انسانی زندگی اکیلے گزارنے کے بجائے باہم میل جول اور تعلقات کی مرہونِ منت ہے۔ انسان جب دوسروں کے ساتھ بیٹھتا ہے تو اس مجلس سے یا تو نفع حاصل کرتا ہے یا نقصان۔ اسی لیے اسلام نے مجالس کے بھی حقوق اور آداب مقرر فرمائے تاکہ یہ نشستیں خیر و برکت کا ذریعہ بنیں۔ اگر مجلس میں شریعت کے بتائے ہوئے اصول اپنائے جائیں تو وہ تعلیم، تربیت، محبت اور خیرخواہی کا مرکز بن جاتی ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ

ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو۔(سورۃ المجادلہ: 11)

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب لوگ باہم مل بیٹھیں تو دوسروں کو جگہ دینے میں کشادگی پیدا کریں۔ مجلس کا حق یہ ہے کہ اس میں تنگی، بدتمیزی یا خود غرضی نہ ہو بلکہ اخوت، محبت اور تعاون جھلکے۔ یہی وہ اصول ہے جو مجلس کو خیر و برکت اور تربیت کا مرکز بنا دیتا ہے۔

آئیے اللہ پاک اور اسکے آخری نبیﷺ کی رضا حاصل کرنے اور علم دین حاصل کرنے کی نیت سے مجلس کے 10 حقوق جانتے ہیں۔

سلام کے ساتھ مجلس میں آنا:نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ ترجمہ:جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے۔(الترمذی:2706)

جگہ سے کسی کو نہ اٹھانا:نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ ترجمہ:کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ نہ بیٹھ جائے۔(الترمذی:2749)

نیکی اور خیرخواہی کی بات کرنا:نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ .

ترجمہ: کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر (اسے راز میں رکھنے کے لیے) دائیں بائیں مڑ کر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے ۔(الترمذی:1959)

آدابِ مجلس کا خیال رکھنا:

مجلس میں کسی کو تنگ نہ کیا جائے، اونچی آواز سے بات نہ کی جائے، بیٹھنے کا سلیقہ رکھا جائے۔

اسلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ باہم مل بیٹھنے کا مقصد محض وقت گزاری نہیں بلکہ خیرخواہی، علم، محبت اور باہمی تعاون ہونا چاہیے۔ قرآن و حدیث میں بیان کردہ مجالس کے حقوق اور آداب اپنانے سے معاشرتی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور دلوں میں سکون و محبت پیدا ہوتی ہے۔ آج کے دور میں، چاہے گھر ہو یا دفتر، یا مسجد و مدرسہ، اگر ہم مجلس کے حقوق کا خیال رکھیں تو معاشرہ امن، ادب اور خیر و برکت کا گہوارہ بن جائے گا۔