قرآن مجید ربّ العالمین کا وہ عظیم ترین کلام ہے جو انسانیت کی ہدایت، اصلاح اور فلاح کے لیے نازل ہوا ۔  یہ کتاب صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے، غور کرنے اور عمل کرنے کے لیے اتاری گئی ہے ۔ چنانچہ قرآن کے اصل پیغام تک پہنچنے کے لیے مطالعۂ تفسیر بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ تفسیر وہ علم ہے جو قرآن کے معانی، احکام، مقاصد اور حکمتوں کو واضح کرتا ہے، اور یہی وضاحت انسان کی فکری اور عملی زندگی کو سنوارتی ہے ۔ قرآن کا ہر لفظ اپنے اندر ایک وسیع جہان رکھتا ہے ۔ اس کی آیات کبھی عقائد بیان کرتی ہیں، کبھی اخلاق، کبھی احکامِ شریعت، کبھی حکمتیں، کبھی گزشتہ امتوں کے واقعات، اور کبھی آخرت کا تذکرہ ۔ ان تمام پہلوؤں کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے محض ترجمہ کافی نہیں ہوتا ۔ تفسیر قاری کے سامنے قرآن کے اصل معانی کھولتی ہے اور اسے یہ بتاتی ہے کہ کون سی آیت کس موقع پر نازل ہوئی، اس کا پس منظر کیا ہے اور اس سے کیا عملی رہنمائی ملتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی وضاحت کا کام سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کو سپرد کیا، اور اسی ذمہ داری کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے:

لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْترجمہ کنز الایمان: کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا ۔

یہ آیت خود بتا رہی ہے کہ قرآن کی صحیح تفہیم بغیر تفسیر کے ممکن نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور تشریحات کے بغیر قرآن کے کئی پہلو انسان کی سمجھ سے باہر رہ جاتے ہیں ۔ تفسیر کے مطالعے سے ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے ۔ جب انسان قرآن کے گہرے معانی، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جلوے، انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد اور آخرت کی حقیقت پر غور کرتا ہے تو اس کا دل یقین و خشیت سے بھر جاتا ہے ۔ تفسیر قرآن کے ایسے لطیف نکات کھولتی ہے جو محض ترجمہ پڑھنے سے ظاہر نہیں ہوتے، اور یہی نکات انسان کے اندر ایک روحانی بیداری پیدا کرتے ہیں ۔ اسی طرح تفسیر انسان کو عملی زندگی کے مسائل میں قرآن کی رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ قرآن میں احکامِ حلال و حرام، معاملات، عبادات، عائلی زندگی، معاشی اصول، عدل و مساوات کے قوانین اور معاشرتی نظم و ضبط کے اصول بیان کیے گئے ہیں ۔ تفسیر ان احکام کی تشریح کرتی ہے تاکہ مسلمان صحیح طریقے سے سمجھ کر عمل کر سکے ۔ اگر کوئی شخص قرآن کو بغیر تفسیر کے سمجھنے کی کوشش کرے تو وہ بہت سے مقامات پر غلط فہمی کا شکار ہوسکتا ہے ۔ آج کے دور میں، جب بے شمار باطل نظریات، بے بنیاد تاویلات اور قرآن فہمی کے نام پر گمراہ کن خیالات پھیل چکے ہیں، مطالعۂ تفسیر کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ سوشل میڈیا اور مختلف فکری گروہ قرآن کو اپنی سوچ کے مطابق پیش کرتے ہیں، جس سے عام لوگ بھٹک جاتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن کو معتبر تفاسیر کی روشنی میں سمجھا جائے، جیسے تفسیر ابنِ کثیر، تفسیر طبری، تفسیر قرطبی، تفسیر جلالین، تدبرِ قرآن اور تفہیم القرآن، جو علم اور امانت دونوں میں مضبوط ہیں ۔ آخر میں خلاصہ یہ ہے کہ تفسیر کا مطالعہ قرآن کی فہم کا حقیقی دروازہ ہے ۔ یہ علم دل کو زندہ کرتا ہے، عقل کو روشنی بخشتا ہے، ایمان کو پختہ کرتا ہے، اور زندگی کو قرآنی رنگ میں ڈھالتا ہے ۔ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تلاوت کے ساتھ ساتھ تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ بھی کرے، تاکہ وہ قرآن کی ہدآیت کو سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کر سکے اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرے ۔