باہم بیٹھنا انسانوں کی عمومی ضرورت ہے کبھی انسان گھر والوں کے درمیان بیٹھتا ہے کبھی بیوی بچوں کے درمیان کبھی دوستوں کے درمیان کبھی نیک محافل کے درمیان بیٹھتا ہے یاد رہے جس طرح والدین کے حقوق و آداب ہیں بیوی کے حقوق و آداب ہیں اسی طرح مجلس کے بھی حقوق و آداب ہیں ۔

مجلس کے آداب اور مجلس کے حقوق :یہاں مجلس کے 10 آداب ذکر کئے جا رہے ہیں۔

(1) جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائے :صحابہ کرام کا بھی یہی طریقہ کار تھا جب وہ حضور ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے تو جہاں جگہ ملتی وہاں ہی بیٹھ جاتے تھے : عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:كُنَّا اِذَا اَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ اَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِيْ ترجمہ:حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:827)

پیارے اسلامی بھائیو! ہم جب کسی اجتماع یا محفل میں شرکت کرتے ہیں تو ہماری کوشش یہ ہوتی ہے ہم سب سے آگے بیٹھیں ہمیں عزت دی جائے جبکہ صحابہ کرام کی آپ ﷺ نے اس انداز سے تربیت فرمائی تھی کہ جہاں جگہ ملتی ہے صحابہ وہیں بیٹھ جاتے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے نہیں جاتے تھے ہم بھی صحابہ کرام کے اس عمل سے درس حاصل کریں جب بھی کسی مجلس میں حاضری ہو تو جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جانا چاہیے اگر لوگوں کی گردنیں پھلانگ کے آگے جائیں گے تو اس میں سب کی حق تلفی ہو گی۔

مدنی گلدستہ ’’ عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

(1) مجلس میں آنے والا شخص وہاں بیٹھے جہاں مجلس ختم ہورہی ہو۔

(2) ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے صحابہ کو مجلس میں بیٹھنے کے آداب بھی بتائے۔

(3) مجلس میں بیٹھے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا بُرا ہے۔

(4) حضورنبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین نہ فرماتےاور دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے۔

(5) حضورنبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرمایا کرتے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مجلس کے آداب پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ عَلَیْہ وَ سَلّم

(2) کسی کی بات نہ کاٹے ۔

(3) مجلس میں فضول باتوں سے بچے مثلًا کسی کی غیبت نہ کرے چغلی نہ کرے بہتان و تہمت نہ لگائے ۔

(4) چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں پر رحم کرے ۔

(5) جب بولنے کا موقع ملے تو موقع کی مناسبت سے نیکی کی دعوت بھی دے ۔

(6) کسی کو برائی کرتا دیکھے تو اس کی اصلاح بھی کرے ۔

(7) مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی کرے اور جہاں حضور ﷺ کا نام لیا جائے تو درود پاک پاک بھی پڑھے ۔

جس مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا جاتا اس کی احادیث مبارکہ میں وعیدیں آئی ہیں ۔

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللهَ تَعَالَى فِيْهِ وَلَمْ يُصَلُّوْا عَلَى نَبِيِّهِمْ فِيْهِ اِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةٌ فَاِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَاِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ.

ترجمہ :حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:836 )

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُوْمُوْنَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُوْنَ اللهَ تَعَالٰى فِيْهِ اِلَّا قَامُوْا عَنْ مِثْلِ جِيْفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً.

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکرکئے بغیرمجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اوریہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:835 )

(8) دو لوگوں کے درمیان نہ بیٹھے

ممکن ہے وہ دونوں آپس میں محبت کرتے ہوں اور جدائی برداشت نہ کرتے ہوں اگر ان سے اجازت لے کر بیٹھے تو اس کی میں کوئی حرج نہیں۔

پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے مجلس کے چند آداب پڑھے!ہمیں بھی چاہیے کہ جب ہم کسی دینی یا دنیاوی مجلس میں حاضر ہوں تو مجلس کے آداب کا خیال رکھا جائے یا اپنے گھر میں ہی بیوی بچوں کے درمیان یا والدین کے درمیان یا دوستوں کے درمیان یا اپنے کلاس فیلوز کے درمیان ہوں تو مجلس کے آداب کا لحاظ رکھا جائے ان کی بات نہ کاٹی جائے جب مجلس میں داخل ہو تو سلام کیا جائے اور بری باتوں سے بچا جائے غیبت چغلی تہمت و بہتان سب سے بچا جائے اور خاص طور پر مذاق مسخری سے بچا جائے کہ اس سے دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے انسان کا وقار کم ہو جاتا ہے جو زیادہ مذاق مسخری کرتا ہے اس کی بات کی اتنی وُقّت رہتی نہیں فی زمانہ مذہبی لوگوں سے بہت لوگ دور ہیں تو خاص طور پر انہیں چاہیے کہ اپنا اخلاق کردار ایسا بنائیں کہ لوگ ان کے قریب آئیں سنتیں اپنائیں اپنے اخلاقوں کے کردار کو سنواریں سنجیدگی اختیار کریں مذاق مسخری سے بچیں کسی سے ملے تو اسلام میں پہل کریں مجلس میں حاضر ہوں تو مجلس کے آداب کا لحاظ رکھیں کسی پر طعن نہ کریں کہ لوگ ان کو نوٹ کرتے ہیں اگر یہ مجلس کے آداب کا لحاظ نہیں رکھیں گے تو لوگ پھر ان پر طعن کریں گے اس لیے انہیں چاہیے کہ جب بھی مجلس میں حاضر ہو تو یہ مجلس کے آداب کا لحاظ رکھیں کہ لوگ ان سے سیکھتے ہیں اگر یہ مجلس کے آداب کا لحاظ کریں گے وہاں پر نیکی کی دعوت دیں گے مذاق مسخری سے بچیں گے سنجیدگی اپنائیں گے تو لوگ بھی ان کے قریب آئیں گے ان کی باتیں سنیں گے لوگ اپنی اولاد کو بھی ان کے پاس بھیجے گے اس طرح لوگ دین کے زیادہ قریب آئیں گے اللہ پاک ہم سب کو مجلس کے آداب کا لحاظ رکھنے والا اچھی صحبت اختیار کرنے والا اور بری صحبت سے بچنے والا بنائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ