محمد
عبداللہ رضوی (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک ایسا دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اٹھنے بیٹھنے، بات چیت کرنے اور دوسروں کے
ساتھ تعلقات قائم کرنے کے اصول بھی قرآن و سنت میں واضح کیے گئے ہیں۔ انہی اصولوں
میں سے ایک اہم پہلو مجلس کے حقوق ہیں۔
1.
مجلس میں کشادگی کرنا:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ
ترجمہ
کنزالایمان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ
کرو، اللہ تمہیں کشادگی دے گا۔(سورۃ المجادلہ، آیت 11)
2.
سلام سے مجلس کا آغاز اور اختتام : رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا "جب تم کسی مجلس میں آؤ تو سلام کرو اور جب اٹھو تو بھی
سلام کرو۔"(ترمذی شریف)
3.
مجلس کی حفاظت:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب کوئی شخص مجلس میں بیٹھے
اور فضول کلام کرے، پھر کہے: "سبحانك
اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك"
تو یہ مجلس اس کے لیے کفارہ ہو جائے گی۔"(ابو داؤد)
4.
مجلس میں دوسروں کو تنگ نہ کرنا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان
وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔(بخاری و مسلم)
5.
مجلس کے شرکاء کو یکساں سمجھنارسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب تین آدمی آپس میں بات کر رہے ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ
کریں، کیونکہ اس سے وہ غمگین ہوگا۔(بخاری و مسلم)
مجلس
کے چند بنیادی حقوق
1.
مجلس میں آنے والوں کو سلام کرنا۔
2.
مجلس میں بیٹھنے کے لیے جگہ بنانا۔
3.
بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت۔
4.
مجلس میں فضول کلام اور شور سے اجتناب۔
5.
دوسروں کی غیبت، مذاق یا دل آزاری سے بچنا۔
6.
گفتگو میں سب کو برابر کا حق دینا۔
7.
مجلس کے بھید کو ظاہر نہ کرنا
8.
مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سلام کرنا۔
اسلام
نے ہمیں جہاں عبادات سکھائی ہیں وہیں معاشرتی آداب بھی سکھائے ہیں۔ مجلس کے حقوق کی
پاسداری کرنے سے محبت، اتحاد اور اخوت قائم رہتی ہے۔ قرآن و سنت میں جو اصول بیان
کیے گئے ہیں ان پر عمل کر کے ہم اپنی مجالس کو خیر و برکت اور سکون کا ذریعہ بنا
سکتے ہیں۔
Dawateislami