علی حیدر
عطاری ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
دین
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے دین اسلام میں جس طرح والدین اولاد اور بیوی کے حقوق
کی ادائیگی کا حکم دیا اسی طرح دین اسلام نے مجلس کے حقوق کو بھی بیان فرمایا اور
ان پر عمل پیرا ہونے کی تاکید اور ادائیگی کی صورت میں فضائل بھی بیان فرمائے آئیے
ہم بھی مجلس کے چند حقوق پڑھتے ہیں اور ان پر عمل کی نیت کرتے ہیں۔
1:اللہ
پاک کا ذکر کرنا:حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نےفرمایا:”جو کسی مجلس میں بیٹھےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حسرت وخسارہ ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور ذِکرِ
الٰہی نہ کرے تو اس کے لیے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ندامت ہوگی۔“(
ابوداود٫کتاب الادب،باب کراھیۃان یقوم الرجل ،من مجلسی ولا یذکر اللہ ،/347٫،حدیث
48526)
2:
کسی کی جگہ پر نہ بیٹھنا:حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی
دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور
وُسعت پیداکرو ۔“(راوی کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو
آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔( مسلم، کتاب السلام ،باب تحریم اقامۃالانسان من موضعہ ــالخ،ص924, حدیث:5686)
3:
مجلس کو کشادہ کرنا:حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے
جو کشادہ ہو ۔“ ( ابوداود، کتاب الادب،باب فی سعۃالمجلس،338،حدیث:482)
4:
سلام کرنا :حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی
کسی مجلس میں پہنچے توسلام کرے پھر جب وہاں سے اٹھے تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلی
مرتبہ کا سلام دوسری مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں۔“ ( ترمذی، کتاب الاسنئذان
والاداب،باب ماجاءفی التسلیم عند القیام وعندالقعود،4/324, حدیث:2715)
5:نقصان
والی مجلس میں نہ بیٹھنا:حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی
ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاک
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود
پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“ (ترمذی
،کتاب الدعوات ،باب فی القوم یجلسون ولا یذکر ون اللہ ،5/247،حدیث:3391)
اللہ پاک ہمیں مجلس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔
Dawateislami