اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ صرف فرد کی اصلاح پر زور دیتا ہے بلکہ معاشرتی زندگی کو بھی بہترین بنیادوں پر قائم کرتا ہے۔ اسلام میں مجلس یعنی بیٹھک یا محفل کے بھی آداب اور حقوق بیان کیے گئے ہیں تاکہ لوگ آپس میں الفت، محبت اور احترام کے ساتھ زندگی گزاریں۔ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر مجالس کے آداب اور ان سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔ اگر مسلمان ان تعلیمات پر عمل کریں تو ان کی محفلیں سکون و رحمت کا ذریعہ بنیں گی اور معاشرہ اخلاق و عدل کی جیتی جاگتی تصویر نظر آئے گا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بارہا اہل ایمان کو مجالس کے آداب سکھائے ہیں۔

مجلس میں جگہ دینا اور وسعت کرنا:ارشادِ خداوندی ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (پارہ 28، سورۃ المجادلہ، آیت نمبر 11)

یہ آیت ہمیں مجلس میں تنگ نظری اور خودغرضی سے بچنے اور دوسروں کو عزت دینے کی تعلیم دیتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنی احادیث میں بھی مجالس کے کئی حقوق بیان فرمائے ہیں:

مجلس کی امانت داری:نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ سَفْکُ دَمٍ حَرَامٍ أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ أَوْ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ۔

احمد بن صالح، عبداللہ بن نافع، ابن ابوذئب، ابن اخی حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجالس امانت ہوتی ہیں سوائے تین مجالس کے۔ کسی حرام خون کو بہانے والی مجالس۔ حرام شرمگاہ سے فائدہ اٹھانے والی مجلس کے۔ یا کسی کا مال ناحق لوٹ لینے والی مجلس کے۔ (سنن ابوداؤد : جلد سوم : حدیث 1465)

یعنی جو بات کسی مجلس میں کہی جائے، اگر وہ امانت کے طور پر ہو تو اسے باہر ظاہر کرنا خیانت ہے۔

مجلس میں خوشبو اور ذکر کا غلبہ:رسول ﷺ نے فرمایا: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَمْ يَذْکُرْ اللَّهَ تَعَالَی فِيهِ إِلَّا کَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْکُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ إِلَّا کَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔

حامد بن یحیی، ابوعاصم، ابن عجلان، مقبری، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے بستر پر لیٹا اور اس میں اس نے اللہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ لیٹنا اس کے لیے باعث ندامت ہوگا۔ اور جو مجلس میں بیٹھا اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا تو وہ مجلس قیامت کے روز اس کے لیے باعث حسرت و ندامت ہوگی۔ (سنن ابوداؤد : جلد سوم : حدیث 1651)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ مجلس کو ذکرِ الٰہی اور نیک باتوں سے معطر کرنا چاہیے۔

سلام اور دعا کا اہتمام:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ قَالَا حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ الْمُفَضَّلِ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ مُسَدَّدٌ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْتَهَی أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتْ الْأُولَی بِأَحَقَّ مِنْ الْآخِرَةِ

احمد بن حنبل، مسدد، بشر بن مفضل، ابن عجلان، مقبری، مسدد، سعید بن ابوسعید مقبری حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مجلس ختم کر کے اٹھے تو اسے چاہیے کہ سلام کرے کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ مناسب اور ضروری نہیں۔ (جس طرح آتے وقت سلام کیا تھا اسی طرح جاتے وقت بھی کرو۔) (سنن ابوداؤد : جلد سوم : حدیث 1796)

اسلام نے مجالس کے جتنے حقوق بیان کیے ہیں، وہ سب انسانوں کے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور معاشرے میں خیر و برکت پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اگر ہر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق مجلس کے آداب اختیار کرے تو نہ صرف ہماری محفلیں نورِ ایمان سے بھر جائیں گی بلکہ معاشرہ امن، محبت اور عزت و احترام کی مثال بن جائے گا۔