انسانی معاشرت کا حسن اس کی مجالس میں جھلکتا ہے۔ مجالس ہی وہ آئینہ ہیں جہاں اخلاق و کردار کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ اسلام نے جہاں عبادات اور معاملات کی تفصیل بیان کی، وہاں نشست و برخاست کے بھی آداب مقرر کیے تاکہ ہر مجلس خیر و برکت کا ذریعہ بنے۔ سوال یہ ہے کہ مجلس کو صالح اور بامقصد بنانے کے لیے کیا اصول اپنانے چاہییں قرآن و سنت نے اس کا نہایت حسین جواب دیا ہے۔

قرآن میں مجلس کا تصوراللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ- ترجمہ کنز العرفان:"اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا "(المجادلۃ،58: 11)

یہ آیت سکھاتی ہے کہ مجلس میں ایثار اور وسعتِ قلب اختیار کرو، تاکہ اللہ زندگی اور آخرت میں وسعت دے۔ مجلس صرف ملاقات نہیں بلکہ باہمی عزت، ادب اور اخوت کا آئینہ ہے۔

مجالس کے حقوق:رسول اللہ ﷺ نے مجالس کے آداب پر بارہا تاکید فرمائی آپ ﷺنے مجلس کو کشادہ کرنے کے بارے میں فرمایا:من أَتَى مَجْلِسا ‌فَوسعَ ‌لَهُ حَتَّى يرضى كَانَ حَقًا على الله عز وجل رضاهم يَوْم الْقِيَامَة ۔

"جو شخص کسی مجلس میں آئے اور اس کے لیے جگہ کشادہ کر دی جائے یہاں تک کہ وہ راضی ہو جائے، تو اللہ عزوجل کے ذمہ ہے کہ قیامت کے دن اُنہیں راضی فرمائے۔"(الدیلمی،شیرویہ بن شھردار،الفردوس بماثور الخطاب،ج:3،ص:619،رقم الحدیث:5933،(الناشر:دارالکتب العلمیۃ،بیروت،1406ھ))

رسول اللہ ﷺ نے مجالس کے حقوق کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:إِذَا ‌قَامَ ‌أَحَدُكُمْ ‌مِنْ ‌مَجْلِسِهِ، ‌ثُمَّ ‌رَجَعَ، ‌فَهُوَ ‌أَحَقُّ ‌بِهِ۔"یعنی اگر کوئی اپنی جگہ سے اٹھے اور واپس آئے تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے" ((القزوینی،محمد یزید ابن ماجہ،جامع السنن،ص:783،رقم الحدیث:3713،(الناشر:دار الصدیق للنشر،السعودیۃ ،1435ھ))

اس سے واضح ہوا کہ مجلس میں عدل، مساوات اور ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: ‌مَنْ ‌جَلَسَ ‌مَجْلِسًا ‌فَكَثُرَ ‌فِيهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ۔ "جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا اور اس میں اس کی باتیں زیادہ ہو گئیں (لغو و فضول باتیں ہوئیں)، پھر وہ اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے: سبحانک اللهم وبحمدک، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليكتو اس مجلس میں جو کچھ (لغویات یا کوتاہیاں) ہوئیں، ان سب کی بخشش کر دی جاتی ہے۔" (التبریزی،محمد بن عبداللہ،مشکاۃ المصابیح،ج:2،ص:752،رقم الحدیث:2433،(الناشر:المکتب الاسلامی،بیروت ،1985ء)

مجلس کے آداب:اسلامی تعلیمات کے مطابق مجلس کے بنیادی آداب یہ ہیں:

1. سلام کے ساتھ آغاز اور دعا کے ساتھ اختتام۔

2. دوسروں کے لیے جگہ دینا اور احترام قائم رکھنا۔

3. لغویات اور بے مقصد باتوں سے اجتناب۔

4. گفتگو میں عدل اور ہر ایک کو بولنے کا حق دینا۔

5. ناپسندیدہ یا شرعی طور پر ممنوع موضوعات سے بچنا۔

اسلام نے مجالس کو محض ملاقات کا ذریعہ نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور سماجی تربیت کا مرکز بنایا ہے۔ اچھی مجلس فرشتوں کی دعا اور اللہ کی رحمت کا باعث ہے، جبکہ بری مجلس انسان کو جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی مجالس کو ذکرِ الٰہی، علم و حکمت اور محبت و اخوت سے مزین کرے تاکہ دنیا بھی سنورے اور آخرت بھی روشن ہو۔