کوئی شخص کسی کی جگہ آکر بیٹھ جائے تو دوسرا اسے اپنی جگہ سے اٹھا سکتا ہے اور بیٹھنے والے کو چاہیے کہ وہ اس کے لئے جگہ خالی کردے۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں مجلس میں دوسروں کو تکلیف دینے سے بچائے اور اسلامی بھائیوں کے لیے جگہ کشادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

(1)سلام کرنا:عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَہَی أَحَدُکُمْ إِلَی مَجْلِسٍ فَلْیُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَأَ لَہُ أَنْ یَجْلِسَ فَلْیَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْیُسَلِّمْ ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنے کی ضرورت ہو تو بیٹھ جائے اور جب چلنے لگے تو دوبارہ سلام کرے (انوار الحدیث باب المصالحہ ص،378 مکتبۃ المدینہ)

(2) ذکر الہٰی کرنا :عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًالَمْ يَذْكُرِ اللهَ تَعَالَى فِيْهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تَعَالَى تِرَةٌ وَمَنِ اضْطَجَعَ مُضْجَعًا لَايَذْكُرُ اللهَ تَعَالَى فِيْهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تِرَةٌ ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا:”جو کسی مجلس میں بیٹھےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حسرت وخسارہ ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور ذِکرِ الٰہی نہ کرے تو اس کے لیے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ندامت ہوگی۔( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:819 )

شرح حدیث : سوتےوقت ذِکر الٰہی کرنا : مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: اس حدیث میں مجلس سے مراد ہر جائز مجلس ہے جو کہ گندگی وغیرہ سے خالی ہو لہٰذا قضائے حاجت کی مجلس،اسی طرح شراب خوروں کی مجلس اس سے مستثنیٰ ہے ان موقعوں پر خدا تعالیٰ کا نام لینا بے ادبی ہے۔

(3)جگہ کشدہ کرنا:حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیداکرو ۔“(راوی کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:825 )

(4)جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھنا:حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:827 )

(5) کشادہ مجلس ہونا: حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831 )

شرح حدیث:ایسی مجلس بہت مبارک ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں کُشادہ مجلس کو بہترین مجلس کہا گیا ہے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں:”کشادہ مجلس کو بہترین مجلس اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں بیٹھنے والے کو راحت ملتی ہے اور مجلس کی تنگی کی وجہ سے آپس میں بُعض و کینہ پیدا نہیں ہوتا۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831 )