اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ
صرف انفرادی بلکہ اجتماعی زندگی کے آداب و حقوق بھی واضح کرتا ہے۔ انسان چونکہ ایک
معاشرتی مخلوق ہے، اس لیے اس کی زندگی میں مجالس کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسلام
نے مجلس کو محض وقت گزاری یا گفتگو کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اس کے آداب، مقاصد
اور حقوق بھی متعین کیے تاکہ ایک پرامن، بااخلاق اور باادب ماحول قائم ہو۔
قرآن
و حدیث میں مجالس کے آداب اور ان میں بیٹھنے، بولنے، سننے اور دوسروں کے احترام کے
اصول بیان کیے گئے ہیں۔
رسول
اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ میں بھی مجالس کے آداب کی تعلیمات موجود ہیں،اسلامی معاشرے کی
بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد مجالس کے حقوق و آداب کو سمجھے اور ان پر عمل کرے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا
فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ
اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ
کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ
تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان
والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں
کی خبر ہے۔ ( المجادلہ؛ 58 : آیت 11)
1.
سلام کرنا: مجلس میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا اور اجازت لینا۔
2.
جگہ دینا: اگر کوئی مجلس میں شامل ہونا چاہے تو اسے جگہ دینا، ایثار کا مظاہرہ
کرنا ۔
3.
بغیر اجازت نہ بیٹھنا: کسی کی مخصوص جگہ پر یا بیچ میں بغیر اجازت بیٹھنا ۔
4.
غیر ضروری مداخلت نہ کرنا: جب دو افراد بات کر رہے ہوں تو بیچ میں نہ کودیں، اور
گفتگو میں دخل نہ دیں۔
5.
رازداری کا احترام: مجلس میں کی گئی باتوں کو باہر بیان کرنا خیانت ہے، خاص طور پر
اگر وہ بات رازدارانہ ہو۔
6.
فضول گوئی سے پرہیز: مجلس میں بے مقصد، لغو یا دل آزاری والی گفتگو سے بچنا چاہیے۔
7.
کسی کی توہین یا مذاق نہ اڑانا: اسلام کسی کا مذاق اُڑانے یا حقیر سمجھنے سے منع
کرتا ہے۔
8.
بات کو غور سے سننا: اگر کوئی بات کر رہا ہو تو درمیان میں نہ بولیں، اور توجہ سے
سنیں۔
9.
سلام اور دعا کے ساتھ رخصت ہونا: مجلس سے جانے سے پہلے سلام کہنا بھی سنت ہے۔
10.
ترتیب اور صفائی کا خیال: مجلس کا ماحول صاف، باوقار اور باادب ہونا چاہیے۔
یہ آداب نہ صرف ایک مہذب اور اسلامی معاشرے کی
پہچان ہیں، بلکہ ان پر عمل کر کے ہم ایک خوبصورت، بااخلاق اور پرامن ماحول قائم کر
سکتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ
خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami