نبی پاک  ﷺ کی زندگی مبارکہ ہمارے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے جو کہ زندگی کے ہر ہر پہلو میں ہماری مکمل رہنمائی کرتی ہے ۔اسی طرح ہمیں نبی پاک ﷺ کی زندگی مبارکہ سے کچھ مجلس کے حقوق و آداب بھی ملتے ہیں جو کہ ہمیں لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کے آداب سکھاتے ہیں، قرآن مجید میں بھی مجلس کے کچھ آداب بیان ہوئے ہیں۔

چنانچہ اللہ عزوجل کلام مجید میں ارشاد فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا۔

ترجمہ کنزالعرفان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو۔(سورۃ مجادلہ،پارہ 28۔آیت 11)

وضاحت :اس آیت سے معلوم ہوا ایک مسلمان بھائی کا دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللہ تعالی کو بہت پیارا ہے ۔کیونکہ اس پر اللہ تعالی نے اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے لہذا مسلمانوں کو چاہئے ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں ۔ (تفسیر صراط الجنان ،ج10ص،45)

(1) عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ للهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلَيْهِ فَهُوَ اَحَقُّ بِهِ ترجمہ:حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا :”جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:826)

وضاحت:اَحادیث مبارکہ میں مجلس میں بیٹھنے کے آداب کو بیا ن کیا گیا ہےکہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیدا کرنے کا حکم ہے

(2) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:كُنَّا اِذَا اَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ اَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِيْ ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا جابر بن سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:827)

اس حدیث مبارکہ سے پتا چلا مجلس میں آنے والا شخص وہاں بیٹھے جہاں مجلس ختم ہورہی ہو ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے صحابہ کو مجلس میں بیٹھنے کے آداب بھی بتائے۔

(3) عَنْ اَبِي سَعِيْدٍالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خَيْرُ الْمَجَالِسِ اَوْسَعُهَا ترجمہ:حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831)

مجالس انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں اگر ان میں قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے آداب اپنائے جائیں تو یہ مجالس خیر و برکت نیکی کی دعوت اور آپس کی محبت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔