عبدالمجید
عطاری ( جامعۃ المدینہ کنز الایمان رائیونڈ ضلع لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ انفرادی زندگی
ہو یا اجتماعی، ہر موقع پر آداب اور اخلاق کا خیال رکھنا ایک مؤمن کی پہچان ہے۔
اسلام نے "مجلس" یعنی کسی اجتماع یا نشست کے بھی مخصوص حقوق بیان کیے ہیں
تاکہ معاشر ہ حسنِ اخلاق، باہمی عزت اور ادب پر قائم رہے۔
1.
مجلس میں خوش اخلاقی اور نرم گفتاری:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیرا أو لیصمت"ترجمہ:جو
شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ بھلا کلام کرے یا خاموش
رہے۔ (صحیح بخاری: 6475، صحیح مسلم: 47)
مجلس
میں خوش اخلاقی اور مثبت گفتگو کا حکم ہے تاکہ دلوں میں محبت اور الفت پیدا ہو۔
2.
بیٹھنے کی جگہ کا لحاظ رکھنا:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے:نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ
وَيَجْلِسَ فِيهِترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی شخص دوسرے کو
اُس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں بیٹھے۔ (صحیح بخاری: 6269، صحیح مسلم: 2177)
یہ
حدیث ہمیں مجلس میں موجود افراد کا احترام سکھاتی ہے۔
3.
مجلس میں عدل و مساوات:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إذا أتاکم كريم قوم فأكرموه "ترجمہ:جب تمہارے
پاس کسی قوم کا معزز فرد آئے تو اس کی عزت کرو۔ (ابو داؤد: 4843)
5.
مجلس میں راز داری:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"المجالس بالأمانة"ترجمہ:مجلسیں امانت ہوتی
ہیں۔ (ابو داؤد: 4869، حسن)
یعنی
جو بات کسی مجلس میں رازدارانہ ہو، اس کا افشاء کرنا منع ہے۔
مجلس،
چاہے دینی ہو یا دنیاوی، اسلام نے اس کے آداب اور حقوق مقرر کیے ہیں تاکہ محبت،
امن، اور عدل پر مبنی معاشرہ قائم ہو۔ ہمیں چاہیے کہ مجلس کے ان حقوق کا خیال رکھیں،
بزرگوں کا احترام کریں، دوسروں کو بولنے دیں، اور اخلاقِ حسنہ سے اپنے کردار کو
سنواریں۔
Dawateislami