محمد اسماعیل (درجہ خامسہ ماڈل جامعۃ المدینہ نیو سول
لائن فیصل آباد، پاکستان)
قارئین
کرام! تفسیر کا لغوی معنی ہے "واضح کرنا"، "کھول کر بیان
کرنا" ۔ اور اس کی تعریف یہ ہے کہ
"وہ علم جس میں احوال قرآن سے بحث کی جائے یعنی نزول قرآن، الفاظ قرآن، معانی
قرآن، ناسخ و منسوخ وغیرہ"، علّامہ جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ
لکھتے ہیں کہ تفسیر کی غرض یہ ہے کہ"معانی قرآن کو سمجھنا اور اللہ کی رسّی
کو تھام کر دنیا و آخرت میں کامیاب ہونا" (الاتقان فی علوم القرآن) ۔
علم تفسیر
تمام علوم سے افضل ہے کیونکہ علم تفسیر کا موضوع قرآن پاک ہے ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا
اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) ترجمہ کنز العرفان:(یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف
نازل کی ہے تا کہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔ (ص:29)
قرآن میں غور و فکر کا حکم اللہ ﷻ
نے دیا ہے اور تفسیر اسی کا ذریعہ ہے ۔
تفسیر قرآن
کی حاجت: جب سورہ بقرہ کی آیت 187 ﴿وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ
مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور
کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے
ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر ۔ نازل ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان فرمایا
گیا ہے تو صحابی رسول حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کالی اور سفید ڈوری اپنے
تکیے کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ یہ سفید ڈوری کالی سے جدا ہوجائےگی ۔ جب ڈوریاں جدا نہ ہوئیں تو وہ صبح رسول اللہ ﷺ
کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کی صورتحال بیان کی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہاں
سفید ڈورے سے دن کی سفیدی اور کالے دوڑے سے رات کی سیاہی مراد ہے ۔ (صحیح بُخاری، باب قَوْل اللَّهِ
تَعَالَىوَكُلُوا وَاشْرَبُواالایۃ﴾، کتاب الصوم، حدیث 1916، صفحہ 461، مکتبہ دار
ابن کثیر)
یقیناً
صحابہ کرام فہم و فراست اور عقل و سمجھ میں ہم سے بڑھ کر تھے تو جب ان حضرات کو
قرآن سمجھنے کے لیے تفسیر کی ضرورت ہے تو یقیناً ہم ان سے کئی گنا زیادہ تفسیر کے
محتاج ہیں ۔
موجودہ دور
میں تفسیر کی ضرورت:علماء حق کا طریقہ کار یہ تھا اور یہ ہے کہ ترجمہ قرآن اور تفسیر کے لیے
تقریباً اکیس (21) علوم میں محنت کرتے تھے مثلاً نحو، بیان، بدیع، لغت، حدیث، فقہ،
ادب وغیرہ ۔ مگر آج کے پر فتن دور میں کچھ
لوگوں کا یہ طریقہ کار نہ رہا بلکہ جو سمجھ آیا اور جیسا سمجھ آیا اسی کے مطابق
ترجمہ اور تفسیر کردی ۔ جس کی وجہ سے
گمراہیت اور بدمذہبیت کا راستہ کھل گیا ۔ مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ جب پڑھیں کسی صحیح العقیدہ عالم دین کا ترجمہ
پڑھیں جیسے کنز الایمان، کنز العرفان وغیرہ اور صرف ترجمہ پڑھ کر اپنی عقل سے قرآن
سمجھنے کی کوشش نہ کرے بلکہ تفسیر قرآن کی طرف رجوع کرے اور اس سے افادہ حاصل کرے
جیسے خزائن العرفان، صراط الجنان وغیرہ ۔
قرآن
سمجھنے والے اور نہ سمجھنے والے:قرآن کریم کو سمجھنا بڑی عبادت اور سعادت ہے
۔ قرآن سمجھنے والے اور نہ سمجھنے والے کے
درمیان فرق کرتے ہوئے حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جو
لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے اُن کی مثال اُن لوگوں کی
طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت اُن کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس
کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس
خط میں کیا لکھا ہے؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی
مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی
سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھا ہے"
۔ (تاریخ حدیث و تفسیر، مکتبۃ المدینہ)
مطالعہ تفسیر
کی فضیلت:ویسے تو قرآن پاک کی تلاوت کے بیشمار فضائل ہیں لیکن سمجھ کر قرآن پاک
پڑھنے کی فضیلت میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ایک آیت سمجھ کر
اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کیے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے" ۔
(احیاء العلوم الدین)
ایک مسلمان
کے لیے اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ وہ اپنے رب کا کلام پڑھے اور اسے سمجھے ۔ پیارے اسلامی بھائیو! یہ نیت کر لیجئے کہ روزانہ
کم از کم تین آیات تفسیر کے ساتھ ضرور پڑھے گے ۔ ان شاءاللہ عزوجل ۔
Dawateislami