محمد
مبشر عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
شہنشاہِ مدینہ ﷺ کی
عاجزی و انکساری پر قربان ! آپ ﷺ اپنے بیٹھنے کی کوئی جگہ معین نہ فرماتے اور
مجلس کے آخری حصے میں بھی بیٹھ جاتے۔ چنانچہ حضرت سیدنا امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں
نے اپنے والد حضرت سیدنا علی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سے دریافت کیا: تاجدار
دوعالم ﷺ کی مجلس کیسی ہوتی تھی انہوں نے جواب دیا: آپ ﷺ اٹھتے
بیٹھتے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتے تھے ، کوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین
نہ فرماتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ جب کسی قوم کی
مجلس میں تشریف لے جاتے تو مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا
کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ اپنے ہم نشینوں کو علٰی قدر مراتب (یعنی ان کے
مقام و مرتبہ کے مطابق ) نوازا کرتے تھے جس سے ہر ایک یہی گمان کرتا تھا کہ آقائے
دو جہان، رحمتِ عالمیان ﷺ کی سب سے زیادہ نظر کرم میرے ہی حال پر ہے۔ جو
شخص بارگاہِ رسالت صلى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلہ وسلم میں حاضر ہوتا یا کسی
حاجت کے سبب آنا پڑتا تو جب تک وہ فارغ ہو کر چلا نہ جاتا اتنی دیر آپ صلی اللہ
تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّم اس کے پاس تشریف رکھتے۔ جس نے بھی آپ ﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ میں اپنی حاجت پیش کی اس کی
ضرور آپ ﷺ نے حاجت روائی فرمائی یا اسے
سمجھا کر مطمئن کر دیا۔ ( الشفا ، الجزء الاول ، صفحہ نمبر : 159 )
آئیے
ہم بھی مجلس کے حقوق کے متعلق کچھ احادیث اقوال پڑھتے ہیں ۔
(1)
مجلس کے آخر میں بیٹھنا : حضرت سیدنا جابر بن سمرہ رَضِيَ
اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فرماتے ہیں: ”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صلی الله
تَعَالَى عَلَيْهِ وَالهِ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ
جاتے۔ (ابو داؤد شریف ، کتاب الادب ، باب فی التحلق ، جلد : 4 ، صفحہ نمبر : 339 ،
حدیث نمبر : 4825 )
(2)
لوگوں کے درمیان گُھس کر نہ بیٹھنا : حضرت سید نا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللهﷺ نے حلقہ
کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت فرمائی۔ ترمذی نے حضرت ابو مِجْلَز رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ ایک شخص حلقے کے درمیان بیٹھا
تو حضرت سیدنا حذیفہ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ”حضرت محمد ﷺ کی زبان
پر یہ شخص ملعون (یعنی لعنت کیا گیا) ہے۔ “ یا کہا: ” اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ
کی زبان سے حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت بھیجی ہے۔ (ترمذی شریف ، کتاب
الادب ، باب ما جاء فی کراھیۃ القعود وسط الحلقۃ ، جلد نمبر : 4 ، صفحہ نمبر : 346
، حدیث نمبر : 2762 )
(3)مجلس
کشادہ رکھنا : حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ
سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم رؤوف رحیم ﷺ الہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:
"بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔ (فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : مجلس
اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد نمبر : 6 ، صفحہ نمبر : 371 ، حدیث نمبر :
831 ، مکتبۃ المدینہ)
(4)
مجلس میں اللہ کا ذکر کرنا : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی
عَنْہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہے اور
اس میں اللہ عَزَّ وَجَل کا ذکر نہیں کرتی اور نبی پاک ﷺ پر درود پاک نہیں پڑھتی
تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہو گی، اگر اللہ عزو جل چاہے تو انہیں عذاب دے
اور چاہے تو معاف فرمادے۔ (ترمذی شریف ، کتاب الدعوات ، باب فی القوم یجلسون ولا یذکرون
اللہ ، جلد نمبر : 5 ، صفحہ نمبر : 247 ، حدیث نمبر : 3391 )
(5)
مجلس کے اختتام پر دعا کرنا : حضرت سیدنا ابو برزہ رَضِيَ
اللهُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: حضور نبی اکرم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ
وَآلِهِ وَسَلَّم اپنی عمر کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے
تو یہ الفاظ کہتے : " سُبْحَانَكَ
اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ اسْتَغْفِرُكَ
وَأَتُوبُ إِلَيْكَ "یعنی اے اللہ ! تو پاک ہے، تیرے لئے حمد ہے اور میں
گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری
طرف توبہ کرتا ہوں۔ “ ایک شخص نے عرض کی: یارسول الله ﷺ ! اس
سے پہلے آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَالہ وسلم یہ الفاظ نہیں فرمایا کرتے
تھے آپ صلى الله تَعَالَى عَلَيْهِ
وَالِهِ وَسلم نے فرمایا: یہ الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں۔
(فیضان
ریاض الصالحین مترجم ، باب : مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد نمبر : 6 ،
صفحہ نمبر : 372 ، حدیث نمبر : 833 ، مکتبۃ المدینہ )
اللہ
تعالیٰ ہمیں مجلس کے حقوق و آداب پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
Dawateislami