قرآن مجید کو سمجھنے ، اس کی تعلیمات کو جاننے اور اس میں بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے پر دنیا و آخرت میں کامیابی کا دار و مدار ہے جو اللہ پاک کی توفیق سے ہی ممکن ہے، یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص قرآن سمجھنے کے لیے عربی سیکھ لے ، علوم عربیہ کا ماہر ہو جائے اور قرآن سمجھنے کا دعویٰ کرنے لگے بلکہ یہ چیزیں اس کے لیے بنیادی علوم کا کام دینے والی ہیں  اصل علم ، ہدایت اور عقل و دانائی جس کا مخزن قرآن ہے اور یہ علم صرف اور صرف توفیق الہی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام فصاحت و بلاغت کے ماہر اور مادری زبان عربی ہونے کے باوجود قرآن سمجھنے کے لیے بار گاہ رسالت میں حاضر ہوتے تھے کیونکہ وہ بھی قرآن کی بہت سی باتیں از خود نہیں سمجھ پاتےتو پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال کرتے تھے ۔

چنانچہ جب سورہ بقرہ کی آیت نمبر 187 وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ترجمہ کنز الایمان: "اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر" ۔ نازل ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان فرمایا گیا ہے تو صحابی رسول حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کالی اور سفید رسی اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ یہ سفید رسی کالی سے جدا ہو جائے گی! ظاہر ہے قرآنی آیت کی یہ مراد نہیں تھی جو انہوں نے سمجھی اور رسیاں جدا نہ ہو ئیں ، وہ صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کی صورت حال بیان کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہاں خَیْطُ الْاَبْیَضُ یعنی سفید ڈورے سے دن کی سفیدی اور خَیْطِ الْاَسْوَدِ یعنی کالے ڈورے سے رات کی سیاہی مراد ہے ۔ (بخاری جلد 1 ص 632،حدیث ،1916،دار الکتب العلمیہ)

مطالعہ تفسیر کہ ضرورت کے لیے پانچ نکات ملاحظہ فرمائیں ۔

بغیر تفسیر کے قرآن پڑھنے کی مثال بزرگان دین نے یوں دی ہے ۔ حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے! اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تاریخ حدیث و تفسیر ص،29 مکتبۃ المدینہ)

(2)بغیر تفسیر کے قرآن پڑھنا کبھی گمراہیت کا موجب بھی ہو سکتا ہے ۔ چناں چہ مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ کا سوال جواب پر مکالمہ ملاحظہ فرمائیں ۔ قرآن سے لوگ گمراہ کیوں ہو جاتے ہیں، وہ ہادی ہے ہادی سے گرا ہی کیسی ؟ج : ایک ہی ہارمونیم کا ایک پردہ دباؤ تو موٹی اور بھاری آواز نکلتی ہے ۔ دوسرا دباؤ تو سریلی اور باریک آواز دیتا ہے ۔ حالانکہ ہوا ایک ہی جاتی ہے ۔ انسان کے قلب و دماغ میں رحمانی پر دے بھی میں شیطانی بھی اگر شیطانی پر دہ غالب ہے تو قرآنی ہوا سے کفر کی آواز نکالتا ہے اگر رحمانی پردہ غالب ہے، تو اس قرآنی ہوا سے ایمان بولتا ہے ۔ یہ قرآن کا قصور نہیں ۔ اپنے پردہ کا قصور ہے ۔ بارش سے کہیں لالہ اگتا ہے کہیں خار ۔ (اسرار الاحکام ،ص 71 ،مکتبہ اسلامیہ )

(3)تفسیر کے ذریعے ہی بندہ قرآن کے صحیح مطالب تک پہنچ سکتا کہ قرآن مخزن علم ہے ۔ اور اس میں اپنی اٹکل پچو سے غوطہ سبب ہلاکت بھی ہو سکتا ہے ۔

(4)ماضی کی تاریخ گواہ ہے جس نے بھی بغیر تفسیرِ کے قرآن اپنی رائے سے بیان کیا اور حدیث کو خاطر میں نہ لا کر عقل کو قرآن فہمی کا مدار قرار دیا وہ گمراہ ہوا ۔

(5)مطالعہ تفسیر کی اہمیت سے آگاہ ہو جانے کے بعد یہ جاننا بھی از حد ضروری ہے کہ تفسیر فقط علماء اہلسنت کی پڑھی جائیں اسی اہمیت کے پیش نظر امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے ہمیں ایک خاص دینی کام تفسیر صراط الجنان روز تین آیات مع ترجمہ کا دینی کام عطا فرمایا ہے ۔ (بارہ دینی کام ،ص49 ،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں قرآن سمجھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔ 


اسلام کی بنیادیں جن آسمانی تعلیمات پر قائم ہیں، اُن میں سب سے عظیم اور ابدی نعمت قرآن مجید ہے ۔  یہ وہ کتابِ ہدایت ہے جو ربِّ کریم نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر اُجالوں کی طرف لانے کے لیے نازل فرمائی ۔ مگر قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے، غور و فکر کرنے اور اس کی روشنی میں زندگی بنانے کے لیے آیا ہے ۔ جب تک انسان قرآن کے اصل پیغام، اس کے پس منظر، اس کے احکام، مقاصد اور اسرار و رموز کو نہ سمجھے، اُس وقت تک قرآن سے حقیقی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مطالعۂ تفسیر کی اہمیت سامنے آتی ہے ۔ تفسیر وہ علم ہے جو قرآن کے الفاظ کا معنی کھولتا ہے، شانِ نزول واضح کرتا ہے، احکام کی حکمت بیان کرتا ہے، اور اللہ کے کلام کو اُس انداز میں سمجھاتا ہے جس طرح رسولِ اکرم ﷺ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سمجھا ۔ موجودہ دور کے فکری انتشار، نظریاتی یلغار اور اخلاقی زوال میں قرآن کو صحیح طور پر سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے ۔ اس لیے مطالعۂ تفسیر محض ایک علمی شوق نہیں بلکہ دینی، فکری اور عملی ضرورت ہے، جو انسان کو راہِ راست دکھاتی اور زندگی کے پیچیدہ مسائل میں روشن چراغ کا کام کرتی ہے ۔ ائیے سب سے پہلے تفسیر کی تعریف ملاحظہ ہو:

تفسیر کی تعریف:تفسیر ایسا علم ہے جس میں قرآن مجید کے احوال کے بارے میں بحث کی جاتی ہے یعنی اس کے نازل ہونے کی جہت سے مکی مدنی ہونے میں اس کی سند اور اس کی ادائیگی اور اس کے الفاظ اور اس کے وہ معانی جو احکام کے ساتھ متعلق ہیں اس کے متعلق بحث کی جاتی ہے اسے تفسیر کہتے ہیں ۔

آئیے مطالعہ تفسیر کی ضرورت اور اہمیت ملاحظہ ہو :

(1) گمراہی سے بچنا:مطالعہ قرآن کے ساتھ تفسیر کا مطالعہ کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ قرآن مجید کا پیغام صحیح طریقے سے ہم سمجھ سکیں اور احکام شریعت پر عمل کر سکیں گمراہی بد دینی اور غلط فہمی اور من پسند تشریحات سے ہم اپنے آپ کو محفوظ کر سکیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم معتبر تفاسیر کے ذریعے قرآن مجید کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔

(2) عجمیوں کا ہلاک ہونا:حضرت امام حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں عجمیوں کو اس بات نے ہلاک کر دیا کہ ان میں سے کوئی قرآن مجید کی آیت پڑھتا اور وہ اس کی معانی سے جاہل ہوتا ہے تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالی پر افترا باندھنا شروع کر دیتا ہے ۔ (البحرالمحیط ،مقدمۃالمؤلف،الترغیب فی تفسیر القرآن ،119، 120)

(3) باطنی باریکیوں کا مجھول ہونا:علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں تفسیر کی حاجت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اللہ عزوجل نے عرب کے بڑے بڑے فصحا کے زمانے میں قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل فرمایا تو وہ لوگ اس کے ظاہری احکامات کو تو جانتے تھے بہرحال اس کے باطن کی باریکیاں ان کے لیے ظاہر نہ تھی مگر بہت غور و فکر کے بعد اور ان کا آقا علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کرنے کے بعد یہ ان کے لیے ظاہر ہوئی اس لیے بھی یہ ضروری ہے ۔ (تفسیر البیضاوی المسمی انوار التنزیل و اسرار التاویل ،ص15،المدینۃالعلمیہ،)


قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت، بصیرت اور زندگی کا مکمل دستور فراہم کرتی ہے ۔  مگر قرآن کے صحیح مفہوم تک رسائی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے اُن معانی اور مقاصد کے ساتھ سمجھا نہ جائے جو اللہ نے نازل فرمائے اور رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے ۔ یہی مقصد مطالعۂ تفسیر ہے ۔ تفسیر قرآن کی وہ علمی خدمت ہے جس کے ذریعے آیاتِ قرآن کے معانی، احکام اور حکمتیں واضح ہوتی ہیں ۔

(1)قرآن کو سمجھنے کا اولین تقاضا:قرآن صرف تلاوت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھ کر عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) ترجمہ کنز الایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں ۔

یہاں سوچنے کا حکم فرمایا ہے اور غور و تدبر کا راستہ تفسیر کے بغیر ممکن نہیں ۔

(2)احکامِ شریعت کے فہم کا ذریعہ:نماز، روزہ، زکوٰۃ، معاملات اور اخلاق ۔ قرآن ہر شعبے کا بنیادی ماخذ ہے ۔ ان احکام کی تفصیل اور فہم تفسیر کے ذریعے ہی حاصل ہوتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ألا إني أوتيت القرآن ومثله ترجمہ:یعنی مجھے قرآن کے ساتھ اس کی تشریح بھی عطا کی گئی ۔

تشریحِ نبوی کو سمجھے بغیر قرآن کے احکام مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آتے ۔

(3)غلط فہمیوں اور گمراہیوں سے حفاظت:ہر دور میں قرآن کے بارے میں غلط تعبیرات سامنے آتی رہی ہیں ۔ تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ انسان کو صحیح فہم عطا کرتا ہے اور من مانی تشریحات سے بچاتا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:من قال في القرآن برأيه فليتبوأ مقعده من النار یعنی جو شخص قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرے، وہ آگ میں جگہ بنا لے ۔ (جامع الترمذی، جلد 2 ،صفحہ 589،حدیث 2901)

اس حدیث سے صحیح تفسیر کی ضرورت واضح ہوتی ہے ۔

مطالعۂ تفسیر قرآن فہم، فہم دین ، صحیح عقیدہ اور روشن عمل کا بنیادی ذریعہ ہے ۔ آج کے دور میں جہاں فکری انتشار عام ہے، تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ ہر مسلمان کی ضرورت بن چکا ہے ۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنا ہی حقیقی ہدایت کا راستہ ہے، اور تفسیر اس راستے کی روشن مشعل ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کے نور کو اپنی زندگیوں میں پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبینﷺ ۔ 


اللہ ربّ العزت نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا جو دنیا و آخرت کی کامیابیوں کا ضامن ہے قرآن ایک عظیم اور بلند کلام ہے، جس کے مفاہیم تک رسائی، اس کے احکام کی صحیح مراد سمجھنے اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے تفسیر کی ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے ۔

(1)تفسیر تعریف :قرآن مجید کے وہ احوال بیان کرنا جو عقل سے معلوم نہ ہوسکیں ۔

اپنے عقل سے تفسیر کرنا:قرآن مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کرنا حرام ہے(تفسیر صراطِ الجنان جلد 1ص31)

(2)اللہ پر افترا باندھنا:حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، عجمیوں کو اس بات نے ہلاک کر دیا کہ ان میں سے کوئی قرآن مجید کی آیت پڑھتا ہے اور وہ اس کے معانی سے جاہل ہوتا ہے تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالی پر افتراء باندھنا شروع کر دیتا ہے ۔ (تفسیر صراطِ الجنان جلد 1ص 32)

(3)امت تفریق کا شکار ہوگی:تفسیر میں ضروری ہے کہ دلیل کے بنیاد پر بات کی جائے، اگر صرف خواہش، ذاتی مفاد، گروہی مقاصد اور فرقے کی حمایت میں، بغیر دلیل کے تفسیر کی جانے تھے تو امت تفرقہ کا شکار ہو گی ۔ امام ابن تیمیہ میلہ نے تفسیر کے بہترین طریقے ذکر کرنے کے بعد تفسیر سے متعلق مندرجہ ذیل بعض احکام ذکر کئے ہیں ۔ ( فی اصول تفسیر جلد1ص103)

(4)بادشاہ کا خط:حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃلله تعالی علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہوا ہے ۔ (تفسیر صراطِ الجنان جلد 1ص35)

(5)تفسیر کا علم رکھنے والے شخص کی مثال :وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تفسیر صراطِ الجنان جلد 1ص36)


قرآن کریم تمام جہانوں کی حقیقی رب کا نازل کردہ کلام ہے جسے اس نے مبارک ہستی نبی اخر الزماں محمد مصطفی  ﷺ پر نازل فرمایا یہ کثیر خیر، کثیر نفع، اور کثیر برکت والا ہے اور رشد و ہدایت کا ایسا سرچشمہ ہے جس کی تعلیمات کو سمجھنے اور اس میں بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے میں اللہ و رسول کی رضا، عظیم ثواب اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا معیار ہے یاد رہے قرآن پاک کتاب ہدایت ہے لیکن ہدایت اسی وقت نصیب ہوگی جب اس سے ہدایت لینے کے اسی طریقے کو اختیار کیا جائے جو اسلاف امت سے رائج ہے یعنی قرآن کو پہلے خود قرآن سے سمجھا جائے جس کو"تفسیر قرآن بالقرآن "کہتے ہیں یا پھر قرآن کو حدیث کے ذریعے سمجھا جائے جس کو" تفسیر قرآن بالحدیث"سے تعبیر کیا جاتا ہے یا پھر قرآن کی تشریح صحابہ و تابعین کرام کے اقوال و آثار سے لی جائے گی جس کو"تفسیر قرآن بآثار الصحابہ و تابعین"کہتے ہیں اور اگر کسی مسئلے کا حل ان تینوں میں نہ ملے تو پھر تفسیر بالدرایہ (یعنی مستند علماء فقہاء کی بیان کردہ تفسیر) کی طرف جایا جائے گا اسی لیے قرآن پاک کی تفسیر پڑھنا بہت اہمیت و ضرورت کی حامل ہے،چنانچہ تفسیر قرآن کی ضرورت و اہمیت پر چند باتیں گوشے گزار ہیں ۔

(1) جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب دیا گیا : امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: جس زمانے میں قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا اس وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کے ماہرین موجود تھے وہ اس کے ظاہر اور اس کے احکام کو تو جانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر غور و فکر کرنے اور نبی کریم ﷺ سے سوالات کرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی تھی جیسے کہ بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب دیا گیا ،، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اللہ پاک نے یہ نہیں ارشاد فرمایا فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ(۸)ترجمہ کنز الایمان: اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا ۔ (پ30 انشقاق 8)

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:یہ تو صرف اعمال کا پیش ہونا ہے لیکن جس سے اعمال کے حساب کے معاملے میں جرح کی گئی تو وہ عذاب میں گرفتار ہو جائے گا اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں تو جب میدان فصاحت و بلاغت کے شاہ سواروں کو قرآن کے معنی سمجھنے کے لیے الفاظ قرآن کی تفسیر کی حاجت ہوئی تو ہم تو اس چیز کے زیادہ محتاج ہیں جن کی انہیں ضرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس چیز کے محتاج ہیں کیونکہ ہمیں بغیر سیکھے لوگوں کے اسرار و رموز اور اس کے مراتب معلوم نہیں ہو سکتے (بخاری شریف55/1 حدیث حدیث 103)

(2)سیاہ و سفید دھاگہ : قرآن مجید علم و حکمت کا سمندر اور علوم و معارف کا عظیم شاہکار ہے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام فصاحت و بلاغت کے ماہر اور مادری زبان عربی ہونے کے باوجود قرآن سمجھنے کے لیے بار گاہ رسالت میں حاضر ہوتے تھے کیونکہ وہ بھی قرآن کی بہت سی باتیں از خود نہیں سمجھ پاتے تو پیارے آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال کرتے تھے ۔ چنانچہ جب سورہ بقرۃکی آیت نمبر 187 وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرترجمہ کنز الایمان:" اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر"نازل ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان فرمایا گیا ہے تو صحابی رسول حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کالی اور سفید رسی اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ یہ سفید رسی کالی سے جدا ہو جائے گی! ظاہر ہے قرآنی آیت کی یہ مراد نہیں تھی جو انہوں نے سمجھی اور رسیاں جدا نہ ہو ئیں ، وہ صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کی صورت حال بیان کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہاں خَیْطُ الْاَبْیَضُیعنی سفید ڈورے سے دن کی سفیدی اور خَیْطِ الْاَسْوَدِ یعنی کالے ڈورے سے رات کی سیاہی مراد ہے ۔ (بخاری شریف 1 ص 132 حدیث 1916)

یقیناً صحابہ کرام فہم و فراست اور عقل و دانائی میں ہم سے بہت بڑھ کر تھے جب ان حضرات کو قرآن سمجھنے کے لیے تفسیر قرآن کی ضرورت تھی تو ہم ان سے کئی گنا زیادہ تفسیر قرآن کے محتاج ہیں ۔

(3)مخزن علم: قرآن پاک علم حقیقی کا خزانہ ہے ، اس میں بیان کی گئی باتیں اپنے اصل مفہوم کی سچائی کے ساتھ ساتھ کئی علوم کو اپنے دامن میں لی ہوئی ہیں اس لئے قرآن پاک میں غور و فکر کرنا اور اس کی تفسیر پڑھنا بہت ضروری ہے ۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو علم حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہو اسے چاہیے قرآن میں خوب غور و خوض کرے کیونکہ قرآن میں اگلوں اور پچھلوں کا علم موجود ہے ۔ ( شعب الایمان ،ج2 ص 332 حدیث 1960)

(4) بڑی عبادت و سعادت : قرآن فہمی بہت بڑی عبادت و سعادت ہے، لہذا تلاوت قرآن کے ساتھ مستند تفاسیر کے ذریعے معانی قرآن بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ ( تفسیر قرطبی ج1 ص 41)

(5)صحابہ کرام کی سنت : قرآن پاک کی آیات میں غور و فکر کرنا اور ان کی تفسیر پڑھنا یہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا مبارک طریقہ ہے جس پر عمل دنیاو آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے چنانچہ مشہور تابعی حضرت عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ میں سے جو حضرات ہمیں قرآن عظیم کی تعلیم دیا کرتے تھے انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے دس آیتیں سیکھتے اور اس وقت تک ان سے آگے نہیں بڑھتے تھے جب تک ان آیات کی تمام علمی اور عملی باتوں کا علم حاصل نہ کر لیں ۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ج15 ص 436حدیث 30549)

پیارے اسلامی بھائیو! قرآن مجید ایک عظیم الشان کتاب ہے جو امت مسلمہ کی عظمت، ناموری اور کامیابی و کامرانی کا ذریعہ ہے، لیکن یہ ناموری اور عظمت اسی صورت حاصل ہو سکتی ہے جب اس کے احکامات اور تعلیمات کو سمجھ کر عمل کیا جائے مگر افسوس فی زمانہ مسلمانوں کی ایک تعداد کو قرآن پاک کے دیے ہوئے احکامات اور اس کی روشن تعلیمات کی خبر تک نہیں اے کاش ہم بھی قرآن پاک کی مستند تفاسیر کا مطالعہ کر کے اس کے احکامات اور تعلیمات کو سمجھ کر اس پر عمل کے خوگر بن جائیں اللہ پاک ہمیں قرآن پاک کے احکامات اور تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ 


قرآن مجید ربّ العالمین کا وہ عظیم ترین کلام ہے جو انسانیت کی ہدایت، اصلاح اور فلاح کے لیے نازل ہوا ۔  یہ کتاب صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے، غور کرنے اور عمل کرنے کے لیے اتاری گئی ہے ۔ چنانچہ قرآن کے اصل پیغام تک پہنچنے کے لیے مطالعۂ تفسیر بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ تفسیر وہ علم ہے جو قرآن کے معانی، احکام، مقاصد اور حکمتوں کو واضح کرتا ہے، اور یہی وضاحت انسان کی فکری اور عملی زندگی کو سنوارتی ہے ۔ قرآن کا ہر لفظ اپنے اندر ایک وسیع جہان رکھتا ہے ۔ اس کی آیات کبھی عقائد بیان کرتی ہیں، کبھی اخلاق، کبھی احکامِ شریعت، کبھی حکمتیں، کبھی گزشتہ امتوں کے واقعات، اور کبھی آخرت کا تذکرہ ۔ ان تمام پہلوؤں کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے محض ترجمہ کافی نہیں ہوتا ۔ تفسیر قاری کے سامنے قرآن کے اصل معانی کھولتی ہے اور اسے یہ بتاتی ہے کہ کون سی آیت کس موقع پر نازل ہوئی، اس کا پس منظر کیا ہے اور اس سے کیا عملی رہنمائی ملتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی وضاحت کا کام سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کو سپرد کیا، اور اسی ذمہ داری کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے:

لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْترجمہ کنز الایمان: کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا ۔

یہ آیت خود بتا رہی ہے کہ قرآن کی صحیح تفہیم بغیر تفسیر کے ممکن نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور تشریحات کے بغیر قرآن کے کئی پہلو انسان کی سمجھ سے باہر رہ جاتے ہیں ۔ تفسیر کے مطالعے سے ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے ۔ جب انسان قرآن کے گہرے معانی، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جلوے، انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد اور آخرت کی حقیقت پر غور کرتا ہے تو اس کا دل یقین و خشیت سے بھر جاتا ہے ۔ تفسیر قرآن کے ایسے لطیف نکات کھولتی ہے جو محض ترجمہ پڑھنے سے ظاہر نہیں ہوتے، اور یہی نکات انسان کے اندر ایک روحانی بیداری پیدا کرتے ہیں ۔ اسی طرح تفسیر انسان کو عملی زندگی کے مسائل میں قرآن کی رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ قرآن میں احکامِ حلال و حرام، معاملات، عبادات، عائلی زندگی، معاشی اصول، عدل و مساوات کے قوانین اور معاشرتی نظم و ضبط کے اصول بیان کیے گئے ہیں ۔ تفسیر ان احکام کی تشریح کرتی ہے تاکہ مسلمان صحیح طریقے سے سمجھ کر عمل کر سکے ۔ اگر کوئی شخص قرآن کو بغیر تفسیر کے سمجھنے کی کوشش کرے تو وہ بہت سے مقامات پر غلط فہمی کا شکار ہوسکتا ہے ۔ آج کے دور میں، جب بے شمار باطل نظریات، بے بنیاد تاویلات اور قرآن فہمی کے نام پر گمراہ کن خیالات پھیل چکے ہیں، مطالعۂ تفسیر کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ سوشل میڈیا اور مختلف فکری گروہ قرآن کو اپنی سوچ کے مطابق پیش کرتے ہیں، جس سے عام لوگ بھٹک جاتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن کو معتبر تفاسیر کی روشنی میں سمجھا جائے، جیسے تفسیر ابنِ کثیر، تفسیر طبری، تفسیر قرطبی، تفسیر جلالین، تدبرِ قرآن اور تفہیم القرآن، جو علم اور امانت دونوں میں مضبوط ہیں ۔ آخر میں خلاصہ یہ ہے کہ تفسیر کا مطالعہ قرآن کی فہم کا حقیقی دروازہ ہے ۔ یہ علم دل کو زندہ کرتا ہے، عقل کو روشنی بخشتا ہے، ایمان کو پختہ کرتا ہے، اور زندگی کو قرآنی رنگ میں ڈھالتا ہے ۔ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تلاوت کے ساتھ ساتھ تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ بھی کرے، تاکہ وہ قرآن کی ہدآیت کو سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کر سکے اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرے ۔ 


قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم کلام ہے جسے انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ۔  یہ کتابِ مقدس قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے راہِ زندگی ہے ۔ تاہم قرآن کریم کے گہرے مفہوم، حکمتوں اور عملی رہنمائی کو سمجھنے کے لیے محض ظاہری تلاوت کافی نہیں ہوتی، بلکہ ضروری ہے کہ انسان قرآن کی تفسیر کا مطالعہ کرے ۔ تفسیر وہ علم ہے جو قرآن کے مفاہیم، اسبابِ نزول، احکام، اصولِ زندگی اور اللہ و رسول ﷺ کے مطلوب طریقے کو واضح کرتا ہے ۔ اسی لیے امت کے ہر دور میں علماء نے تفسیر کو بنیادی اور ضروری علم قرار دیا ۔

قرآن پاک میں مطالعۂ تفسیر (فہمِ قرآن) کی اہمیت:

(1)قرآن سمجھ کر پڑھنے کا حکم:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔ (سورۃ النساء: 82)

یہ آیت بتا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ قرآن کو سمجھے اور اس پر غور کرے، اور یہ تدبر تفسیر کے بغیر ممکن نہیں ۔

(2) قرآنی احکامات کی تفصیل تفسیر سے معلوم ہوتی ہے:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ

ترجمۂ کنز الایمان:کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا ۔ (سورۃ النحل: 44)

یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ قرآن کی وضاحت نبی ﷺ نے فرمائی، اور یہی وضاحت آگے چل کر تفاسیر میں محفوظ ہوئی ۔

مطالعۂ تفسیر کی چند بنیادی وجوہات

1، قرآن کے اصل مقاصد اور احکام سمجھنے کے لیے ۔

2، غلط فہمیاں اور خودساختہ معانی سے بچنے کے لیے ۔

3، قرآن کے اسلوب، شانِ نزول اور حکمتوں کو جاننے کے لیے ۔

4، زندگی کے مسائل میں قرآن کو عملی رہنما بنانے کے لیے ۔

5، نیکی، عبادات، اخلاق اور معاملات کی اصل روح کو سمجھنے کے لیے ۔ مطالعۂ تفسیر ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ قرآن بغیر فہم کے وہ اثر نہیں دیتا جو اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہے ۔ تفسیر انسان کو قرآن کے قریب کرتی ہے، اس کے دل میں نور پیدا کرتی ہے، اور زندگی کے ہر گوشے میں روشنی بخشتی ہے ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کی معتبر تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ ضرور کرے ۔ 


پیارے پیارے اسلامی بھائیو! مطالعۂ تفسیر ہی وہ  راستہ ہے جو لوگوں کوقرآن کو سمجھاتا ہےصحیح عقیدہ دیتا ہے

شریعت کے احکام واضح کرتا ہےعمل کی راہیں کھولتا ہے تفسیر پڑھنے سے اللہ کی عظمت دل میں اترتی

ہےعقیدہ مضبوط ہوتا ہےآخرت کا یقین بڑھتا ہےانسان گناہوں سے بچنے لگتا ہےآئے تفسیر کی اہمیت کے بارے میں کچھ جانتے ہیں ۔

(1)علوم دین کی اصل:تفسیر کا علم دین کے علوم کی اصل ہے اور اسی کے ذریعے قرآن کے حقائق کھلتے ہیں ۔ قرآن عظیم کو بغیر تفسیر و تشریح کے سمجھنا عام لوگوں کے لیے ممکن نہیں ۔

( 2)اپنی رائے سے تفسیر نہ کرنا:قرآن کے معنی وہی معتبر ہیں جو علماے محققین نے تفسیر کے ذریعے بیان کیے، اپنی رائے سے معنی لینا غلطی اور گمراہی ہےقرآن کو صحیح معانی کے ساتھ سمجھنا فرضِ کفایہ ہے ۔

(3)تفسیر کا علم:بے تفسیر قرآن پڑھنا غلط فہمی کا سبب بن سکتا ہےتفسیر کا علم علما کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے اور امت کی ضرورت بھی ۔

(4) خاموش رہنا بہتر ہے:قرآن کریم کے معانی تب ہی کھلتے ہیں جب انسان اس کی تفسیر اور احادیثِ نبویہ کی روشنی لےقرآن کے معانی میں وہی شخص بات کرے جو لغت، نحو، حدیث اور اصولِ فقہ میں مضبوط ہو، ورنہ خاموش رہنا ہی بہتر ہے ۔

(5)گمراہی اختیار کرنا :قرآن کی آیات پر اپنی رائے سے گفتگو کرنا دین کے لیے نقصان دہ ہے اس کا علاج صرف تفسیر کے ذریعے صحیح علم حاصل کرنا ہےجس نے قرآن کو بغیر علمِ تفسیر کے سمجھنے کی کوشش کی، اس نے گمراہی اختیار کی ۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!بے تفسیر قرآن پڑھنا غلط فہمی کا سبب بن سکتا ہے ۔ تفسیر کا علم علما کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے اور امت کی ضرورت بھی اگر انسان قرآن کو اپنی مرضی سے سمجھنے لگے تو بہت سی گمراہیاں پیدا ہو جاتی ہیں اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ باقاعدگی سے تفسیرِ قرآن کا مطالعہ کرے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ 


قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری اور کامل ترین کتاب ہے، جو تمام انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور رشد و نجاة کا ذریعہ ہے ۔  مگر قرآن پاک کے صحیح فہم اور اس کے اصل پیغام تک رسائی اُس وقت تک ممکن نہیں ہوتی جب تک اس کی تفسیر کا مطالعہ نہ کیا جائے ۔ تفسیر وہ علم ہے جس کے ذریعے قرآن کے معنی، احکام، شانِ نزول، مقاصد، الفاظ کی وضاحت اور گہرائیوں کو سمجھا جاتا ہے ۔

(1) قرآن کے صحیح مفہوم تک رسائی:قرآن حکیم میں بے شمار حکمتیں اور معانی پوشیدہ ہیں ۔ محض ترجمہ پڑھ لینا کافی نہیں ہوتا، کیونکہ بہت سے احکام، مسائل اور آیات کے پس منظر کو جانے بغیر انسان غلط فہمی کا شکار ہوسکتا ہے ۔ تفسیر ان تمام پہلوؤں کو واضح کرتی ہے اور قاری تک اصل پیغام پہنچاتی ہے ۔

(2) دینی بصیرت اور فہمِ دین میں اضافہ:مطالعۂ تفسیر انسان کو گہرائی والا دینی شعور عطا کرتا ہے ۔ یہی علم ہمیں بتاتا ہے کہ کن احکام کا کیا مقصد ہے، کن آیات سے کون سے اصول اخذ کیے جاتے ہیں، اور قرآن زندگی کے ہر شعبے میں ہمیں کیا رہنمائی دیتا ہے ۔

(3) عقائد و اعمال کی درستگی:بہت سے لوگ قرآن کی غلط یا ناقص تشریح کی وجہ سے گمراہ ہو جاتے ہیں ۔

صحیح تفسیر کا مطالعہ عقائد کو مضبوط اور عبادات کو درست کرتا ہے ۔ زندگی کے ہر میدان اخلاق، معاملات، معاشرت، عبادات میں قرآن کی حقیقی رہنمائی تفسیر ہی سے ملتی ہے ۔

(4) عشقِ قرآن میں اضافہ:تفسیر کا مطالعہ انسان کو قرآن سے گہری محبت عطا کرتا ہے ۔ جب بندہ آیتوں کے پس منظر، ان کے نزول کے واقعات اور ان کے اندر چھپی حکمتوں کو جان لیتا ہے تو اس کا دل اللہ کے کلام سے اور زیادہ جڑ جاتا ہے ۔

(5) دعوت و تبلیغ کے لیے ضروری:ایک مبلغ یا داعی کے لیے تفسیر کا علم بنیادی ضرورت ہے ۔ دعوتِ دین دیتے ہوئے قرآن کی آیات پیش کرنا، ان کے معنی سمجھانا، لوگوں کے ذہنوں کی اصلاح اور مسائل کا حل قرآن کے ذریعے بتانایہ سب اسی وقت ممکن ہے جب تفسیر پڑھی ہوئی ہو ۔

(6)زمانے کے فتنوں کا مقابلہ:آج کل بے شمار باطل نظریات، غلط تاویلات اور گمراہ کن فرقے قرآن کی غلط تشریح کرتے ہیں ۔ ان فتنوں سے خود کو اور دوسروں کو بچانے کے لیے صحیح عقائد اور معتبر تفاسیر کا مطالعہ نہایت ضروری ہے ۔

(7) سلفِ صالحین کا طریقہ:صحابۂ کرام، تابعین اور ائمۂ تفسیر نے قرآن کے ہر لفظ، ہر حکم اور ہر معنی کو پڑھا، سمجھا اور پھر آگے امت تک پہنچایا ۔ ان کے طریقے پر چلتے ہوئے ہم بھی قرآن کی حقیقی دولت اسی وقت حاصل کر سکتے ہیں جب تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ کریں ۔

مطالعۂ تفسیر ایمان کی مضبوطی، زندگی کی رہنمائی، فہمِ دین، دعوتِ دین اور باطن کی اصلاح کے لیے نہایت ضروری ہے ۔ جو شخص قرآن سے قریب ہونا چاہے، اس کے نور سے دل روشن کرنا چاہے، اور اسے زندگی کے ہر شعبے میں رہنما بنانا چاہے، اسے لازماً تفسیرِ قرآن کا مطالعہ کرنا ہوگا ۔ 


قرآن کو سمجھنے اور اس کے احکام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے علمِ تفسیر کی ضرورت پیش آتی ہے ۔  تفسیر دراصل وہ علم ہے جو قرآن کے الفاظ، معانی، احکام، اسبابِ نزول اور مرادِ الٰہی کو واضح کرتا ہے ۔ اگرچہ قرآن مجید خود نور ہے، لیکن اس کے اسرار و معانی کو سمجھنے کے لیے مفسرینِ کرام نے اپنی زندگیاں صرف کیں ۔

تفسیر کی ضرورت و اہمیت: قرآن پاک کی تفسیر کا مطالعہ بہت ساری وجوہات کی بناء پر اہم اور ضروری ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں ۔

(1) قرآن کے فہم کے لیے:قرآن کا اصل مقصد ہدایت ہے، لیکن یہ ہدایت اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب انسان قرآن کے معانی اور مقاصد سے واقف ہو ۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا، اور عربی زبان اپنی فصاحت و بلاغت میں بے مثال ہے ۔ لہٰذا عام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ مفسرین کی مدد سے قرآن کے مفاہیم کو سمجھیں ۔

( 2) احکامِ شریعت کو سمجھنے کے لیے:قرآن میں عبادات، معاملات، اخلاق اور حدود کے احکام موجود ہیں ان کی وضاحت کے لیے تفسیر ضروری ہے تاکہ احکام کی صحیح نوعیت، موقع و محل اور حکمت سمجھ میں آسکے ۔

(3) تحریف و غلط فہمی سے بچاؤ کے لیے:بغیر تفسیر کے قرآن کو سمجھنے کی کوشش بعض اوقات غلط تعبیرات کا باعث بنتی ہے ۔ مفسرین نے قرآن کی تشریح قرآن و سنت کی روشنی میں کی تاکہ امت گمراہی سے محفوظ رہے ۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:جس نے قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے بات کی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے ۔ (سنن ترمذی/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله ﷺ/حدیث: 2950)

(4)زندگی میں عملی رہنمائی کے لیے:قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ عمل کا دستور ہے ۔ اس کے احکام کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے اس کی صحیح تشریح ضروری ہے ۔

علامہ محمود آلوسی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: تفسیر ہی وہ علم ہے جو لوگوں کے لیے مرادِ الٰہی پر عمل کا دروازہ کھولتا ہے ۔ ( روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی، جلد 1، صفحہ22)

قرآن کی معنوی حفاظت تفسیر کے ذریعے ہوئی ۔ مفسرین نے احادیث، اقوالِ صحابہ کرام علیھم الرضوان اور لغتِ عرب کے ذریعے قرآن کی مراد کو واضح کر کے اس کی تعلیمات کو بگاڑ سے محفوظ رکھا ۔

(5) دینی علوم کی بنیاد جاننے کے لیے:تمام دینی علوم (فقہ، عقیدہ، اخلاقیات) کی جڑ قرآن ہے، اور ان علوم کی تفہیم تفسیر کے ذریعے ممکن ہے ۔

(6) روحانی و اخلاقی تزکیہ کرنے کے لیے:تفسیر محض انسان کے ظاہر کو بہتر نہیں بناتا بلکہ باطن کو بھی بہتر بناتا ہے اور اسکی روحانی ترقی کا سبب بنتا ہے ۔ جب انسان قرآن کی تفسیر کے ذریعے مرادِ الٰہی کو سمجھتا ہے تو اس کا دل منور ہوتا ہے، ایمان پختہ ہوتا ہے، اور عمل میں اخلاص پیدا ہوتا ہے ۔

(7) امت کی فکری و علمی وحدت کے لیے:مفسرین کی محنت نے امت کو ایک منہج پر قائم رکھا ۔ اگر تفسیر نہ ہوتی تو قرآن کے معانی میں اختلاف اور انتشار بڑھ جاتا ۔ اہلِ سنت مفسرین نے قرآن کی تعبیر کو سنت اور اجماعِ امت کے اصولوں سے جوڑا، جس سے امت کی فکری وحدت قائم رہی ۔

علمِ تفسیر قرآن سمجھنے کی بنیاد ہے ۔ یہ وہ علم ہے جس نے امت کو قرآن کی صحیح مراد سمجھنے، اس کے احکام پر عمل کرنے، اور فکری گمراہیوں سے بچنے کی طاقت دی ۔ مفسرینِ اہلِ سنت نے اپنی زندگیاں قرآن کے اسرار کھولنے میں گزاری ہیں ۔ لہٰذا قرآن پڑھنے کے ساتھ ساتھ تفسیر کا مطالعہ بھی ضروری ہے تاکہ ہم قرآن کے علمی خزانوں کو حاصل کر سکیں اور قرآن ہمارے لیے بالفعل ہدایت بن جائے ۔ 


قارئین کرام! تفسیر کا لغوی معنی ہے "واضح کرنا"، "کھول کر بیان کرنا" ۔  اور اس کی تعریف یہ ہے کہ "وہ علم جس میں احوال قرآن سے بحث کی جائے یعنی نزول قرآن، الفاظ قرآن، معانی قرآن، ناسخ و منسوخ وغیرہ"، علّامہ جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ تفسیر کی غرض یہ ہے کہ"معانی قرآن کو سمجھنا اور اللہ کی رسّی کو تھام کر دنیا و آخرت میں کامیاب ہونا" (الاتقان فی علوم القرآن) ۔

علم تفسیر تمام علوم سے افضل ہے کیونکہ علم تفسیر کا موضوع قرآن پاک ہے ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) ترجمہ کنز العرفان:(یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔ (ص:29)

قرآن میں غور و فکر کا حکم اللہ ﷻ نے دیا ہے اور تفسیر اسی کا ذریعہ ہے ۔

تفسیر قرآن کی حاجت: جب سورہ بقرہ کی آیت 187 ﴿وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر ۔ نازل ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان فرمایا گیا ہے تو صحابی رسول حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کالی اور سفید ڈوری اپنے تکیے کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ یہ سفید ڈوری کالی سے جدا ہوجائےگی ۔ جب ڈوریاں جدا نہ ہوئیں تو وہ صبح رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کی صورتحال بیان کی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہاں سفید ڈورے سے دن کی سفیدی اور کالے دوڑے سے رات کی سیاہی مراد ہے ۔ (صحیح بُخاری، باب قَوْل اللَّهِ تَعَالَىوَكُلُوا وَاشْرَبُواالایۃ﴾، کتاب الصوم، حدیث 1916، صفحہ 461، مکتبہ دار ابن کثیر)

یقیناً صحابہ کرام فہم و فراست اور عقل و سمجھ میں ہم سے بڑھ کر تھے تو جب ان حضرات کو قرآن سمجھنے کے لیے تفسیر کی ضرورت ہے تو یقیناً ہم ان سے کئی گنا زیادہ تفسیر کے محتاج ہیں ۔

موجودہ دور میں تفسیر کی ضرورت:علماء حق کا طریقہ کار یہ تھا اور یہ ہے کہ ترجمہ قرآن اور تفسیر کے لیے تقریباً اکیس (21) علوم میں محنت کرتے تھے مثلاً نحو، بیان، بدیع، لغت، حدیث، فقہ، ادب وغیرہ ۔ مگر آج کے پر فتن دور میں کچھ لوگوں کا یہ طریقہ کار نہ رہا بلکہ جو سمجھ آیا اور جیسا سمجھ آیا اسی کے مطابق ترجمہ اور تفسیر کردی ۔ جس کی وجہ سے گمراہیت اور بدمذہبیت کا راستہ کھل گیا ۔ مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ جب پڑھیں کسی صحیح العقیدہ عالم دین کا ترجمہ پڑھیں جیسے کنز الایمان، کنز العرفان وغیرہ اور صرف ترجمہ پڑھ کر اپنی عقل سے قرآن سمجھنے کی کوشش نہ کرے بلکہ تفسیر قرآن کی طرف رجوع کرے اور اس سے افادہ حاصل کرے جیسے خزائن العرفان، صراط الجنان وغیرہ ۔

قرآن سمجھنے والے اور نہ سمجھنے والے:قرآن کریم کو سمجھنا بڑی عبادت اور سعادت ہے ۔ قرآن سمجھنے والے اور نہ سمجھنے والے کے درمیان فرق کرتے ہوئے حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے اُن کی مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت اُن کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھا ہے" ۔ (تاریخ حدیث و تفسیر، مکتبۃ المدینہ)

مطالعہ تفسیر کی فضیلت:ویسے تو قرآن پاک کی تلاوت کے بیشمار فضائل ہیں لیکن سمجھ کر قرآن پاک پڑھنے کی فضیلت میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کیے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے" ۔ (احیاء العلوم الدین)

ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ وہ اپنے رب کا کلام پڑھے اور اسے سمجھے ۔ پیارے اسلامی بھائیو! یہ نیت کر لیجئے کہ روزانہ کم از کم تین آیات تفسیر کے ساتھ ضرور پڑھے گے ۔ ان شاءاللہ عزوجل ۔ 


قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جس کو  اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل فرمایا ۔  یہ کتاب زندگی کے ہر پہلو کے لیے کامل ہدایت ہے ۔ لیکن اس ہدایت سے حقیقی فائدہ تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب قرآن کریم کو صحیح معانی، شانِ نزول، احکام اور حکمتوں کے ساتھ سمجھا جائے ۔ مطالعہ تفسیر کے بغیر قرآن کے حقیقی پیغام تک پہنچنا ممکن نہیں ہے ۔

‎‎قرآن پاک میں تفسیر کا حکم: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔

( اَلنِّسَآء :4، آیت 82)

‎‎ یہاں قرآن کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ قرآنِ حکیم میں غور نہیں کرتے اور اس کے عُلوم اور حکمتوں کو نہیں دیکھتے کہ اِس نے اپنی فصاحت سے تمام مخلوق کو اپنے مقابلے سے عاجز کردیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکروفریب کو کھول کر رکھ دیاہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں ۔ اگر قرآن میں غور کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ   کا کلام ہے اور اسے لانے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا رسول ہے ۔

یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ قرآن کا مقصد صرف تلاوت نہیں بلکہ سمجھ کر پڑھنا تفسیر کے بغیر ممکن نہیں ۔

اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے ۔ امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ احیاء العُلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب التفکر، بیان مجاری الفکر، ۵ / ۱۷۰)‎‎

‎‎صحابۂ کرام کی قرآن سمجھنے کی کوشش:حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں:"کُنَّا نَتَعَلَّمُ العَشْرَ آيَاتٍ، فَلَا نَتَجَاوَزُهَا حَتّى نَعْلَمَ مَا فِيهِنَّ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ"ترجمہ:ہم دس آیات سیکھتے، ان کو سمجھتے، ان پر عمل کرتے، پھر اگلی آیات کی طرف جاتے ۔ (مسند احمد، حدیث 22971)

مطالعۂ تفسیر کی کتب :تفسیر ابن کثیر،تفسیر طبری،‎‎تفسیر قرطبی،‎‎تفسیر جلالین،‎‎معارف القرآن،‎‎ضیاء القرآن

‎‎مطالعہ تفسیر مقصد :مطالعہ تفسیر قرآن کریم کی صحیح فہم کا بنیادی ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو سمجھنے کا حکم دیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اسے سیکھنے اور سکھانے کی ترغیب دی ہے ۔ آج کے دور میں جب فتنوں کا طوفان ہے، ہر شخص کو چاہیے کہ معتبر تفسیر کے ذریعے قرآن کو سمجھے، اس پر عمل کرے اور دوسروں تک صحیح پیغام پہنچائے ۔