واقعہ
کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟ از بنت طاہر حسین،جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
واقعہ کربلا
اسلامی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے جس کے اندر کئی درس پنہاں ہیں۔ یہ محض ایک حق و
باطل کا معرکہ ہی نہیں بلکہ انسانیت لیے
ایک بہت بڑی مثال ہے کہ حق اور انصاف پر ثابت قدمی کس حد تک اختیار کی جاسکتی ہے
کربلا
درس زندگی ہے: یقیناً
کربلا نہایت غمناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، مگر یاد رکھئے! کربلا صرف ایک
سانحہ نہیں، سانحے دنیا میں بہت ہوئے ہیں
مگر آج لوگوں کے دل و دماغ میں ان کا خیال تک موجود نہیں، اگر کربلا بھی صرف ایک سانحہ ہوتا تو اتنا زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود
اسے ذہنوں میں یوں تازہ نہ رکھا جاتا، لہٰذا کربلا صرف ایک سانحہ نہیں، یہ درس زندگی کی پوری ایک کتاب بھی ہے،
واقعۂ کربلا ہمیں کامیابی کے راستے بھی
بتاتا ہے، ترقی کے زینے بھی بتاتا ہے، زندگی کے اصول بھی سکھاتا ہے اور عظمت و شان
سے جینے کا درس بھی دیتا ہے۔
واقعہ کربلا
سے ہم نے کیا سیکھا؟ اس کے متعلق چند نکات پیش کئے گئے جاتے:
یزیدی
کردار سے بچیں: امام
حسین رضی اللہ عنہ نے اتنی بڑی قربانی
کیوں پیش کی؟ یقیناً آپ کو تاج و تخت و حکومت سے کوئی سروکار نہیں تھا، آپ تو
جنّتی نوجوانوں کے سردار ہیں، آپ کو دنیا کی عارضی حکومت کی حرص بھلا کیسے ہو سکتی
تھی؟ مگر امام حسین رضی اللہ عنہ آخر یزید کی بیعت کیوں نہیں کرتے تھے؟ اس کی
وجہ یہ ہے کہ آپ کو یزید کی ذات سے اختلاف
نہیں تھا، آپ کو یزید کے کردار سے اختلاف تھا۔ اگر یزید کا کردار ستھرا ہوتا
اور وہ قرآن و سنّت کا پیروکار ہوتا تو
امام حسین رضی اللہ عنہ ہر گز اس کی بیعت
سے انکار نہ فرماتے مگر اس بدبخت کاکردار اچھا نہیں تھا، اب ذرا غور فرمائیے! جب
امام حسین رضی اللہ عنہ یزید کے برے کردار
سے خوش نہ ہوئے تو اگر وہی کردار ہمارا بھی ہو، جو عادتیں یزید کی تھیں، ویسی ہی
عادتیں ہماری بھی ہوں، جیسا گندا اخلاق یزید کا تھا، ویسا ہی ہمارا بھی ہو تو کیا
امام حسین رضی اللہ عنہ ہم سے خوش ہو
جائیں گے؟
صبر
کی اعلی مثال: واقعہ
کربلا کا سب سے اہم درس صبر ہے کہ آلِ رسول نے دین اسلام کی سربلندی کے لیے صبر کی
عظیم مثال پیش کی جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ یہاں ہمیں غور کرنا چاہیے کہ
ہم زندگی میں پیش آنے والے معاملات میں کس حد تک صبر سے کام لیتے ہیں اور بالخصوص
اسلام کی سربلندی کے راستے میں آنے والی آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں یا ہمت ہار جاتے
ہیں، یاد رہے کہ دین حق کی سربلندی کے لئے آزمائشوں پر صبر کا دامن نہ چھوڑنا ہی
سنت حسینی ہے۔
امیر اہل سنت
دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:
پیارے
مبلغ ! معمولی سی مشکل پر گھبراتا ہے
دیکھ حسین نے دین کی خاطر سارا گھر قربان کیا
حق
و باطل میں فرق: واقعہ
کربلا سے حق و باطل میں فرق واضح ہو گیا ہے کہ باطل مٹنے کے لیے ہی ہے اگرچہ
دنیاوی قوت زیادہ رکھتا ہو مگر حقیقی
کامیابی حق پسند انسان کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ
وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(۸۱) (پ
15، بنی اسرائیل: 81) ترجمہ: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو
مٹنا ہی تھا۔
یہ واقعہ
سکھاتا ہے کہ حق کی راہ میں جان دینی بھی پڑ جائے اس کے باوجود باطل کے سامنے
جھکنا نہیں ہے۔
حیا
کا درس: اسلام
میں پردے اور حیا کی کس قدر اہمیت ہے یہ بھی ہمیں واقعہ کربلا میں دیکھنے کو ملتی
ہے کہ آلِ رسول کی شہزادیوں نے نہایت ظلم و ستم کے باوجود بھی حیا اور پردے کو نہ
چھوڑا اور ان کٹھن حالات میں بھی صبر کے دامن کو تھامے رکھا
تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا پردہ اور
حیا کرتی ہیں جیسا کربلا میں دیکھنی کو ملی؟
حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: بے شک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک اٹھ جاتا ہے تو
دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے۔ (مستدرک، 1/176،حدیث:66)
پیاری اسلامی
بہنو! غور کیجیے کہ اسلام میں شرم و حیا کی کتنی اہمیت ہے! آج اسلام کے دشمنوں کی
یہی سازش ہے کہ مسلمانوں سےحیا کی چادر کھینچ لی جائے کہ جب حیا ہی نہ رہے گی تو
ایمان خود ہی رخصت ہو جائے گا یعنی جس میں جتنا ایمان زیادہ ہوگا اتنی ہی وہ شرم و
حیا والی ہوگی جبکہ جس کا ایمان جتنا کمزور ہوگا شرم و حیا بھی اس میں اتنی ہی
کمزور ہوگی۔
لہذا ہمیں
چاہیے کہ ہم واقعہ کربلا کی یاد محض رسمی طور پر نہ منائیں بلکہ جو سبق ہمیں کربلا
سے سیکھنے کو ملے انہیں اپنی زندگی میں عملی طور پر بھی نافذ کریں۔
Dawateislami