اسلام
ایک ایسا کامل نظامِ حیات ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے کے لیے آداب اور اصول متعین
فرمائے ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ہر مسلمان کو اپنے معاملات کو ایسے سنوارنے
کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی راحت و سکون کا
ذریعہ بنے۔ انہی اہم پہلوؤں میں سے ایک پہلو مجلس کے حقوق ہیں۔ مجلس انسانوں کی
نشست و برخاست، میل جول اور معاشرتی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ قرآن کریم، احادیث نبویہ،
اقوالِ بزرگانِ دین اور حکایات اس موضوع کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ
اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا
تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ
کنزالایمان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ
کر دو، اللہ تمہیں کشادگی دے گا، اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو اٹھ کھڑے ہو
جاؤ، اللہ تم میں ایمان والوں اور علم والوں کے درجے بلند کرے گا، اور اللہ کو
تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(سورۃ المجادلہ، آیت 11)
تشریح
(صراط الجنان):اس آیت میں مجلس کے حقوق اور آداب بیان فرمائے گئے ہیں۔ مسلمانوں کو
حکم ہے کہ مجلس میں آنے والوں کے لیے جگہ کشادہ کریں، تنگی اور بے ادبی نہ کریں۔
اگر صاحبِ مجلس یا بڑے حکم دیں کہ مجلس ختم کرو یا اٹھ جاؤ تو فرمانبرداری سے عمل
کرو۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مجلس کا ادب کرنے والے کو اللہ دنیا و آخرت میں
وسعت عطا فرماتا ہے۔(صراط الجنان، تفسیر سورۃ المجادلہ، ج:9، ص:87، مکتبۃ المدینہ)
مجلس کا ادب:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب تم
تین شخص ہو تو دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں کہ تیسرے کو رنج ہو۔ (صحیح بخاری،
کتاب الاستئذان، حدیث: 6288، دار طوق النجاة، بیروت، 1422ھ)
سلام
اور اجازت کا ادب:جب کوئی شخص مجلس میں آئے تو سلام کرے اور جب اٹھنے لگے
تب بھی سلام کرے، پہلی سلام دوسری سے زیادہ ضروری نہیں۔(سنن ابوداؤد، کتاب الادب،
حدیث: 5208، دار الرسالۃ العالمیۃ، بیروت، 1430ھ)
اچھے
کلمات کی مجلس:جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ مجلس میں اچھی
بات کہے یا خاموش رہے۔
(صحیح مسلم، کتاب الایمان،
حدیث: 47، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1374ھ)
اقوالِ
بزرگانِ دین:حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:مجلس ایسی
ہو جس میں خیر کی بات ہو، کیونکہ مجلسیں دل کو نرم کرتی ہیں اور علم بڑھاتی ہیں۔(نہج
البلاغہ، خطبات و اقوال، ص: 225، مکتبۃ المصطفیٰ، لاہور، 2015ء)
حضرت
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:مجلس میں بیٹھنے کا ادب یہ ہے کہ آدمی اپنے
سے بڑوں کا احترام کرے، چھوٹوں پر شفقت کرے اور اپنی زبان کو فضول گوئی سے بچائے۔ (احیاء
علوم الدین، ج:2، ص: 301، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 2005ء)
ایک
حکایت میں آتا ہے کہ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے۔
ایک شخص نے آپ کے سامنے کسی کی غیبت شروع کی تو آپ نے فوراً فرمایا:یہ مجلس ذکرِ
الٰہی کی ہے، اسے غیبت سے آلودہ نہ کرو، اگر تم باز نہ آئے تو میں مجلس سے اٹھ
جاؤں گا۔یہ سن کر وہ شخص خاموش ہو گیا اور پھر مجلس میں ذکر و نصیحت کا سلسلہ جاری
رہا۔(حلیۃ الاولیاء، ابو نعیم اصفہانی، ج:6، ص: 390، دار الکتب العلمیۃ، بیروت،
1405ھ)
Dawateislami