دنیا میں بہت سے مذہب پائے جاتے ہیں لیکن خالص دین صرف اور صرف اسلام ہے دین اسلام کا حسن اور ایک خوبی یہ بھی ہے کی دینِ اسلام ایک مکمل دین ہے یہ ہر چیز میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ۔یہاں تک کہ انسان کی پیدائش سے لے کر وفات کے بعد باعزت دفنانے تک بھی رہنمائی کرتا ہے۔

(1) بندے کی زندگی کا اہم ترین حصہ یہ بھی ہے کہ انسان لوگوں میں بیٹھنا بہت پسند کرتا ہے ۔تو دین اسلام یہاں پر بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ وہ ہمیں مجلس کے حقوق بتاتا ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔( پاره 28 سوره المجادلہ آیت نمبر 11)

اس آیت کریمہ میں واضح طور پر مجلس کے حقوق بیان کئے جا رہے ہیں کہ مجلس کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ مجلس کے دوران جب کوئی شخص آجائے بلخصوص وہ شخص آجائے جو علم و عمل کے اعتبار سے اعلیٰ ہو تو مجلس میں اسے جگہ دی جائے اگر مجلس میں جگہ نہ ہو تو خود کھڑے ہو کر اسے اپنی جگہ پہ بٹھا دیا جائے ۔

اسی طرح مجلس کے آداب احادیث میں بھی بیان کئے گئے ہیں ایک حدیثِ پاک ملاحظہ ہو ۔

(2) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهٗ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولٰى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرے کیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ۔(ترمذی اورابوداؤد) (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4660)

اس حدیثِ مبارکہ میں بھی مجلس کا ایک ضروری ادب بیان کیا گیا ہے کہ مجلس میں بیٹھتے اور اٹھتے ہوئے سلام کرنا چاہیے ۔ اسی طرح ایک اور حدیث پاک ملاحظہ ہو:

(3) عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ للهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلَيْهِ فَهُوَ اَحَقُّ بِهِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔“(کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:826)

اس حدیثِ پاک میں بھی مجلس کا ایک ادب بیان کیا گیا ہے ۔

اسی طرح ایک اور روایت ہے:

(4) روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آتے تو ہم میں سے ہر ایک وہاں بیٹھتا جہاں مجلس ختم ہوتی ۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4729)

اس میں بھی ذکر کیا گیا کہ جب مجلس میں جائیں تو جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائیں لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے نہ جائیں ۔

اسی طرح ایک اور حدیث پاک ملاحظہ ہو جس میں مجلس کے آداب بیان کئیے گئے ہیں ۔

5) روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجلسیں امانت والی ہوتی ہیں سواء تین مجلسوں کے حرام خون بہانے کی یا حرام شرم گاہ کی یا ناحق مال مارنے کی مجلسیں ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:5063)

اس حدیثِ پاک کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی جب کوئی خاص

مجلس یا میٹنگ کی جاوے وہاں جو کچھ طے ہو اسے مشتہر نہ کرو بلکہ صیغہ راز میں رکھو کہ وہاں جو کچھ پاس ہوا وہ امانت ہے۔

یعنی اگر کسی مجلس خصوصی میں کسی گناہ کا،کسی کی حق تلفی کا،کسی پرظلم کرنے کا مشورہ کیا گیا تو اسے نہ چھپائے بلکہ مظلوم کو فورًا خبر دیدے کہ تو بچے رہنا تیرے متعلق یہ مشورہ ہو رہا ہے اگر چھپائے گا تو گنہگار ہوگا۔

ماشاءاللہ یہ حدیثِ پاک مجلس کے آداب بیان کرنے میں شاہکار ہے اسی طرح اور بھی کثیر احادیث اور بزرگانِ دین کے اقوال مجلس کے آداب میں پیش کئے جا سکتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں مجلس کے آداب کا لحاظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم ۔