واقعہ کربلا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے تاریخ اسلام کو ایک نئی سمت دی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ ہے، بلکہ یہ ایک ایمان افروز واقعہ ہے جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے: وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ(۱۵۴) (پ 2، البقرۃ: 154) ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کے راستے میں شہید کیے جاتے ہیں، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں اور اللہ کے ہاں ان کا مقام بہت بلند ہوتا ہے۔

حضورﷺ نے بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی پیشین گوئی کی تھی۔ ایک حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ (ترمذی، 5/429، حدیث: 3800)

واقعہ کربلا سے ہم نے کچھ سبق سیکھے ہیں:

1۔ حق پرستی: امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے خلاف حق کے لیے لڑا اور اپنی جان قربان کر دی۔

2۔ صبر و استقامت: امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا کے میدان میں بہت صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔

3۔ قربانی: امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان اور اپنے اہل خانہ کی قربانی دی۔

4۔ ایمان کی حفاظت: امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔

الغرض امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت نے مسلمانوں کو ایک نئی جہت دی ہے۔ انہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنی جان قربان کر دی۔ ہم کو بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔

واقعہ کربلا سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔

اللہ ہمیں واقع کربلا سے سبق سیکھنے کی توفیق دے۔ آمین