محمد
مدثر رضوی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
اسلام
نے اپنے ماننے والوں کی ہر طرح سے رہنمائی فرمائی ہے ۔مجلس میں بیٹھنے اور ساتھ بیٹھنے
والوں کے اداب بھی ذکر کیے تاکہ ہمارا چلنا پھرنا اور اٹھنا بیٹھنا اسلام کے اصولوں
کے مطابق ہو۔ جب بھی کسی مجلس میں بیٹھے ہیں تو جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں
۔گردنیں پھلانگ کر آگے نہ جائیں کسی شخص کو اٹھا کر اس کی اس کی جگہ بیٹھنا منع
ہے۔ اور یہ ادب کے بھی خلاف ہے سنت مبارکہ یہ ہے کہ سرک کر دوسرے اسلامی بھائی کو
جگہ دی جائے۔ اور اگر کوئی اسلامی بھائی اجتماع وغیرہ میں بھی کسی ضرورت کی بنا پر
اپنی جگہ سے تھوڑی دیر کے لیے مثلا پانی پینے یا کسی اور حاجت کے لیے گیا تو کسی
دوسرے کے لیے اس کی جگہ بیٹھنا درست نہیں۔ البتہ اگر وہ اسلامی بھائی چلا ہی گیا
اب واپس نہیں آئے گا تو اب اس کی جگہ کوئی بھی بیٹھ سکتا ہے دو آدمی بیٹھے باتیں
کر رہے ہوں بغیر اجازت ان کے درمیان نہیں بیٹھنا چاہیے مجلس کو ذکر و درود سے خالی
نہیں رکھنا چاہیے کہ ایسی مجلس آخرت میں حسرت اور ندامت کا باعث ہوگی گناہ بھری
مجلسوں سے دور رہنا چاہیے مجلس کے اختتام پر مجلس سے اٹھنے کی دعا پڑھ لینی چاہیے۔
آئیے مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے اداب کے
بارے میں پڑھتے ہیں۔
(1)مجلس
میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے:حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی
دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور
وُسعت پیداکرو ۔“(راوی کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو
آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔(مسلم شریف کتاب السلام باب تحریم اقامۃ الانسان من
موضعہ الخ ص924 حدیث نمبر 5686 )
چنانچہ
حضرت سَیِّدُنَا واثلہ بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے
کہ ایک شخص تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ رحمت دوعالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُس کے لیے
اپنی جگہ سے سِرک گئے۔اس نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جگہ کشادہ موجود ہے(آپ کو سِرکنے اور تکلیف فرمانے کی
ضرورت نہیں)۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد
فرمایا:”مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے۔“
(شعب
الایمان ،باب فی مقاربۃ اھل الدین وموادتھم، فصل فی قیام المرء لصاحبہ الخ ج6 ص
468 حدیث نمبر 8933)
(2) حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی مجلس:شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کی عاجزی و اِنکساری پرقربان!آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم اپنے بیٹھنےکی کوئی جگہ معین نہ فرماتے اور مجلس کے آخری حصے میں بھی بیٹھ
جاتے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت سَیِّدُنا علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے دریافت کیا : تاجدارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس کیسی ہوتی تھی انہوں نے جواب
دیا: آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ
کے ذکر میں مشغول رہتے تھے،کوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین نہ فرماتےاور دوسروں
کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔جب کسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو
مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرمایا کرتے
تھے۔اپنے ہم نشینوں کو علیٰ قدرِمراتب (یعنی ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق) نوازا
کرتے تھے جس سے ہر ایک یہی گمان کرتا تھا کہ آقائے دوجہان، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے زیادہ نظرِ کرم میرے ہی حال
پر ہے۔ جو شخص بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم میں حاضر ہوتا یا کسی حاجت کے سبب آنا پڑتا تو جب تک وہ فارغ ہو کر چلا
نہ جاتا اتنی دیر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے پاس
تشریف رکھتے۔ جس نے بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں اپنی حاجت پیش کی اس کی ضرور آ پ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حاجت روائی فرمائی یا اسے سمجھا کر
مطمئن کردیا۔(الشفاء شریف الجزء الاول ص159)
(3)درمیان
بیٹھنے والے پر لعنت بھیجی ہے:حضرت سَیِّدُنا حذیفہ بن یمان
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حلقہ
کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت فرمائی۔ترمذی نےحضرت ابو مِجْلَزْ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کیا کہ ایک شخص حلقے کے درمیان بیٹھا تو حضرت سَیِّدُنَا
حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:”حضرت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان پریہ شخص ملعون(یعنی لعنت کیا
گیا )ہے۔“یا کہا:” اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان سے حلقہ کے درمیان بیٹھنے
والے پر لعنت بھیجی ہے ۔“
شرح
حدیث:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب کچھ لوگ حلقہ بنا کر بیٹھے ہوں یا
سنتوں بھرا اجتماع ہورہا ہے تو آنے والے اسلامی بھائی کو چاہیے کہ مجلس کے کنارے یا
اختتام میں جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے یہ نہ ہو کہ سب کے کندھوں کو پھلانگتا ہوا
حلقہ کے بیچ میں جا بیٹھے،اس طرح دوسروں کو ایذا بھی ہوتی ہے اور اپنا وقار بھی
خراب ہوتا ہے اور ایسا کرنا سخت منع ہےکہ ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی گئی ہے۔(فیضان
ریاض الصالحین مترجم ،جلد 6 ،ص368، الحدیث 830)
(4)
یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی:حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی
ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاک
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود
پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“(ترمذی شریف
کتاب الدعوات، باب فی القومی یجلسون ولا یذکرون اللہ ، ج5، صفحہ 247، حدیث نمبر
3391)
اللہ
پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ہمیں مجلس اور
ساتھ بیٹھنے والوں کے حقوق کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضور ﷺ کے فرمائے ہوئے طریقہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ اور اللہ پاک ہم سب کو بری مجلسوں سے محفوظ فرمائے اور گناہوں پر مجلسوں
سے دور رکھے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami