اللہ کریم کی ذات بلند و برتر جو جمیع مخلوقات کی خالق ، رازق اور مالک  ہے ، اپنی اطاعت کی سب سے زیادہ حقدار ہے ۔ جیسے دین اسلام نے والدین ، اولاد ، اساتذہ ، پڑوسی ، وغیرہ کے حقوق کو بیان فرمایا اسی طرح مجلس کے حقوق کو بھی واضح طور پر بیان فرمایا اور ان کو ادا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرمایا آئیے مجلس کے حقوق کے بارے جانتے ہیں۔

(1) دو کے درمیان گھس کر نہ بیٹھو :حضرت سیدنا عمرو بن شعیب رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا : کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے۔ ( ترمذی ، کتاب الادب ، باب ما جاء فی کراھیۃ الجلوس --- الخ ، 346/4 ، ح : 2761 )

(2) لوگوں کے بیچ گھس کر بیٹھنے والا ملعون :حضرت سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت فرمائی۔ ( ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب الجلوس وسط الحلقۃ ، 338/4 ، ح : 4826 )

( 3 ) بہترین مجلس : حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔ ( ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب فی سعۃ المجلس ، 338/4 ، ح : 4820 )

(4) مجلس میں ہونے والے گناہوں کی معافی : حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی ایسی مجلس میں بیٹھا جس میں بے فائدہ باتیں زیادہ ہوں پھر اس شخص نے مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کہا : " اے اللہ تو پاک ہے تیرے لیے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں ـ" تو اس شخص سے مجلس میں سرزد ہونے والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔( ترمذی ، کتاب الدعوات ، باب ما یقول اذا قسم من مجلسہ ، 273/5 ، ح : 3444 )

(5) حسرت والی مجلس : حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا : " جو لوگ اللہ عزوجل کا ذکر کئے بغیر مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔( ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب کراھیۃ ان یقوم الرجل من مجلسہ ولا یذکر اللہ ، 347/4 ، ح : 4855 )