مجلس
انسان کی معاشرتی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ بیٹھ کر گفتگو
کرتے ہیں، اپنے خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی صحبت سے فائدہ اٹھاتے
ہیں۔ مجلس کے کچھ آداب اور حقوق ہوتے ہیں جن کا خیال رکھنا معاشرتی ہم آہنگی اور
باہمی احترام کے لیے ضروری ہے۔
سب
سے پہلا حق یہ ہے کہ مجلس میں داخل ہوتے وقت اجازت لینا اور سلام کرنا چاہیے۔ اس
سے مجلس میں بیٹھے ہوئے افراد کو احساس ہوتا ہے کہ آنے والا شخص عزت و احترام کے
ساتھ شامل ہوا ہے۔ اسی طرح، مجلس میں بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ اختیار کرنا چاہیے
اور اگر کوئی بڑی عمر یا معزز شخصیت موجود ہو تو انہیں آگے بیٹھنے کا موقع دینا
چاہیے۔
مجلس
میں گفتگو کے دوران آواز کا لہجہ نرم اور مناسب ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کو تکلیف
نہ ہو۔ کوئی بات کرتے وقت دوسروں کی بات نہ کاٹی جائے اور سب کو بولنے کا موقع دیا
جائے۔ اگر کوئی شخص بات کر رہا ہو تو پوری توجہ سے سننا بھی مجلس کا حق ہے۔
مجلسوں
میں جگہ کی کشادگی:مجلسوں میں بیٹھنے کے بہت سے آداب ہیں اس حوالے سے ایک
آیت کریمہ ملاحظہ فرمائیں رب العالمین فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا
فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ
اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ کنزالایمان: ایمان والو جب تم سے کہا
جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے
ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے
بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔( سورۃ المجادلۃ(58) آیت(11)
اس
آیت سے معلوم ہو اکہ ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ نے اجرو ثواب کا وعدہ
فرمایا ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں ۔
حضرت
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا
اور اس حاملِ قرآن کی تعظیم کرناجو قرآن میں غُلُو نہ کرے اور ا س کے احکام پر
عمل کرے اور عادل سلطان کی تعظیم کرنا، اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرنے میں داخل ہے ۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی تنزیل
الناس منازلہم، ۴ / ۳۴۴، الحدیث:
۴۸۴۳)
مجلس
کے آداب:مجلس کے آداب کے حوالے سے کچھ نکات ملاحظہ فرمائیں جیسے
کہ
(1)
کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت ہے۔ اور دوسری روایت میں
ہے کہ کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے
جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے۔ (سنن ابی داود، كتاب الادب، باب في الرجل يجلس بين
الرجلين بغير اذنهما، الحديث:٤٨٤٤-٠٤٨٤٥ ج ٤ ، ص ٣٤٤)
(2)
جب تم بیٹھو تو اپنے جوتے اتار لو تمہارے قدم آرام پائیں گے ۔ (كنز العمال، كتاب
الصحبة، قسم الأقوال، حق المجالس والجلوس، الحديث: ٠٢٥٣٩٠ ج ۹، ص ٥٩)
جب
کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر وہ واپس لوٹ کر آئے (یعنی جب کہ جلد ہی لوٹ آئے
) تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ مستحق و حقدار ہے۔ (سنن ابی داود کتاب الادب، باب اذا
قام الرجل من مجلس ثم رجع، الحديث ٤٨٥٣ ، ج ٤ ، ص ٣٤٦)
ان
ارشادات سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہمیں مجلس میں ایک دوسرے کی جگہ کا خیال کرنا چاہیے
اور جب مجلس ختم ہو تو خاموشی سے اور بغیر شور شرابے کے اٹھنا چاہیے اور جاتے وقت
بھی دعا یا نیک خواہشات کے ساتھ رخصت ہونا چاہیے۔ اس طرح مجلس میں آنے اور جانے کا
تاثر خوشگوار رہتا ہے۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
Dawateislami