محمد
فیصل رومی عطّاری ( درجہ سابعہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
مجلس
جلوس سے ماخوذ ہے بیٹھنے کی جگہ اس کے لغوی معنی ہیں جہاں کچھ لوگ اکٹھے ہوں اور
معاملے پر بات کریں یا ایک کی سنیں اس کو مجلس کہا جاتا ہے مجلس اچھی بھی ہے اور
بری بھی اچھی ایسی کہ بندۃ گناہ گار کو جہنم سے نکال کر جنت کے راستے پر چلا دیتی
ہے اور بری ایسی کہ جنت سے بے دخل کر کے جہنم کے منہ تک پہنچا دیتی ہے کہ انسان وہی
کرتا اور بولتا ہے جو سنتا ہے مگر جس کی اللہ حفاظت فرمائے۔ مجلس وہ ہوتی ہے جو آقا ﷺ کی ،
صحابہ کرام کی، اٰل پاک کی محبتوں والی باتوں میں مست ہوکر فیوض و برکات لٹا رہی ہو اور وہ بھی ہوتی ہے کہ
انسان کو خلاف شرع و عقل و عادت و مذہب پر چلا دے غلط رہنمائی کرے انسان کے لیے ہر
چیز واضح ہے اللہ نے عقل دی کہ حق کو باطل میں تمیز کرے دل دیا یاد الہی میں مست
رہے مگر نفس و شیطان بھی پیدا کیے انسان کو ازمائے جو کامیاب ہو گیا فوز کی بلندیوں
تک پہنچا جس نے ان میں خود کو ڈال لیا یا ان کے خود کو حوالے کر دیا تو فقد خسر خسرانا مبینا کا حق
دار ٹہرا دنیا میں ہر وہ چیز کو جس کو خالقِ انس و جان نے وجود بخشا ہے اس کا معیار
مقرر فرمایا اس کے کچھ تقاضے اور حقوق مقرر فرمائے کہ اگر انہیں پورا کر لیا جائے
تو اس چیز کو کما حقہ پایا جا سکتا ہے مجلس بھی خداۓ ذوالجلال کی نعمت عظمی ہے اس
کے بھی کچھ لوازمات و حقوق ہیں ان کو اللہ تبارک و تعالی نے بیان فرمایا اور حبیب
خدا ﷺ نے اور بزرگان دین نے بیان فرمایا اور تربیت فرمائی آج ہم قرآن واحادیث کی
روشنی میں مجلس کے حقوق کو جانیں گے۔
جہاں
جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے تو جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتے۔
نئے
آنے والے کو جگہ دیں:مجلس کے حقوق میں سے ہے کہ جو شخص باہر سے آئے اس کے لیے جگہ کشادہ کی جائے ۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا
فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ
اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا
جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے
ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے
بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(سورۃ المجادلۃ ، رقم الآیۃ:
11)
اس
آیت سے معلوم ہو اکہ ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ نے اجرو ثواب کا وعدہ
فرمایا ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں ۔
گنجائش
ہو تو بیٹھ جائیں:اگر کوئی شخص مجلس میں آیا تو جہاں جگہ ملے بیٹھ جاۓ اور اگر اس کے لیے جگہ کشادہ کی
جائے تو ادھر ضرور بیٹھے کہ اللہ کی طرف سے عزت دی گئی ۔
عَنِ ابْنِ شَيْبَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ إِلَى
الْقَوْمِ فَأُوسِعَ لَهُ فَلْيَجْلِسْ فَإِنَّمَا هِيَ كَرَامَةٌ مِنَ اللَّهِ
عَزَّ وَجَلَّ أَكْرَمَهُ بِهَا أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فَإِنْ لَمْ يُوَسَّعْ لَهُ
فَلْيَنْظُرْ أَوْسَعَهَا مَكَانًا فَلْيَجْلِسْ فِيهِ۔
ترجمہ:
حضرت مصعب بن شیبہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ جب کوئی
شخص لوگوں کے پاس آئے اور اس کے بیٹھنے کے لیے گنجائش پیدا کی جائے تو اسے چاہیے
کہ وہ بیٹھ جائے کیونکہ یہ اللہ رب العزت کی طرف سے ملنے والی عزت ہے جو اس کے مسلمان
بھائی نے اس کےلیے کی ہے اور اگر اس کے لیےگنجائش پیدا نہ ہو سکے تو کسی اور کشادہ
جگہ کو دیکھے اور وہیں جا کر بیٹھ جائے۔(بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث ، باب
ماجاء فی الجلوس، الرقم: 919)
لوگوں
کے بیچ گھس کر نہ بیٹھیں:محفل میں ہر انسان کو چاہیے کہ
جب کچھ لوگ اکھٹے بیٹھے ہوں تو ان میں گھس کر نہ بیٹھے کہ یہ عادت و فطرت کے عین
مخالف ہے ۔ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ
عَنْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ
جَلَسَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ. ترجمہ:
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے
جو(مجلس میں)لوگوں کے حلقہ میں درمیان میں جا کر بیٹھے۔(سنن ابی داؤد ، باب الجلوس
وسط الحلقۃ، الرقم: 4826)
کسی
کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائیں:یہ چیز بھی انتہائی ناپسندیدہ
ہے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا دیا اورخود بیٹھ جاۓ کہ سامنے والے کے دل میں بد
گمانی،نفرت اور طرح طرح کے گناہ پیدا کرنے اور خود مومن کی دل آزاری کے سبب جہنم
کا حقدار بن سکتا ہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ
النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ
الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ۔ ترجمہ:
حضرت ا بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: کوئی شخص کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے اورخود اسی جگہ بیٹھ جائے۔(صحیح
البخاری،باب لا یقیم الرجل الرجل من مجلسہ ، الرقم: 6269)
جگہ
کا زیادہ حقدار کون ہےاگر کوئی مجلس سے اٹھے اور واپسی آجاۓ اور اس جگہ پر کوئی اور بیٹھ
جاۓ تو
پہلے والا شخص ادھر بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ
النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ منْ
مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ۔ ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے
اٹھے اور پھر واپس آ جائے تو اس جگہ کا وہی زیادہ حقدار ہو گا۔(سنن ابن ماجہ، باب
من قام من مجلس فرجع فھو احق بہ ، الرقم: 3717)
بلا
اجازت لوگوں کے درمیان نہ بیٹھیں:یہ بہت بری اور نازیبا چیز ہے
کہ لوگ آپس میں personal بات کررہے ہوں اور کوئی ان میں بیٹھ جاۓ بلکہ اسے چاہیے کہ پہلے اجازت
لے اگر مل جاۓ تو بیٹھے
ورنہ نہ بیٹھے عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ
عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا يُجْلَسْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ إِلَّا
بِإِذْنِهِمَا۔ ترجمہ: حضرت عمرو بن شعیب کے والد اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کوئی شخص لوگوں کے درمیان بغیر اجازت
نہ بیٹھے۔(سنن ابی داؤد ، باب فی الرجل یجلس بین الرجلین، الرقم: 4844)
اختتام
مجلس کی دعاپڑھیں:جب مجلس و محفل ختم ہوں تو اس دعا کو پڑھنے کی عادت بنا
لیں۔جو اس دعا کو مجلس کے بعد پڑھ لیتا ہے اگر اس سے اس مجلس میں گناہ یا کوئی بے
مقصد بات ہوئی تو وہ معاف کر دی جاتی ہے۔ عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ فَقَالَ
قَبْلَ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا
غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ۔
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا:جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں بے مقصد باتیں بھی ہو گئیں ہوں تو
مجلس کے آخر میں یہ دعا پڑ ھ لے (تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس
مجلس میں سرزد ہوئے ہوں۔) دعایہ ہے اے اللہ! تیری ذات پاک ہے اور تیرے ہی لیے حمد
ہے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں گناہوں کی معافی طلب
کرتا ہوں ، اور تیرے سامنے توبہ کرتا ہوں ۔(جامع الترمذی، باب مایقول اذا قام من
المجلس، الرقم: 3355)
دینی
مجالس میں بیٹھنا اور ان میں دین سیکھنا ہی حصولِ رضا الہی کا سبب ہے اللہ تعالیٰ
ہمیں دینی مجالس میں بامقصد حاضری کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین بجاہ سید الصادقین ﷺ
Dawateislami