پیارے پیارے اسلامی بھائیو! مطالعۂ تفسیر ہی وہ  راستہ ہے جو لوگوں کوقرآن کو سمجھاتا ہےصحیح عقیدہ دیتا ہے

شریعت کے احکام واضح کرتا ہےعمل کی راہیں کھولتا ہے تفسیر پڑھنے سے اللہ کی عظمت دل میں اترتی

ہےعقیدہ مضبوط ہوتا ہےآخرت کا یقین بڑھتا ہےانسان گناہوں سے بچنے لگتا ہےآئے تفسیر کی اہمیت کے بارے میں کچھ جانتے ہیں ۔

(1)علوم دین کی اصل:تفسیر کا علم دین کے علوم کی اصل ہے اور اسی کے ذریعے قرآن کے حقائق کھلتے ہیں ۔ قرآن عظیم کو بغیر تفسیر و تشریح کے سمجھنا عام لوگوں کے لیے ممکن نہیں ۔

( 2)اپنی رائے سے تفسیر نہ کرنا:قرآن کے معنی وہی معتبر ہیں جو علماے محققین نے تفسیر کے ذریعے بیان کیے، اپنی رائے سے معنی لینا غلطی اور گمراہی ہےقرآن کو صحیح معانی کے ساتھ سمجھنا فرضِ کفایہ ہے ۔

(3)تفسیر کا علم:بے تفسیر قرآن پڑھنا غلط فہمی کا سبب بن سکتا ہےتفسیر کا علم علما کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے اور امت کی ضرورت بھی ۔

(4) خاموش رہنا بہتر ہے:قرآن کریم کے معانی تب ہی کھلتے ہیں جب انسان اس کی تفسیر اور احادیثِ نبویہ کی روشنی لےقرآن کے معانی میں وہی شخص بات کرے جو لغت، نحو، حدیث اور اصولِ فقہ میں مضبوط ہو، ورنہ خاموش رہنا ہی بہتر ہے ۔

(5)گمراہی اختیار کرنا :قرآن کی آیات پر اپنی رائے سے گفتگو کرنا دین کے لیے نقصان دہ ہے اس کا علاج صرف تفسیر کے ذریعے صحیح علم حاصل کرنا ہےجس نے قرآن کو بغیر علمِ تفسیر کے سمجھنے کی کوشش کی، اس نے گمراہی اختیار کی ۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!بے تفسیر قرآن پڑھنا غلط فہمی کا سبب بن سکتا ہے ۔ تفسیر کا علم علما کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے اور امت کی ضرورت بھی اگر انسان قرآن کو اپنی مرضی سے سمجھنے لگے تو بہت سی گمراہیاں پیدا ہو جاتی ہیں اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ باقاعدگی سے تفسیرِ قرآن کا مطالعہ کرے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔