عبداللہ
خان (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
انسان
ایک معاشرتی مخلوق ہے، جو دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے، بات چیت کرنے اور خیالات
کا تبادلہ کرنے میں سکون پاتا ہے۔ اسی میل جول کا ایک مظہر "مجلس" ہے،
جہاں افراد جمع ہو کر گفتگو کرتے ہیں، سیکھتے ہیں، سکھاتے ہیں، اور تعلقات کو
مضبوط کرتے ہیں۔ اسلام نے نہ صرف مجلس کے آداب سکھائے، بلکہ اس کے حقوق بھی واضح کیے
تاکہ ایسی محفلیں خیر، ادب، علم، اور اخلاق کا نمونہ بنیں۔
1.
سلام کر کے داخل ہونا: مجلس میں آتے وقت
سلام کہنا۔
2.
اجازت لے کر بیٹھنا : محفل میں بیٹھنے سے پہلے اجازت لینا ادب ہے۔
3.
کسی کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھنا : بغیر اجازت کسی کی جگہ لینا منع ہے۔
4.
نرمی سے بات کرنا : آواز پست رکھنا اور
نرم لہجہ اختیار کرنا چاہیے۔
5.
کسی کی بات نہ کاٹنا : بولتے وقت مداخلت
کرنا بدتمیزی ہے۔
6.
نجی بات کو باہر نہ نکالنا: مجلس کی بات
کو "امانت" سمجھ کر رکھنا چاہیے۔
7.
غیبت و چغلی سے پرہیز: ایسی باتوں سے مجلس
بے برکت ہو جاتی ہے۔
8.
فضول گوئی سے بچنا : صرف مفید، علمی، دینی
یا اصلاحی گفتگو کرنا بہتر ہے۔
9.
مجلس میں کشادگی کرنا : نئے آنے والوں کے
لیے جگہ بنانا سنت ہے۔
10.
کسی کو شرمندہ نہ کرنا : سوال یا بات پر
مذاق نہ اُڑانا۔
11.
بزرگوں کا احترام: مجلس میں بزرگوں کو عزت
دینا ضروری ہے۔
12.
علمی مجلس خاموشی سے سننا: واعظ یا عالم کی
بات ادب سے سننا چاہیے۔
13.
جھگڑا یا بحث نہ کرنا مجلس کو لڑائی کی جگہ نہ بنایا جائے۔
14.
وقت کا لحاظ رکھنا دیر تک بیٹھ کر دوسروں کو تنگ نہ کیا جائے۔
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مجلس کے اداب سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami