حافظ
محمد روحان طاہر (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان
مدینہ کاہنہ نو لاہور ، پاکستان)
اسلام
دین فطرت ہے جو انسان کو معاشرتی زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی دیتا ہے۔ چونکہ
انسان دوسروں سے بھی میل جول رکھتا ہے اور مجالس میں بھی جاتا ہے اس لیے مجالس کے
بھی کچھ آداب و حقوق مقرر کیے گئے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔
(1)کسی
کو اس کی جگہ سے نہ اُٹھانا :حضور اقدس صلی اللہ وسلم نے اس
سے منع فرمایا کہ کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائے
۔(صحیح مسلم صفحہ 923 ، حدیث 5683)
(2)مرتبہ
کے مطابق بیٹھاتا :حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے حضور پرنور ﷺ نے
ارشاد فرمایا : کہ لوگوں کو ان کے مرتبے اور منصب کے مطابق بٹھاؤ۔(ابو داؤد جلد 4
صفحہ 343 حدیث 4842)
(3)
آنے والے کو جگہ دینا:قرآن پاک میں اللہ تعالٰی نے فرمایا : ترجمہ : اے ایمان والو!جب
تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کروه کردو الله تمہارے لیے
جگہ کشادہ فرمادے گا۔
(پارہ
28 سورة المجادلة آيت 11 )
(4)
سلام کرنا :مجلس میں داخل ہونے وقت اور نکلتے وقت سلام کرنا رسول
الله صلی الہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تو سلام کرے اور اُٹھے
تو بھی سلام کرے پہلا سلام آخری سلام سے زیادہ حق دار نہیں ہے۔(ترمذی، حدیث 2706)
(5)مجلس
کی امانت داری:جو بات مجلس میں ہو وہ باہر نہ پھیلائی جائے یہ امانت
ہے۔ رسول الله صلی اللہ وسلم نے فرمایا مجالس امانت ہیں سوائے اس مجلس کے جس میں
گناہ یا ظلم کی بات ہو۔(ابو داؤد حدیث 4869)
Dawateislami