(1)حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:827 )

(2)حضرت سَیِّدُناعَمر وبن شُعَیْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے ۔“ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے :” دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے ۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:829)

(3)حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831 )

(4)حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکرکئے بغیرمجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اوریہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:835)