ایک معاشرے میں رہتے ہوئے انسان پر ہر لحاظ سے خوب جو ہے وہ ادا کرنا لازم ہوتے ہیں ہوم والدین کے حقوق کو بہنوں کے حقوق ہوں بھائیوں کے حقوق ہوں رشتہ داروں کے حقوق ہوں ہمسایوں کے حقوق ہوں پڑوسیوں کے حقوق ہوں چاہے جانوروں کے حقوق ہوں پودوں کے نباتات کے جمادات کے چاہے جس کے بھی حقوق ہوں وہ انسان پر ادا کرنا ضروری ہے اور اسی سے ایک معاشرہ مستقل طور پر پروان چڑھتا ہے اور اسی طرح اپنے ساتھ ہم نشین کے حقوق دوست کے حقوق اپنے پاس بیٹھنے والوں کے حقوق اور اسی طرح مجلس کے حقوق بھی ایک معاشرے پائے جاتے ہیں۔ آئیے مجلس کے حقوق کے بارے میں قران پاک فرامین مصطفی  ﷺ اور بزرگان دین کی زندگیوں میں سے سبق حاصل کرتے ہیں:

قران پاک میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(پارہ:28 المجادلہ آیت نمبر:11)

اسی طرح اللہ کے آخری نبی محمد عربی رسول ہاشمی مکی مدنی ﷺ نے احادیث مبارکہ میں بھی مجلس کے حقوق کے بارے میں تربیت فرمائی چنانچہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:

1:اللہ تعالی کا ذکر کرنا:مجلس کا ایک حق یہ بھی ہے کہ مجلس کے اندر اللہ تبارک و تعالی کا ذکر کیا جائے چنانچہ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو لوگ مجلس سے اٹھ جائیں اور اس میں اللہ تعالی کا ذکر نہ کریں تو وہ ایسے اٹھے جیسے گدھے کی لاش اور وہ مجلس ان پر قیامت کے دن حسرت کا باعث ہوگی ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب کراہیۃ انیقوم الرجل من مجلسہ ولا یذکر اللّہ حدیث نمبر: 4855 جلد: 4ص نمبر: 347)

2:مجلس کو مزین کرو:اللہ کے آخری نبی محمد عربی رسول ہاشمی مکی مدنی ﷺ نے فرمایا :"تم اپنی مجلس کو مجھ پر درود پڑھ کر مزین کرو کیونکہ تم تمہارا مجھ پر درود پڑھنا تمہارے لیے قیامت کے دن نور ہوگا" (فردوس الاخبار جلد نمبر:1 حدیث نمبر: 3149 ص نمبر: 422)

3:مجلس میں آنے والے کے لیے جگہ چھوڑنا:مجلس میں نئے بندے کے آنے سے جگہ چھوڑنا یہ بھی مجلس کا حق ہے چنانچہ اس کو اللہ تعالی کے آخری نبی ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا: "مسلمان کا مسلمان پر یہ حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے" (یعنی مجلس میں انے والے اسلامی بھائی کے لیے ادھر ادھر کچھ سرک کر جگہ بنا دے کہ وہ اس میں بیٹھ جائے)(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب: فی التناجی حدیث نمبر: 4851جلد نمبر:4 ص نمبر:346)

4:مجلس میں درود پاک پڑھنا:اللہ کے محبوب دانائے غیوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ پر درود نہیں پڑھتے تو ان پر حسد کا باعث ہوگی اگرچہ جنت میں داخل ہو جائیں ( درود نہ پڑھنے پر حسرت ہوگی) جس وقت وہ (درود پڑھنے کی )جزا دیکھیں گے۔ (شعب الایمان باب :فی تعظیم النبی والہ وتوقیرہ حدیث نمبر: 2541جلد نمبر :9ص نمبر: 60)

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ اوپر بیان کیا قران پاک سے احادیث مبارکہ سے مجلس کے حقوق کے بارے میں ہم نے پڑھا اللہ تعالی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کو اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ