق چھپا ہے۔ نبی ﷺ نے بھی مجالس میں نامناسب شور، بے ہودہ قہقہے اور بے جا گفتگو سے خبردار فرمایا؛ اور ایسی مجالس میں جو خاموشی اور ادب برقرار رکھے وہی زیادہ فیض پاتے ہیں۔ خاموشی صرف زبان کی بندش نہیں بلکہ دل کی توجہ ہے یہی بات ایک چُپ سو سُکھ میں واضح کی گئی ہے جہاں خاموشی کو مجلس کا زیور قرار دیا گیا ہے۔ (ایک چپ سو سُکھ، صفحہ 27)

تیسرا حق احترامِ اساتذہ و بزرگانِ دین کا ہے:مجلس میں حضورِ علم و عمل، اَکابر اور علماء کی تعظیم و توقیر لازمی ہے کیونکہ وہی علم رواداروں تک پہنچاتے ہیں اور نسل در نسل ہدایت کا سلسلہ قائم رکھتے ہیں۔ رسولِ کریم ﷺ نے ہمیں بتایا:«الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ»ترجمہ: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا دیکھو تم کس سے صحبت کرتے ہو۔ ( سننِ ابی داؤد/ابن ماجہ)

اسی تناظر میں مجلس میں علم والوں کا احترام محض اخلاقی فعل نہیں بلکہ دین کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ دعوتِ اسلامی کی کتاب حسنِ اخلاق میں علمائے کرام کی قدر و توقیر اور ان کے ساتھ شائستہ سلوک پر تفصیل دی گئی ہے۔ ( حسنِ اخلاق، صفحہ 34)

چوتھا حق امانتِ مجلس ہے: جو باتیں مجلس میں کہیں گئی ہوں وہ امانت سمجھ کر باہر نہ پھیلائی جائیں۔ امانت داری اعتماد کو بڑھاتی ہے اور لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بات کا وقار ہے۔ جب امانت ختم ہوتی ہے تو مجلس زینہ بگڑ جاتا ہے اور لوگ ایک دوسرے سے جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ اس پر دعوتِ اسلامی کے متعدد نصوص واضح رہنمائی دیتے ہیں کہ مجلس میں سیکھا ہوا علم اور باتیں مُصلحت کے مطابق وصول کی جائیں اور اَخلاقی تحفظ برقرار رہے۔ ( آدابِ دین، صفحہ 19؛ فیضانِ سنت، صفحہ 65)

پانچواں حق زبان و گفتار کا ہے: مجلس میں بولنے سے پہلے سوچنا، بے جا لطائف سے پرہیز، غیبت و تلمیح سے بچنا، اور بات کا مقصد سامنے رکھ کر کلام کرنا۔ نبیِ کریم ﷺ نے مثال کے ذریعے بتایا کہ نیک ساتھی اور بد ساتھی کی مثال مشک والے اور لوہار کی مانند ہے؛ جیسے مشک کی خوشبو فائدہ دیتی ہے، لوہار کی آگ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ( صحیح البخاری/صحیح مسلم)

اسی طرح مجلس میں کلام بھی اگر برائے اصلاح ہو تو بھلائی کا سبب بنتا ہے ورنہ بگاڑ کا۔ دعوتِ اسلامی کی کتاب 550 سنتیں اور آداب میں بھی بولنے کے آداب اور مناسب اندازِ تاکید کی مفصل ہدایات ملتی ہیں۔ ( 550 سنتیں اور آداب، صفحہ 10)

چھٹا حق عملی امتثال ہے: مجلس کا حقیقی مقصد صرف سننا نہیں بلکہ سن کر عمل کرنا ہے۔ جو علم عمل میں نہیں آتا وہ بوجھ بن جاتا ہے۔ اس لیے بزرگانِ دین نے فرمایا کہ مجلس سے باہر نکل کر کم از کم ایک عمل کر کے دکھاؤیہی مجلس کی اصل کامیابی ہے۔ دعوتِ اسلامی کی تربیتی کتابوں میں معلمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سوالیہ انداز اپناتے ہوئے سامع کو محض معلومات نہیں بلکہ عمل کی تحریک بھی دیں سوال کھڑا کرو، دل ہلاؤ، اور عمل کی طرف بلاؤ۔ ( فیضانِ سنت، صفحہ 65؛ آدابِ دین، صفحہ 19)

ساتواں حق نظم و ترتیب اور صفائی ہے: مجلس کا انتظام، بیٹھنے کی ترتیب، صفائی و پاکیزگی اور خوشبو کا خیال رکھنا بھی حقوقِ مجلس میں آتا ہے تاکہ شریکِ مجلس کو جسمانی تکالیف کا سامنا نہ ہو اور ماحول روحانی رہے۔ دعوتِ اسلامی کے عملی ہدایت ناموں میں مجالس کے انتظام کے باریک پہلوؤں اور ضوابط کا ذکر ملتا ہے جسے منتظمین کو بطور ضابطہ اختیار کرنا چاہیے۔ ( کام کے اوراد، آغاز)

آخر میں یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ مجلس کے حقوق کا اہتمام فردی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ضروری ہے۔ جب ہر بندہ نیت صاف، زبان محتاط، قلب نرم، اور عمل پرکوشا رہے گا تو وہی مجلس زندہ اور بابرکت ہوگی۔ قیامت کی یاد جب اس تربیتی عمل کے پس منظر میں رہے گی تو ہر مجلس ایک موقع بن کر سامنے آئے گی۔ایک موقع جو دل بدل دے، کردار سدھار دے اور امت کو صحیح سمت دکھائے۔ دعوتِ اسلامی کی کتابیں اس فہم کو آج کے دور کے مطابق بیان کرتی ہیں اور عمل پر زور دیتی ہیں؛ اس لئے ہر مدرسہ، مدنی مرکز اور ذاتی محفل میں ہم سب کو چاہئے کہ یہ آداب اپنا کر مجالس کو قرآن و سنت کے مطابق سنواریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مجالس کے حقوق ادا کرنے اور علم و عمل میں ثابت قدم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔